صحافی اقرار الحسن کی سیاسی جماعت نوجوانوں کو راغب کر پائے گی؟

معروف اینکر اقرار الحسن نے سیاسی میدان میں قدم رکھتے ہوئے نئی جماعت ’عوام راج تحریک‘ کا اعلان کیا ہے، تاہم سینیئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں نئی سیاسی جماعت کے لیے زیادہ گنجائش نہیں۔

معروف اینکر اقرار الحسن نے لاہور میں ’عوام راج تحریک‘ کے نام سے نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کیا ہے (اقرار الحسن/فیس بک)

پاکستان کے معروف اینکر اور صحافی اقرار الحسن نے لاہور میں ’عوام راج تحریک‘ کے نام سے نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان پر سینیئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں نئی سیاسی جماعت کے لیے زیادہ گنجائش نظر نہیں آتی۔

پاکستان میں معروف شخصیات کی جانب سے نئی سیاسی جماعتوں کا قیام ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے۔ اس وقت ملک میں 168 سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہیں، تاہم قومی و صوبائی سطح پر چند ہی جماعتیں اقتدار تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ دو پرانی جماعتیں، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی، سب سے زیادہ برسراقتدار رہی ہیں۔ ان جماعتوں پر مخالفین کی جانب سے موروثی سیاست کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔

گذشتہ دہائی میں معروف کرکٹر عمران خان کی تحریک انصاف نے نوجوانوں کی بڑی تعداد کو اپنی طرف مائل کیا اور 2018 میں اکثریت کے ساتھ حکومت بھی قائم کی۔

اب اقرار الحسن نے بھی نوجوانوں کو ساتھ ملا کر ان کے مسائل حل کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے نئی جماعت لانے کا دعویٰ کیا ہے۔

اقرار الحسن نے انڈپینڈنٹ اردو بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ملک میں نوجوان قیادت کو سامنے لانے کے لیے ’عوام راج‘ تحریک کا آغاز کر رہا ہوں۔ وعدہ کرتا ہوں کہ میں خود نہ امیدوار بنوں گا اور نہ ہی کوئی حکومتی عہدہ لینے کی کوشش کروں گا۔

’پی ٹی آئی سمیت تمام جماعتوں کی کارکردگی سے نوجوان مایوس ہیں، اس لیے ہماری جماعت میں ہر نوجوان آگے آئے گا اور دوسروں کے لیے خدمات انجام دے گا۔‘

اس موضوع پر لاہور کے سینیئر صحافی شفیق اعوان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’اقرار نے نئی سیاسی جماعت کا اعلان تو کر دیا، لیکن خود انتخابی عمل کا حصہ نہ بننے کا اعلان کر کے جمہوریت کی نفی کر دی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے بقول: ’جو شخص خود کو انتخابی عمل کا اہل نہیں سمجھتا، اس کے امیدواروں پر کون اعتماد کرے گا؟ اس طرح کی جماعتیں اکثر مخصوص ایجنڈے کے تحت بنتی ہیں اور وقت کے ساتھ گم ہو جاتی ہیں۔ سیاست سوشل میڈیا پر شوق پورا کرنے کا نام نہیں، یہاں بیلٹ باکس بھروانے کے لیے قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔‘

ایک اور سینیئر سیاسی صحافی ارسلان رفیق بھٹی نے بھی اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’آئین پاکستان کے تحت ہر شہری کو سیاسی جماعت بنانے کا حق حاصل ہے، مگر سیاست کوئی کھیل نہیں جس میں ہر کوئی کامیاب ہو جائے۔‘

ان کے بقول: ’عملی عوامی خدمات اور وسیع عوامی حمایت کے بغیر سیاست میں کامیابی ممکن نہیں۔ آج کل ہر جماعت نوجوانوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو اپنی ٹیم کا لازمی حصہ بنا رہی ہے۔ صرف یہ دعویٰ کہ کسی جماعت کی نمائندگی نوجوان کرتے ہیں، کامیابی کی ضمانت نہیں۔ ملک میں ووٹر صرف نوجوان نہیں بلکہ ہر عمر کے افراد ہوتے ہیں۔‘

تاہم اقرار الحسن نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے نوجوانوں کو انتشار اور نفرت سے نکال کر ملکی ترقی و خوشحالی کے لیے کام کرنے کی ترغیب دینی ہے۔ ہمارا مقصد صرف اقتدار کا حصول نہیں بلکہ ملک کا نام روشن کرنے والی نسل تیار کرنا ہے۔‘

دوسری جانب شفیق اعوان کا کہنا ہے: ’ملک میں اس وقت جمہوری حکومت موجود ہے اور صوبوں میں بھی مختلف جماعتیں برسراقتدار ہیں، جہاں نوجوان ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ اس لیے نئی سیاسی جماعتوں کی فی الحال کوئی خاص گنجائش دکھائی نہیں دیتی۔ ان جماعتوں پر یہ الزامات بھی لگ رہے ہیں کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر کام کر رہی ہیں۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست