’پشاور زلمی کو الوداع‘ کے نعروں کے ساتھ سوشل میڈیا پر شدید ردعمل اس وقت سامنے آیا جب فرنچائز نے افغان وکٹ کیپر بلے باز رحمان اللہ گرباز کو سکواڈ میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔
اس فیصلے کے بعد شائقین کرکٹ کی ایک بڑی تعداد نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف ٹیم پر تنقید کی بلکہ گرباز کے ماضی کے مبینہ پاکستان مخالف بیانات اور رویے کو بنیاد بنا کر پشاور زلمی کی حمایت چھوڑنے کا اعلان بھی کیا۔
یہ تنقید اس وقت شروع ہوئی جب پشاور زلمی کی جانب سے براہ راست معاہدے کی تصدیق سامنے آئی۔
فرنچائز کے چیئرمین جاوید آفریدی کے اعلان کے بعد جہاں ٹیم انتظامیہ نے اس فیصلے کو تقویت قرار دیا، وہیں بڑی تعداد میں شائقین کرکٹ نے گرباز کے ماضی کے مبینہ پاکستان مخالف بیانات اور رویے کو بنیاد بنا کر اس فیصلے پر سخت تنقید کی۔
ناقدین کا مؤقف ہے کہ رحمان اللہ گرباز ماضی میں پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف متنازع سرگرمیوں سے جڑے رہے ہیں اور میدان میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ ان کا رویہ
سوالات کی زد میں رہا۔
پشاورزلمی کے فینز نے اس فیصلے کی کھل کر مذمت کی اور سماجی رابطوں کی ویب ساٹ ایکس پر #BoycottPeshawarZalmi ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے۔
لوگ زلمی کے آفیشل پیج اور جاوید آفریدی کے اکاؤنٹ کو ان فالو کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔
جاوید آفریدی نے پانچ فروری کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اعلان کیا کہ افغان وکٹ کیپر بلے باز رحمان اللہ گرباز پشاور زلمی فیملی کا حصہ بن گئے ہیں۔
انہوں نے اس موقع پر ٹیم میں شمولیت پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ گرباز کی آمد ٹیم کے لیے باعثِ فخر ثابت ہوگی اور وہ میدان میں شاندار کارکردگی دکھائیں گے۔
بعد ازاں پشاور زلمی کی جانب سے بھی ایک آفیشل پوسٹ کے ذریعے تصدیق کی گئی کہ فرنچائز نے افغانستان کے سٹار وکٹ کیپر بلے باز کے ساتھ براہ راست معاہدہ کر لیا ہے۔
تاہم اس اعلان کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا اور تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ متعدد شائقین کرکٹ نے اس فیصلے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ رحمان اللہ گرباز ماضی میں پاکستان اور پاکستانی فوج کے خلاف متنازع بیانات دیتے رہے ہیں، سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف مواد شیئر کیا گیا اور میدان میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ ان کا رویہ مناسب نہیں رہا۔
کچھ مداحوں نے اس بنیاد پر پشاور زلمی کی حمایت ترک کرنے کا اعلان کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ قومی جذبات کو نظرانداز کر کے ایسے کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کرنا قابلِ قبول نہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بعض حلقوں کی جانب سے جاوید آفریدی پر بھی تنقید کی گئی اور الزام لگایا گیا کہ وہ ماضی میں بھی افغان نمائندگی کو ترجیح دیتے رہے ہیں، جبکہ موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں یہ فیصلہ مزید متنازع بن گیا ہے۔
ثنا یوسفزئی نامی صارف نے لکھا: ’بطور مداح، پشاور زلمی کو الوداع۔ پی زیڈ (پشاور زلمی) نے پی ایس ایل 11 کے لیے افغان بلے باز رحمان اللہ گرباز کو سائن کر لیا ہے۔
’یاد رکھیں، گرباز نے سوشل میڈیا پوسٹس میں اکثر پاکستان اور اس کی مسلح افواج کی توہین کی ہے اور میدان میں بھی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے ساتھ اس کا رویہ نامناسب رہا ہے۔ سب سے پہلے پاکستان!!‘
ایکس پر یہ بھی کہا گیا کہ: ’جاوید آفریدی افغان نواز ہیں۔ ماضی میں بھی صرف افغان نمائندگی کی خاطر وہ ٹیم میں اوسط درجے کے افغان کھلاڑیوں کو شامل کرتے رہے۔ اب جبکہ نومبر سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کافی اضافہ ہو چکا ہے، انہوں نے جان بوجھ کر ایک افغان کھلاڑی کو سائن کیا۔ جاوید آفریدی، شرم کرو!‘
عرفا فیروز زاکے نامی صارف کے بقول: ’کسی بھی افغان کھلاڑی کو پی ایس ایل میں سائن کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں سب کو معلوم ہے کہ افغان کھلاڑیوں کا پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ رویہ کبھی اچھا نہیں رہا، بلکہ افغانستان کے بورڈ اور کھلاڑیوں نے ہمیشہ بھارت کا ساتھ دیا ہے۔‘
ایک صارف نے گورباز کی مبینہ پاکستان مخالف پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ: ’پی سی بی کو چاہیے کہ افغان کھلاڑیوں کی پی ایس ایل میں شرکت پر پابندی عائد کرے۔‘
سوشل میڈیا پر دیگر کمنٹس اور پوسٹس میں #BoycottPeshawarZalmi بار بار نظر آ رہا ہے۔ کچھ پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ گورباز نے پاکستان کو ’despicable and impure enemy‘ کہا تھا اور ان کی پرانی پوسٹیں شیئر کی جا رہی ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کے رابطہ کرنے پر پشاور زلمی کے ایک عہدیدار نے کہا کہ پی ایس ایل کے لیے غیر ملکی کھلاڑیوں کو پی سی بی کی پالیسی کے مطابق ٹیم میں شامل کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں کوئی غیر قانونی عمل نہیں ہوا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) یا زلمی کی جانب سے اب تک اس متعلق کوئی سرکاری جواب سامنے نہیں آیا ہے۔