خیبرپختونخوا میں 24 عسکریت پسند مارے گئے: فوج

پاکستانی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں چار اور پانچ فروری 2026 کو خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی اور خیبر میں کی گئیں۔

پاکستانی فوج کا ایک اہلکار تین اگست، 2021 کو خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں پاکستان-افغانستان سرحد پر واقع بگ بین پوسٹ کے قریب تعینات ہے (اے ایف پی)

پاکستانی فوج نے جمعے کو بتایا ہے کہ چار اور پانچ فروری 2026 کو خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ کارروائیوں میں ’انڈین پراکسی فتنہ الخوارج‘ سے تعلق رکھنے والے 24 عسکریت پسندوں کو مار دیا گیا۔

’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح پاکستانی حکومت اور فوج کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے استعمال کرتی ہے، جن کے بارے میں اسلام آباد کا موقف ہے کہ ان کی قیادت افغانستان میں موجود ہے اور انہیں انڈیا کی سرپرستی حاصل ہے۔ تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق عسکریت پسندوں کی ’مبینہ موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے ضلع اورکزئی میں ایک انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی کی۔‘

بیان کے مطابق آپریشن کے دوران فورسز نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 14 عسکریت پسند مارے گئے۔

آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے ضلع خیبر میں انٹیلی جنس پر مبنی ایک اور کارروائی کی، جس کے دوران ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں مزید 10 عسکریت پسند مارے گئے۔

بیان میں کہا گیا کہ علاقے میں کسی اور انڈین حمایت یافتہ عسکریت پسند کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں۔

بقول آئی ایس پی آر: ’پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے وفاقی ایپکس کمیٹی برائے قومی ایکشن پلان سے منظور شدہ ’عزمِ استحکام‘ کے وژن کے تحت غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کو ملک سے مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے جاری انتھک انسداد دہشت گردی مہم کو پوری شدت کے ساتھ جاری رکھیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جنوری میں خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ کارروائیوں میں 11 عسکریت پسند مارے گئے تھے۔

نومبر 2022 میں ٹی ٹی پی کی جانب سے حکومت کے ساتھ جنگ ​​بندی کا معاہدہ ختم کرنے کے بعد سے پاکستان میں عسکریت پسندی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اسلام آباد میں قائم پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، ریکارڈ عسکریت پسندوں کی اموات کے باوجود، پاکستان میں 2025 میں عسکریت پسندوں کے تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس میں عسکریت پسندانہ حملوں میں 34 فیصد اضافہ ہوا اور عسکریت پسندی سے متعلقہ اموات میں سال بہ سال 21 فیصد اضافہ رہا۔

اسلام آباد میں ایوان وزیر اعظم سے جاری ہونے والے ایک بیان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے اضلاع خیبر اور اورکزئی میں فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 24 عسکریت پسندوں کے مارے جانے پر سکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’دہشت گردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان