امریکی محکمہ انصاف نے جمعے کو جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق تحقیقاتی فائلوں سے مزید بہت سی دستاویزات جاری کرتے ہوئے اس قانون کے تحت انکشافات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا ہے، جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ حکومت کروڑ پتی فنانسر کی جانب سے کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور ڈونلڈ ٹرمپ اور بل کلنٹن جیسے امیر اور طاقتور لوگوں کے ساتھ ان کے میل جول کے بارے میں کیا جانتی تھی؟
ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے کہا کہ محکمہ انصاف 30 لاکھ سے زیادہ صفحات کے ساتھ ساتھ دو ہزار سے زیادہ ویڈیوز اور ایک لاکھ 80 ہزار تصاویر جاری کر رہا ہے۔ محکمے کی ویب سائٹ پر پوسٹ کی گئی فائلوں میں دستاویزات کے ان لاکھوں صفحات میں سے کچھ شامل ہیں، جن کے بارے میں حکام کا کہنا تھا کہ انہیں دسمبر میں ابتدائی اجرا میں روک لیا گیا تھا۔
ان میں ایپسٹین کے کچھ مشہور ساتھیوں سے متعلق دستاویزات شامل تھیں، جن میں اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر، جو پہلے برطانیہ کے شہزادہ اینڈریو کے نام سے جانے جاتے تھے اور ایپسٹین اور ایلون مسک اور سیاسی میدان کے دیگر نمایاں افراد کے درمیان ای میل خط و کتابت بھی شامل ہے۔
یہ دستاویزات ’ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ‘ کے تحت جاری کی گئی ہیں۔ یہ وہ قانون ہے جو مہینوں کے عوامی اور سیاسی دباؤ کے بعد نافذ کیا گیا تھا اور جس کے تحت حکومت کو جیفری ایپسٹین اور ان کی رازدان اور سابقہ گرل فرینڈ، گلین میکسویل کے بارے میں اپنی فائلیں کھولنا لازمی ہے۔
قانون سازوں نے اس وقت اس حوالے سے شکایت کی تھی جب محکمہ انصاف نے گذشتہ ماہ صرف محدود ریکارڈ جاری کیا، لیکن حکام نے کہا کہ دریافت ہونے والی اضافی دستاویزات کا جائزہ لینے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مزید وقت درکار تھا کہ متاثرین کے بارے میں کوئی حساس معلومات جاری نہ ہوں۔
جمعے کو کیے گئے انکشافات اس کہانی کے بارے میں اب تک کا سب سے بڑا دستاویزات کا ذخیرہ ہیں، جس سے جان چھڑانے میں ٹرمپ انتظامیہ کو صدر کے ایپسٹین کے ساتھ سابقہ تعلقات کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
جیفری ایپسٹین کے خلاف مجرمانہ تحقیقات نے طویل عرصے سے آن لائن سراغ رساںوں، سازشی نظریات رکھنے والوں اور دیگر افراد کو متحرک رکھا ہے جنہیں حکومتی پردہ پوشی کا شبہ ہے اور جنہوں نے مکمل احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ ایسے مطالبات ہیں جن کے بارے میں بلانچ نے تسلیم کیا کہ شاید حالیہ ریلیز سے پورے نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا: ’معلومات کی ایک بھوک یا پیاس ہے، جو مجھے نہیں لگتا کہ ان دستاویزات کے جائزے سے پوری ہو گی۔‘
