واشنگٹن پوسٹ نے بدھ کو اپنے ایک تہائی عملے کو ملازمت سے فارغ کر دیا، جس کے نتیجے میں کھیلوں کا شعبہ، مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین کے بیوروز اور کتابوں کی کوریج ختم کر دی گئی۔
واشنگٹن پوسٹ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر میٹ مرے نے اس اقدام کو ’تکلیف دہ‘ مگر ’ضروری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ادارے کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنا اور ٹیکنالوجی اور صارفین کی عادات میں آنے والی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنا ہے۔
انہوں نے عملے کے نام ایک نوٹ میں کہا: ’ہم سب لوگوں کے لیے سب کچھ نہیں بن سکتے۔‘
انہوں نے کمپنی کے ایک آن لائن اجلاس میں ان تبدیلیوں کی وضاحت کی، جس کے بعد عملے کے اراکین کو دو میں سے ایک عنوان کے ساتھ ای میلز موصول ہونا شروع ہو گئیں، جن میں بتایا گیا کہ ان کا عہدہ برقرار ہے یا ختم کر دیا گیا ہے۔
ملازمتوں میں کٹوتیوں کی افواہیں کئی ہفتوں سے گردش کر رہی تھیں، جب یہ خبر سامنے آئی کہ وہ کھیلوں کے رپورٹرز، جو سرمائی اولمپکس کی کوریج کے لیے اٹلی جانے کے منتظر تھے، اب سفر نہیں کریں گے۔ تاہم جب باضابطہ اعلان ہوا تو کٹوتیوں کا حجم اور دائرہ کار چونکا دینے والا تھا، جس نے نیوز روم کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کیا۔
کولمبیا یونیورسٹی کی صحافت کی پروفیسر اور واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز کی سابق میڈیا کالم نگار مارگریٹ سلیوان نے کہا: ’یہ امریکہ میں اور درحقیقت پوری دنیا میں صحافت کی فکر رکھنے والے ہر شخص کے لیے تباہ کن خبر ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کئی حوالوں سے بے حد اہم رہا ہے، چاہے وہ خبروں کی کوریج ہو، کھیل ہوں یا ثقافتی رپورٹنگ۔‘
The @washingtonpost just let go of every single journalist working on the #MiddleEast.
— Charles Lister (@Charles_Lister) February 4, 2026
What a stunning, absolutely incomprehensible decision.
I hope they all get snapped up fast by the Post's competitors.
واشنگٹن پوسٹ کے سابق ایڈیٹر مارٹن بیرن، جو موجودہ مالک ارب پتی جیف بیزوس کے دور میں پہلے ایڈیٹر تھے، نے اپنے سابق باس پر سخت تنقید کی اور حالیہ اقدامات کو ’برانڈ کی خودساختہ تباہی کی ایک مثال‘ قرار دیا۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کی سابق سپیکر نینسی پلوسی نے ان برطرفیوں کو ’ایک وسیع تر قابلِ مذمت رجحان کا حصہ‘ قرار دیا، جس میں کارپوریٹ فیصلے پورے ملک میں نیوز رومز کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔
واشنگٹن پریس کلب فاؤنڈیشن کے ارکان سے خطاب میں نینسی پلوسی نے کہا: ’آزاد صحافت اپنا مشن اس وقت پورا نہیں کر سکتی جب اسے زندہ رہنے کے لیے درکار وسائل سے محروم کر دیا جائے اور جب نیوز رومز کمزور ہوتے ہیں تو ہماری جمہوریہ بھی کمزور ہوتی ہے۔‘
تمام مشرقِ وسطیٰ کے نامہ نگار اور ایڈیٹرز فارغ
