آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل جمعرات کو پاکستان کے کپتان سلمان آغا نے ایک بار پھر کہا کہ وہ انڈیا کے خلاف میچ پر حکومت کی ہدایات پر عمل کریں گے جبکہ انڈین کپتان سوریا کمار یادیو کا کہنا ہے کہ 15 فروری کے میچ کے لیے کولمبو ضرور جائیں گے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا مشترکہ طور پر سری لنکا اور انڈیا میں کھیلا جائے گا اور اس کا آغاز سات فروری سے ہونے جا رہا ہے۔
تاہم ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل ہی کئی تنازعات جنم لے چکے ہیں جن میں بنگلہ دیش کا باہر ہونا اور پاکستان کا 15 فروری کو انڈیا کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار شامل ہے۔
پاکستان کی حکومت نے اپنی ٹیم کو ورلڈ کپ میں شمولیت کی اجازت تو دی ہے مگر انڈیا کے خلاف میچ کھیلنے سے روک دیا ہے۔
اگر پاکستان یہ میچ نہیں کھیلتا تو انڈیا کو دو پوائنٹس مل جائیں گے لیکن اس کے لیے بھی انڈیا کا کولمبو پہنچنا ضروری ہے۔
انڈین کپتان سوریا کمار یادیو نے جمعرات کو ممبئی کے وانکھیڑے سٹیڈیم میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف میچ کے حوالے سے کہا کہ ’ہم نے پاکستان کے خلاف کھیلنے سے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے انکار کیا ہے۔‘
انڈین کپتان نے کہا کہ ’ہماری فلائٹس بک ہو چکی ہیں اور ہم کولمبو جا رہے ہیں۔‘
پاکستان کے انکار کے بعد یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر یہ دونوں ٹیمیں اگلے مرحلے میں سیمی فائنل یا فائنل میں آمنے سامنے آتی ہیں تو کیا تب بھی پاکستان کھیلنے سے انکار کرے گا؟ کیونکہ حکومت پاکستان نے اپنے بیان میں 15 فروری کے میچ کا ہی ذکر کیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس بارے میں پاکستان کے کپتان سلمان آغا نے جمعرات کو کہا کہ اگر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں پاکستان کا انڈیا سے میچ آتا ہے تو وہ اس حوالے سے حکومت سے رہنمائی حاصل کریں گے۔
سلمان آغا نے کولمبو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’بھارت کے خلاف میچ ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ حکومت کا فیصلہ تھا، اور اگر ہمیں سیمی فائنل یا فائنل میں ان کے خلاف کھیلنا پڑا تو ہم دوبارہ حکومت سے رجوع کریں گے اور ان کی ہدایت کے مطابق عمل کریں گے۔‘
پاکستانی کپتان نے بنگلہ دیش کی ٹیم کے ورلڈ کپ سے باہر ہونے پر کہا کہ ’یہ افسوسناک ہے کہ بنگلہ دیش یہاں موجود نہیں۔ ان کی ٹیم بہت اچھی تھی۔ امید ہے وہ ہماری حمایت کریں گے۔‘
انڈیا کے خلاف میچ چھوڑنے کے باعث پاکستان کو نہ صرف دو پوائنٹس کا نقصان ہوگا بلکہ نیٹ رن ریٹ پر بھی بڑا منفی اثر پڑے گا۔
گروپ مرحلے کا ایک میچ اگر خراب موسم کی وجہ سے ضائع ہو گیا تو پاکستان کے لیے کوالیفائی کرنا مشکل بھی ہو سکتا ہے۔
اس پر سلمان آغا کا کہنا ہے کہ ’ہم جانتے ہیں کہ غلطی کی گنجائش بہت کم ہے، لیکن موسم ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہم یہاں اچھی کرکٹ کھیلنے آئے ہیں اور حالات کی پرواہ نہیں کر رہے۔‘