بی بی سی کے اس سینیئر رپورٹر کے جانے سے جنوبی ایشیا کی صحافت ایک متنازع، طاقتور اور کبھی کبھار ٹاکسک شخصیت سے محروم ہو گئی ہے۔
مارک ٹلی کی زندگی اور کام یہ واضح کرتے ہیں کہ میڈیا کبھی صرف خبر کی نشر کرنے یا شائع کرنے کا ذریعہ نہیں رہتا بلکہ مخصوص سیاسی بیانیہ قائم کرنے اور عوامی رائے کو متاثر کرنے کا ایک ٹاکسِک ہتھیار بھی بن سکتا ہے، اور اس ہتھیار کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
ولیم مارک ٹلی 24 اکتوبر 1935 کو کولکتہ (پرانا کلکتہ) میں پیدا ہوئے، اور اپنی ابتدائی زندگی انڈیا میں گزری۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد پادری بننے کا ارادہ ترک کر کے بی بی سی میں شمولیت اختیار کی۔
وہ بی بی سی کے نیو دہلی کے بیورو چیف رہے اور جنوبی ایشیا کے اہم واقعات رپورٹ کیے۔ انھوں نے کابل میں بھی کام کیا جب انقلاب ثور آیا تھا۔ انڈیا میں طویل عرصے تک رہے۔ 25 جنوری 2026 کو نئی دہلی میں انتقال ہوا۔
بی بی سی کے سینیئر رپورٹر اور جنوبی ایشیا کے بیورو چیف کی حیثیت سے مارک ٹلی نے دہائیوں تک انڈیا اور پاکستان کے درمیان سب سے حساس اور خطرناک لمحوں کی کوریج کی۔ ہمارے سینئیر صحافی مرحوم آصف جیلانی نے بتایا تھا کہ 1971 کی انڈیا‑پاکستان جنگ کے دوران وہ مشرقی پاکستان میں ہونے والے واقعات کی رپورٹنگ کے لیے کلکتہ میں بیٹھ کر خبریں بھجتے تھے۔
ان کی رپورٹنگ اتنی یکطرفہ اور انڈین موقف کے حق میں تھی کہ پاکستان کے عالمی موقف کو شدید نقصان پہنچا۔ وہ نہ صرف حقائق کا انتخاب کرتے بلکہ انہیں اس انداز میں پیش کرتے کہ بین الاقوامی میڈیا میں پاکستان کی پوزیشن کمزور اور انڈیا مظلوم دکھائی دیتا۔
ان کی رپورٹنگ کی شدت نے یہ واضح کر دیا کہ ایک رپورٹر کے قلم سے عالمی سیاست میں کس طرح جھکاؤ پیدا کیا جا سکتا ہے اور کس طرح عوامی تاثر کو اپنی مرضی کے مطابق موڑنا ممکن ہے۔
1977 میں جب پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف سیاسی بحران اور پاکستان قومی اتحاد کے نام پر بنائے گئے اپوزیشن کے سیاسی اتحاد کی تحریک زور پکڑ رہی تھی، مارک ٹلی کی رپورٹنگ اس حد تک شدت پسند اور بھٹو مخالف تھی کہ وہ محض رپورٹر کی حد سے نکل کر عوامی رائے اور سیاسی مخالفت میں حصہ ڈالنے لگے۔
وہ اکثر قومی اتحاد کے اگلے دن کے مظاہروں کے مقامات اور وقت کی خبریں بھی دیتے تھے جو صحافتی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی تھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کی یکطرفہ رپورٹنگ اور تجزیاتی بیانیہ اتنی واضح اور بھٹو مخالف تھا کہ بھٹو کے تختہ الٹنے کے بعد جب بھٹو چند دنوں کی رہائی کے بعد وہ لاہور آئے تو لاہور میں مشتعل شہریوں نے لاہور ایئرپورٹ کے قریب مارک ٹلی کی پٹائی کی تھی۔
اگرچہ ایسا ہونا نہیں چاہیے تھا، مگر یہ واقعہ اس بات کا مظہر ہے کہ ٹلی کی رپورٹنگ نہ صرف خبروں کی ترسیل تھی بلکہ عملی سیاسی اثرات پیدا کرنے کی طاقت رکھتی تھی، اور ایک صحافی کے قلم کے نیچے چھپی طاقت عوام اور سیاسی منظرنامے کو باآسانی گمراہ کر سکتی ہے۔
انھوں نے بھٹو کی پھانسی کے ایک موقعے پر ایک متنازع خبر بھی دی تھی ’اللہ مدد کر‘ جسے وہ کبھی ثابت نہ کر سکے۔
مارک ٹلی کے کام پر کوئی ہمدردی نہیں کی جا سکتی۔ ان کی رپورٹنگ نے پاکستان کے مفادات کو کئی مواقع پر براہِ راست نقصان پہنچایا اور یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ حقائق کو سچ سمجھ کر پیش کر رہے تھے یا کسی سیاسی یا سٹریٹجک کھیل کا حصہ تھے۔
