وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کو ایک مرتبہ پھر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) کے ’گٹھ جوڑ‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس اس بات کے ’ٹھوس ثبوت‘ ہیں کہ انہیں ہمارے ’دشمن‘ کے ذریعے تمام وسائل پہنچ رہے ہیں۔
قومی پیغام امن کمیٹی سے ملاقات کے بعد ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ملکی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا کو پاکستان کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہم نے اتنی عظیم قربانیاں دے کر نہ صرف دہشت گردوں کا خاتمہ کیا بلکہ دوسرے ممالک کو اس سے بچایا۔ آج اس ناسور نے دوبارہ سر اٹھایا ہے۔‘
وزیراعظم نے مزید کہا: ’خوارج ہیں، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا جو گٹھ جوڑ ہے، زبانی آپ کے منہ پر کہیں گے کہ ہمارا اس سے تعلق نہیں، لیکن ہمارے پاس ٹھوس ثبوت ہیں، ہر طرح کے وسائل ان کو ہمارے دشمن کے ذریعے پہنچ رہے ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان کا اصرار ہے کہ افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسند سرحد پار حملے کرتے ہیں اور انہیں افغان طالبان اور انڈین سرپرستی حاصل ہے، لیکن کابل اور نئی دہلی اس کی تردید کرتے ہیں۔
گذشتہ برس اکتوبر میں پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحدی جھڑپوں کے بعد سے تناؤ کی کیفیت ہے، دونوں ملکوں میں اگرچہ دوحہ اور ترکی کی ثالثی میں عارضی امن کا معاہدہ ہوا، تاہم بارڈرز آمدو رفت اور تجارت کے لیے بند ہیں۔
وزیراعظم نے ماضی میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشنز کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا: ’انشا اللہ جس طرح 2018 میں دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا تھا، مجھے یقینِ کامل ہے کہ اس مرتبہ بھی دہشت گردی کا سر کچلا جائے گا اور ہمیشہ کے لیے پاکستان کی سرحدوں سے ان کو اٹھا کر بحر ہند میں ڈبو دیا جائے گا۔‘
قومی پیغام امن کمیٹی کو وقت کی ’اہم ترین ضرورت‘ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’ملک کے اندر قومی یکجہتی اور اتحاد کی جتنی آج ضرورت ہے، پہلے کبھی اتنی نہیں تھی۔‘
یہ کمیٹی گذشتہ برس ستمبر میں وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بنائی گئی تھی، جس میں علمائے کرام، مشائخ، اقلیتوں کے نمائندگان اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
وزیراعظم نے کمیٹی میں شامل علما اور مشائخ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’معاملہ اس وقت اتنا پیچیدہ ہے کہ آپ کو اس سے بڑھ کر معاملات کو مل بیٹھ کر طے کرنے کی ضرورت ہے۔‘
اس سے قبل وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا کہ اس کمیٹی نے قومی بیانیے کی تشکیل اور دہشت گردی کے حوالے سے معاملات میں فعال کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سیکریٹری اور کنوینیئرعلامہ طاہر اشرفی کی سربراہی میں اس کمیٹی کے تحت ’امن کا پیغام لے کر پورے پاکستان میں جائیں گے اور اس کمیٹی کے مینڈیٹ کے تحت صوبائی اور پھر ضلعی کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔‘
کمیٹی کے سیکریٹری اور کنوینیئر علامہ طاہر اشرفی نے بتایا کہ ’گذشتہ روز ہم پشاور میں تھے، وہاں گورنر سے تفصیلی نشست کے بعد طے پایا کہ خیبرپختونخوا کے تمام علما و مشائخ کی دو روزہ کانفرنس بلائی جائے گی، جس میں ان کے تمام تحفظات کو بھی دور کیا جائے گا اور ان کے سوال و جواب لیے جائیں گے۔‘
علامہ طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ ’اس سے پہلے کمیٹی کے اراکین خیبرپختونخوا کے تمام ان علاقوں میں، جہاں دہشت گردی ہے یا نہیں ہے، جائیں گے اور اپنی فوج کے جوانوں، سلامتی کے اداروں کے جوانوں کے ساتھ وقت بھی گزاریں گے اور بیانیے کی جنگ میں صف اول میں اپنا کردار ادا کریں گے۔‘