ایک نئی سیاسی گیم تیار ہے

اب اس گیم میں نئے طور طریقے اپنائے جا رہے ہیں۔ کبھی ایک پینترا اٹھایا جاتا ہے کبھی دوسرا پینترا بدلا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سیاست کے اس کھیل میں مزید ’دوسرے کھلاڑی‘ بھی شامل ہوگئے ہیں۔

بظاہر پنجاب کے ضمنی الیکشن نے ساری کی ساری سیاسی گیم ہی الٹ کر رکھ دی ہے۔ جس بادشاہ کو اپنی ریاست پر بڑا مان تھا، اعتماد تھا سیاست کے دوسرے بادشاہ نے کایا ہی پلٹ کر رکھ دی اور پنجاب میں تخت کا تختہ کردیا (فائل تصاویر: اے ایف پی)

سیاست کی بساط پر نئے کھیل کا آغاز ہو چکا ہے۔ وقت کے دو بادشاہ آمنے سامنے ہیں۔

ایک طرف سیاست کے بادشاہ سلامت جن کا ماضی قریب میں اقتدار ہی سلامت نہ رہا، جنہیں وفاق کی پارلیمانی حکمرانی سے بے دخل کردیا گیا، دوسری طرف سیاست کے وہ بادشاہ سلامت جو اپوزیشن سے حکومت میں آئے اور آتے ہی پنجاب کے حالیہ ضمنی الیکشن میں ضمانت ضبط کروا بیٹھے۔

پہلے ہی مرکز کی سیاست عروج پر تھی اور اب پنجاب بھی سیاست کا مرکز بن چکا ہے۔

شاید کسی بادشاہ نے کہا تھا کہ میں ’زیادہ خطرنک ہو جاؤں گا۔‘ شاید اسی لیے اس بادشاہ نے سیاسی ہار نہیں مانی۔کیا وہ بادشاہ واقعی اب عملی طور پر ’خطرناک‘ ثابت ہو رہا ہے؟ اگر ہو رہا ہے تو پھر دوسرے بادشاہ کے پاس اس خطرے سے نمٹنے کی حکمت عملی کیا ہے؟

بظاہر پنجاب کے ضمنی الیکشن نے ساری کی ساری سیاسی گیم ہی الٹ کر رکھ دی ہے۔ جس بادشاہ کو اپنی ریاست پر بڑا مان تھا، اعتماد تھا سیاست کے دوسرے بادشاہ نے کایا ہی پلٹ کر رکھ دی اور پنجاب میں تخت کا تختہ کردیا۔

ملکی سیاست میں اِن آؤٹ کا سلسلہ آب و تاب سے جاری ہے۔ ایک بادشاہ وفاق سے آؤٹ ہوا اور پنجاب میں اِن ہوگیا اور جنہیں مان تھا پنجاب کے ان کی سیاست کا گڑھ ہونے کا، یہ بھرم بھی اس پہلے بادشاہ نے آکر توڑ دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب ملک میں عمومی اور پنجاب میں خصوصی طور پر سیاست کی گیم آن ہو چکی ہے۔ اب اس گیم میں نئے طور طریقے اپنائے جا رہے ہیں۔ کبھی ایک پینترا اٹھایا جاتا ہے کبھی دوسرا پینترا بدلا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سیاست کے اس کھیل میں مزید ’دوسرے کھلاڑی‘ بھی شامل ہوگئے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اب تو پی ٹی آئی کے 11 کھلاڑی بھی قومی اسمبلی سے آؤٹ کردیے گئے ہیں۔ قومی اسمبلی کے ’راجہ‘ پرویز اشرف نے 11 پی ٹی آئی ارکان کے استعفے اچانک منظور کرلیے اور الیکشن کمیشن نے مستعفی پی ٹی آئی ارکان کو ڈی نوٹیفائی بھی کردیا۔ کیا یہ بھی سیاست کی بساط پر ایک نئی چال ہے جو چلی گئی ہے؟

قومی اسمبلی میں 11 وکٹیں گرنا پی ٹی آئی کے لیے کتنا بڑا سیٹ بیک ہوگا؟ اہم سوال یہ بھی ہیں کہ کون کسے ٹف ٹائم دے رہا ہے؟ کسے سیٹ بیک ہو رہا ہے اور کون کم بیک کر رہا ہے؟ سیاست کی بساط پر ترپ کے پتے کس کے ہاتھ ہیں؟ مشکل وقت کس کے لیے ہے؟ کیا یہ مشکل وقت ہے یا مزید مشکل فیصلوں کا؟

دوسری طرف فارن فنڈنگ پر بھی ایک بھرپور مہم لانچ کردی گئی ہے اور اسی دوران ایک بین الاقوامی جریدے میں خبر بھی آ جاتی ہے کہ کس طرح پی ٹی آئی کو فنڈنگ کی گئی۔ پی ٹی آئی کے لیے زیادہ مشکل وقت کسے گردانا جانا چاہیے؟ کیا وہ وقت جب اسے اقتدار سے باہر کردیا گیا یا اب جب اس وقت کی اپوزیشن نے حکومت سنبھال لی ہے۔ اس تمام صورت حال میں نئی حکومت کے لیے مشکلات کیا ہوں گی اور اس نئی سیاسی گیم کے نتائج کیا ہوں گے؟ کس کو مات ہوگی اور کس کو شہ مات؟ کون اصلی بادشاہ بن کر ابھرے گا؟ یہ بڑا دلچسپ ہوگا۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