کانگریس کی طرف سے تمام فائلیں جاری کرنے کے لیے مقرر کردہ 19 دسمبر کی ڈیڈ لائن گزر جانے کے بعد، محکمہ انصاف نے کہا کہ اس نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے لیے سینکڑوں وکلا کو کام سونپا ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ کن حصوں کو ہٹانے یا سیاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس نے ٹرمپ کو ممکنہ شرمندگی سے بچانے کی کسی بھی کوشش کی تردید کی، جو کہتے ہیں کہ انہوں نے ابتدائی دوستی کے بعد برسوں پہلے ایپسٹین سے تعلقات ختم کر لیے تھے۔
ایپسٹین کے مشہور دوست
دستاویزات کی تازہ ترین کھیپ میں ایپسٹین کے کچھ دوستوں کے ساتھ یا ان کے بارے میں خط و کتابت شامل ہے۔
ریکارڈ میں ٹرمپ کے ہزاروں حوالے موجود ہیں، جن میں وہ ای میلز بھی شامل ہیں جن میں ایپسٹین اور دیگر نے ان کے بارے میں خبروں کے مضامین شیئر کیے۔ ان کی پالیسیوں یا سیاست پر تبصرہ کیا، یا ان کے اور ان کے خاندان کے بارے میں گپ شپ کی۔
اس میں گذشتہ اگست میں بنائی گئی ایک سپریڈ شیٹ بھی شامل تھی جس میں ایف بی آئی کے نیشنل تھریٹ آپریشن سینٹر یا پراسیکیوٹرز کی طرف سے قائم کی گئی ہاٹ لائن پر ان لوگوں کی کالز کا خلاصہ کیا گیا تھا، جو بغیر کسی ثبوت کے ٹرمپ کی ’غلط کاریوں‘ کے بارے میں کچھ علم رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
دستاویزات میں ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کا نام کم از کم کئی سو بار آتا ہے، کبھی اخباری تراشوں میں، کبھی ایپسٹین کی نجی ای میل خط و کتابت میں اور کبھی ایپسٹین کی طرف سے ترتیب دیے گئے عشائیوں کی مہمانوں کی فہرستوں میں۔ کچھ ریکارڈز میں نیویارک میں پراسیکیوٹرز کی اس کوشش کو دستاویزی شکل دی گئی ہے کہ سابق شہزادے کو ایپسٹین سیکس ٹریفکنگ تحقیقات کے حصے کے طور پر انٹرویو دینے پر راضی کیا جائے۔
ریکارڈ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ٹیسلا کے ارب پتی بانی مسک نے کم از کم دو مواقع پر ایپسٹین سے رابطہ کیا تاکہ کیریبین جزیرے کے دوروں کی منصوبہ بندی کی جا سکے جہاں مبینہ طور پر جنسی استحصال کے بہت سے الزامات پیش آئے تھے۔
2012 کی ایک گفتگو میں، ایپسٹین نے پوچھا کہ ایلون مسک کتنے لوگوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اس جزیرے پر لے جانا پسند کریں گے، جس کے وہ مالک تھے۔
مسک نے اپنی اس وقت کی پارٹنر، اداکارہ ٹلولا رائیلی کا حوالہ دیتے ہوئے جواب دیا، ’شاید صرف ٹلولا اور میں۔ ہمارے جزیرے پر سب سے زبردست پارٹی کس دن یا رات کو ہو گی؟‘
ایلون مسک نے 2013 میں کیریبین کے دورے سے پہلے ایپسٹین کو دوبارہ پیغام بھیجا۔ انہوں نے لکھا: ’میں چھٹیوں کے دوران بی وی آئی سینٹ بارٹس کے علاقے میں رہوں گا۔ کیا ملنے کا کوئی اچھا وقت ہے؟‘ ایپسٹین نے نئے سال کی چھٹی کے بعد کی دعوت دی۔
یہ فوری طور پر واضح نہیں ہے کہ آیا جزیرے کے دورے ہوئے یا نہیں۔ مسک کی کمپنیوں، ٹیسلا اور ایکس کے ترجمانوں نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست کے لیے کی گئی ای میلز کا جواب نہیں دیا۔
ایلون مسک نے کہا ہے کہ انہوں نے بارہا ایپسٹین کی پیشکشوں کو ٹھکرایا۔
انہوں نے 2025 میں ایکس پر پوسٹ کیا: ’ایپسٹین نے مجھے اپنے جزیرے پر لے جانے کی کوشش کی اور میں نے انکار کر دیا،‘ جب ہاؤس ڈیموکریٹس نے ایپسٹین کا ایک کیلنڈر جاری کیا، جس میں مسک کے ممکنہ دورے کا ذکر تھا۔