ان کی رپورٹنگ نے پاکستان میں مارشل لا کے لیے راہ ہموار کی گھی۔ ان کے کیس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عالمی میڈیا کس حد تک سیاسی بیانیے کی تشکیل میں کردار ادا کر سکتا ہے اور کیوں ایک ہی واقعے پر مختلف ملکوں، حلقوں اور تجزیہ کاروں کے درمیان متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔
مارک ٹلی کا نام اب صحافتی دنیا میں ہمیشہ اسی طاقتور، متنازع اور تلخ بیانیے کے ساتھ یاد رکھا جائے گا جس نے خبریں رپورٹ کرنے کی مہارت کو سیاسی اور سماجی اثرات کی طاقت میں بدل دیا، جس نے دہائیوں تک جنوبی ایشیا کے سیاسی منظرنامے کو اپنی ترجیح کے مطابق شکل دی اور جس کے اثرات آج بھی تجزیہ کاروں، تاریخ دانوں اور میڈیا مبصرین کے درمیان بحث کا محور ہیں۔ آج بھی اگر کسی کو دروغ گو کہنا ہو تو اسے طنزاً مارک ٹلی کہا جاتا ہے۔
مارک ٹلی کی زندگی اور رپورٹنگ یہ واضح کرتی ہے کہ صحافت کبھی کبھار خالص پیشہ ورانہ کام نہیں رہتی بلکہ سیاسی کھیل، بیانیہ سازی اور عوامی تاثر کی تشکیل کا ایک طاقتور ہتھیار بن جاتی ہے۔
مارک ٹلی ایک ایسے ثقافتی سرپرست تھے جو اپنی سابق کالونی کے خطے میں بھی اپنی مرضی کی سیاسی اور اخلاقی بالادستی قائم رکھنا چاہتا تھا۔ وہ ایک کالونیل رولنگ کلاس کے خاندان میں اپنی کالونی یعنی انڈیا کے شہر کلکتہ میں پیدا ہوئے اور اسے اپنا وطن بنانے کی کوشش کی۔ بظاہر اچھی بات لگتی ہے مگر یہ سچ کی تلاش نہیں تھی، یہ سابقہ کالونی کی سیاسی آزادی کے بعد کی ثقافتی غلامی کے مزے لوٹنے کے مترادف تھا۔
وہ جوزف کانریڈ کے ’ہارٹ آف ڈارکنیس‘ کے کرٹز والے کردار تو نہیں تھے، لیکن وہ مدر ٹریسا بھی نہیں تھے، نہ ہی روتھ فاؤ تھے۔ وہ انڈیا جیسے ثقافتی طور پر غلامانہ معاشرہ میں ایک ماسٹر کے کردار سے مطمئن ہو گئے، جہاں وہ اپنی طرف سے انڈین کہانیاں بتاتے تھے، مگر مقامی انڈین ان کی کہانیوں کو اپنے لیے سند سمجھتے تھے جو کہ ایک کالونائیزڈ قوم کی اعلیٰ مثال ہے۔
اس سارے ڈرامے کا سب سے افسوسناک پہلو سابق کالونی کے معاشروں کا اپنا ردعمل ہے۔ ہندوستان میں ٹلی کی پرستش اور پاکستان میں ان کے زہریلے اثرات دونوں ہی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ دونوں معاشرے، بظاہر آزاد ہونے کے باوجود، آج بھی ثقافتی اور ذہنی طور پر مغرب کی کالونیاں ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی معاشرے کے اعلیٰ طبقوں نے ٹلی کو ایک ’بینائن بادشاہ‘ کی طرح قبول کیا، ایک ایسا گورا صاحب جو ہماری ثقافت کو سمجھتا ہے، ہمارے کپڑے پہنتا ہے، اور ہماری ’آواز‘ بن جاتا ہے۔ ہم نے انہیں وہ مقام دیا جو ہم اپنے ہی قابل ترین مقامی صحافیوں اور دانشوروں کو نہیں دیتے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اب بھی یہ مانتے ہیں کہ ہماری اپنی آواز تب تک معتبر نہیں، جب تک کسی مغربی سرپرست نے اسے اپنی چھاپ نہ دے دی ہو۔ ہماری ترقی، ہمارا معیار، اور ہماری اہمیت کا پیمانہ اب بھی وہی ہے جو ہمارے سابق نوآبادیاتی آقاؤں نے ہمارے لیے طے کیا تھا۔
مارک ٹلی جیسے افراد دراصل ایک مرض کی علامت ہیں، مرض نہیں۔ وہ ایک ایسے تاریخی اور نفسیاتی ڈھانچے کی پیداوار ہیں جو سیاسی نوآبادیاتی ختم ہونے کے بعد بھی قائم ہے۔ ان کی طاقت ہماری اپنی ذہنی غلامی اور ثقافتی خود کم تری سے پنپتی ہے۔
جب تک ہم اپنی زبان، اپنے فکری خزانے اور اپنے مقامی راویوں پر مکمل اعتماد نہیں کرتے، تب تک ٹلی جیسے ’نرم استعماری‘ سرپرست ہمارے بیانیوں، ہماری سیاست اور ہماری خود اعتمادی پر اپنی چھاپ مسلط کرتے رہیں گے۔ حقیقی آزدی صرف سیاسی نہیں، ذہنی اور ثقافتی خود مختاری سے ہی ممکن ہے۔