دن کے دوران مخصوص کٹوتیوں کی خبریں سامنے آتی رہیں، جیسا کہ قاہرہ بیورو کی سربراہ کلیئر پارکر نے ایک پیغام میں بتایا کہ انہیں اخبار کے تمام مشرقِ وسطیٰ کے نامہ نگاروں اور ایڈیٹرز کے ساتھ ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے لکھا: ’اس کی منطق سمجھنا مشکل ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لِزی جانسن، جنہوں نے گذشتہ ہفتے یوکرین کے جنگی علاقے میں بجلی اور پانی کے بغیر رپورٹنگ کی، نے بھی بتایا کہ انہیں فارغ کر دیا گیا ہے۔
اس فیصلے سے صحافتی دنیا میں غصہ اور غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی سابق صحافی ایشلی پارکر نے ’دی اٹلانٹک‘ میں ایک مضمون میں لکھا: ’واشنگٹن پوسٹ تقریباً ڈیڑھ سو سال سے قائم ہے اور ایک مقامی خاندانی اخبار سے ترقی کر کے ایک ناگزیر قومی ادارہ اور جمہوری نظام کا ستون بن چکا ہے۔‘
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اخبار کی قیادت اسی راستے پر چلتی رہی تو ’یہ زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکے گا۔‘
Cartoon on Washington Post‘s mass layoffs pic.twitter.com/zJbYMJ7pYD
— 巴丢草 Bad ї ucao (@badiucao) February 4, 2026
مستقبل کے خدشات کے پیش نظر ایشلی پارکر ان عملے کے اراکین میں شامل تھیں، جنہوں نے حالیہ مہینوں میں اخبار چھوڑ کر دیگر ملازمتیں اختیار کیں۔
صحافیوں کی جیف بیزوس سے مدد کی اپیل
جیف بیزوس، جو حالیہ ہفتوں میں خاموش رہے ہیں اور جن سے واشنگٹن پوسٹ کے صحافی کٹوتیاں روکنے کے لیے مداخلت کی اپیل کر رہے تھے، نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اخبار نے جزوی طور پر بیزوس کے فیصلوں کے باعث بھی سبسکرائبرز کھوئے ہیں، جن میں 2024 کے صدارتی انتخابات کے دوران ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس کی حمایت سے پیچھے ہٹنا اور رائے کے صفحات پر نسبتاً قدامت پسند رخ اختیار کرنا شامل ہے۔
ایک نجی کمپنی ہونے کے ناطے واشنگٹن پوسٹ یہ ظاہر نہیں کرتا کہ اس کے کتنے سبسکرائبرز ہیں، تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تعداد تقریباً 20 لاکھ ہے۔ اخبار نے یہ بھی نہیں بتایا کہ اس کے کل ملازمین کی تعداد کتنی ہے، جس کی وجہ سے بدھ کو برطرف ہونے والوں کی درست تعداد کا اندازہ لگانا ممکن نہیں جبکہ مالی تفصیلات بھی جاری نہیں کی گئیں۔
واشنگٹن پوسٹ کی مشکلات اس کے دیرینہ حریف نیویارک ٹائمز کے برعکس ہیں، جو حالیہ برسوں میں خاصی کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ کھیلوں جیسی ضمنی مصنوعات اور وائر کٹر کی سفارشات میں سرمایہ کاری ہے۔ نیویارک ٹائمز نے گذشتہ دہائی میں اپنے عملے کی تعداد دگنی کر لی ہے۔
کھیلوں کے شعبے کا خاتمہ ایسے شعبے کے اختتام کے مترادف ہے جہاں برسوں کے دوران کئی معروف ناموں نے کام کیا، جن میں جان فائن سٹائن، مائیکل وِلبن، شرلی پووچ، سیلی جینکنز اور ٹونی کورن ہائزر شامل ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے بھی بڑی حد تک اپنا کھیلوں کا شعبہ ختم کر دیا ہے، تاہم اس نے دی ایتھلیٹ خرید کر اس کی کوریج کو اپنی ویب سائٹ میں شامل کر لیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کا بک ورلڈ، جو کتابوں کے تبصروں، ادبی خبروں اور مصنفین کے انٹرویوز کا مرکز تھا، اتوار کے شمارے میں ایک مستقل شعبہ رہا ہے۔