ای میلز کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ ایپسٹین نے نیویارک جائنٹس کے شریک مالک سٹیو ٹش کو خواتین سے ملوانے کی کوشش بھی کی۔ ایک گفتگو میں، ٹش نے ایپسٹین کو بتایا کہ انہوں نے ایپسٹین کی اسسٹنٹ کی ایک سہیلی کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا۔ انہوں نے اسے ’بہت پیاری لڑکی‘ قرار دیا اور پوچھا کہ کیا ایپسٹین اس کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔
ایپسٹین نے کہا کہ ’نہیں، لیکن میں پوچھوں گا۔‘ اس سے پہلے کہ یہ پوچھیں کہ کیا ٹش نے کسی اور خاتون سے رابطہ کیا ہے، جس کے جسمانی خدوخال کو انہوں نے بیہودہ انداز میں بیان کیا۔
ٹش نے ایک بیان میں کہا کہ ان کا ایپسٹین کے ساتھ ’مختصر تعلق‘ تھا، جہاں انہوں نے بالغ خواتین اور دیگر موضوعات پر ای میلز کیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ’کبھی ان کے جزیرے پر نہیں گئے‘ اور انہیں اس تعلق پر ’گہرا افسوس‘ ہے۔
دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ قدامت پسند کارکن سٹیو بینن جنہوں نے صدر کی پہلی مدت کے شروع میں ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس کے سٹریٹجسٹ کے طور پر خدمات انجام دیں، نے جیفری ایپسٹین کے ساتھ سیاست پر گپ شپ کی۔ ناشتے، دوپہر یا رات کے کھانے پر ان کے ساتھ ملاقاتوں پر تبادلہ خیال کیا اور 29 مارچ 2019 کو ایپسٹین سے پوچھا کہ کیا وہ انہیں روم سے لے جانے کے لیے اپنا طیارہ فراہم کر سکتے ہیں؟
ایپسٹین نے انہیں بتایا کہ ان کے پائلٹ اور عملہ اس پرواز کا انتظام کرنے کے لیے ’اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں‘ لیکن اگر بینن اس کی بجائے چارٹر فلائٹ تلاش کر لیں تو، ’مجھے ادائیگی کرنے میں خوشی ہو گی۔‘ بظاہر اس وقت فرانس میں موجود، ایپسٹین نے ایک ٹیکسٹ میسج بھیجا جس میں کہا گیا: ’میرے آدمی آپ کو لے سکتے ہیں۔ رات کے کھانے پر آئیں۔‘ گفتگو سے یہ ظاہر نہیں ہوا کہ آگے کیا ہوا۔
ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ دسمبر 2012 میں، ایپسٹین نے ہاورڈ لٹنک، جو اب ٹرمپ کے وزیر تجارت ہیں، کو دوپہر کے کھانے کے لیے اپنے نجی جزیرے پر مدعو کیا۔ لٹنک کی اہلیہ نے دعوت قبول کر لی اور کہا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ایک کشتی پر پہنچیں گے۔ ایپسٹین کے ساتھ شیئر کیے گئے شیڈول کے مطابق، 2011 میں ایک اور موقعے پر دونوں افراد نے شراب پی۔
لٹنک نے کہا ہے کہ انہوں نے بہت پہلے ایپسٹین سے تعلقات ختم کر لیے تھے۔ محکمہ کامرس کے ترجمان نے کہا کہ لٹنک کی ’اپنی اہلیہ کی موجودگی میں مسٹر ایپسٹین کے ساتھ محدود بات چیت تھی اور ان پر کبھی کسی غلط کام کا الزام نہیں لگایا گیا۔‘
ریکارڈز میں سامنے آنے والا ایک اور ایپسٹین رابطہ اوباما وائٹ ہاؤس کی سابق جنرل کونسل کیتھی روملر ہیں۔ کئی رابطوں میں سے ایک میں، ایپسٹین نے روملر کو ای میل کی کہ وہ مشورہ دیں کہ ڈیموکریٹس کو ٹرمپ کو مافیا جیسی شخصیت کے طور پر پیش کرنا بند کر دینا چاہیے، حالاں کہ انہوں نے خود صدر کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں ’پاگل‘ کہا۔
گولڈمین کے ترجمان، جہاں روملر جنرل کونسل اور چیف لیگل آفیسر ہیں، نے ایک بیان میں کہا کہ روملر کا ’جیفری ایپسٹین کے ساتھ پیشہ ورانہ تعلق تھا جب وہ پرائیویٹ پریکٹس میں وکیل تھیں‘ اور انہیں ’ان کو جاننے پر افسوس ہے۔‘
پہلے جاری فائلوں پر پیش رفت
گذشتہ ماہ جاری کیے گئے ہزاروں صفحات میں پہلے سے جاری کردہ فلائٹ لاگز شامل تھے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ نے 1990 کی دہائی میں تعلقات خراب ہونے سے پہلے ایپسٹین کے نجی جیٹ میں سفر کیا تھا جبکہ اس میں کلنٹن کی کئی تصاویر بھی شامل تھیں۔
ایپسٹین کی متاثرین جو اپنی کہانیوں کے ساتھ منظر عام پر آئے، میں سے کسی نے بھی عوامی طور پر رپبلکن ٹرمپ، اور نہ ہی ڈیموکریٹ کلنٹن پر کسی غلط کام کا الزام لگایا ہے۔ دونوں نے کہا ہے کہ انہیں اس بات کا کوئی علم نہیں تھا کہ وہ کم عمر لڑکیوں کا استحصال کر رہے تھے۔
ایپسٹین نے سیکس ٹریفکنگ کے وفاقی الزامات میں فرد جرم عائد ہونے کے ایک ماہ بعد، اگست 2019 میں نیویارک کی جیل کے ایک سیل میں خودکشی کر لی تھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
2008 اور 2009 میں، ایپسٹین نے 18 سال سے کم عمر کسی فرد کو جسم فروشی کی ترغیب دینے کا جرم قبول کرنے کے بعد فلوریڈا میں جیل کاٹی۔ اس وقت، تفتیش کاروں نے ایسے شواہد اکٹھے کیے تھے کہ ایپسٹین نے پام بیچ میں واقع اپنے گھر پر کم عمر لڑکیوں کو ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔ امریکی اٹارنی کے دفتر نے معمولی ریاستی الزامات میں جرم قبول کرنے کے بدلے ان کے خلاف مقدمہ نہ چلانے پر اتفاق کیا۔
جمعے کو جاری ہونے والے اس دور کے مسودہ فرد جرم سے پتہ چلتا ہے کہ پراسیکیوٹرز نے نہ صرف ایپسٹین بلکہ تین دیگر افراد کے خلاف وفاقی الزامات پر غور کیا تھا، جو ان کے ذاتی اسسٹنٹ تھے اور جن پر ایپسٹین کے ساتھ بے ہودہ حرکات کرنے کے لیے کم عمر لڑکیوں کو بھرتی کرنے کی سازش میں حصہ لینے کا شبہ تھا۔
2021 میں، نیویارک میں ایک وفاقی جیوری نے برطانوی سماجی شخصیت گلین میکسویل کو ان کی کچھ کم عمر متاثرین کو بھرتی کرنے میں مدد کرنے پر سیکس ٹریفکنگ کا مجرم قرار دیا۔ وہ 20 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔
امریکی پراسیکیوٹرز نے ایپسٹین کی جانب سے لڑکیوں کے استحصال کے سلسلے میں کبھی کسی اور پر الزام نہیں لگایا۔ ایک متاثرہ خاتون، ورجینیا رابرٹس جوفرے نے مقدمات میں ان پر الزام لگایا کہ انہوں نے 17 اور 18 سال کی عمر میں متعدد سیاست دانوں، کاروباری شخصیات، ماہرین تعلیم اور دیگر کے ساتھ ان کے جنسی تعلقات کا انتظام کیا۔ ان سب نے ان کے الزامات کی تردید کی۔
الزام کا سامنا کرنے والوں میں برطانیہ کے شہزادہ اینڈریو بھی شامل تھے، جن سے سکینڈل کے دوران ان کے شاہی القابات واپس لے لیے گئے تھے۔ اینڈریو نے جوفرے کے ساتھ جنسی تعلقات کی تردید کی لیکن ان کے مقدمے کو رقم کے عوض نمٹا دیا گیا۔
جوفرے کی موت گذشتہ سال 41 سال کی عمر میں خودکشی سے ہوئی۔