نصف صدی قبل واٹرگیٹ سکینڈل پر واشنگٹن پوسٹ کی کوریج، جس کی قیادت جرات مند رپورٹرز باب ووڈورڈ اور کارل برنسٹین نے کی، تاریخ کا حصہ بن گئی۔ طویل عرصے تک ایگزیکٹو ایڈیٹر بین بریڈلی کے دور میں سٹائل سیکشن میں ملک کی بہترین فیچر تحریریں شائع ہوتی رہیں۔
اٹلانٹا کا اخبار بھی کٹوتیوں کا اعلان
بدھ کے روز ہی اٹلانٹا جرنل-کانسٹی ٹیوشن نے بھی اعلان کیا کہ وہ 50 آسامیوں، یعنی اپنے عملے کے تقریباً 15 فیصد میں کمی کر رہا ہے۔ ختم کی جانے والی آدھی نوکریاں نیوز روم میں تھیں۔
میٹ مرے نے کہا کہ واشنگٹن پوسٹ ان شعبوں پر توجہ مرکوز کرے گا جو اختیار، انفرادیت اور اثر رکھتے ہوں اور قارئین کے ساتھ ہم آہنگ ہوں، جن میں سیاست، قومی امور اور سلامتی شامل ہیں۔
حالیہ مشکلات کے باوجود، واشنگٹن پوسٹ نے وفاقی افرادی قوت میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تبدیلیوں کی کوریج میں خاصی جارحانہ حکمتِ عملی اپنائی۔
میٹ مرے نے عملے کے نام نوٹ میں کہا کہ کمپنی کا ڈھانچہ ایک مختلف دور میں جڑا ہوا ہے، جب واشنگٹن پوسٹ ایک غالب طباعتی اشاعت تھا۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیو جیسے شعبوں میں ادارہ صارفین کی عادات کے ساتھ قدم نہیں ملا سکا۔
انہوں نے کہا: ’اہم بات یہ ہے کہ گذشتہ پانچ برسوں میں ہماری روزانہ کی خبروں کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے اور اگرچہ ہم بہت سا شاندار کام کر رہے ہیں، لیکن اکثر ہم ایک ہی نقطۂ نظر سے، ناظرین کے ایک محدود حصے کے لیے لکھتے ہیں۔‘
اگرچہ کچھ کاروباری امور توجہ کے متقاضی ہیں، مارٹن بیرن نے اس کی براہِ راست ذمہ داری جیف بیزوس پر عائد کی، جن پر انہوں نے صدارتی حمایت ختم کرنے کے ’بے جرات‘ فیصلے اور ادارتی صفحے کو ایسی شکل دینے کا الزام لگایا، جو محض ’اخلاقی کمزوری‘ اور ٹرمپ کی خوشنودی کے لیے ’قابلِ نفرت‘ کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
مارٹن بیرن نے لکھا: ’وفادار قارئین، جب انہوں نے مالک جیف بیزوس کو ان اقدار سے غداری کرتے دیکھا، جن کا اسے پاسبان ہونا چاہیے تھا تو وہ غصے میں اخبار چھوڑ گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ انہیں لاکھوں کی تعداد میں دور دھکیل دیا گیا۔‘
انہوں نے کہا کہ وہ اپنے دورِ ادارت میں بیزوس کی حمایت کے شکر گزار ہیں اور یاد دلایا کہ ایمازون کے بانی کو ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں شدید دباؤ کا سامنا تھا۔
انہوں نے لکھا: ’وہ آزاد صحافت اور واشنگٹن پوسٹ کے مشن پر پرزور اور بلیغ انداز میں بات کرتے تھے اور عملی طور پر اپنی وابستگی دکھاتے تھے۔ وہ اکثر کہتے تھے کہ واشنگٹن پوسٹ کی کامیابی ان کی زندگی کے قابلِ فخر ترین کارناموں میں سے ہوگی۔ کاش آج بھی مجھے وہی جذبہ نظر آتا۔ مگر اس کا کوئی نشان نہیں۔‘