پریڈ گراؤنڈ جلسہ: ’عمران خان سیاست سے جڑے رہنا چاہتے ہیں‘

تجزیہ کاروں کے خیال میں حکومت کھو دینے اور اسٹیبلشمنٹ سے متعلق مخالفانہ سیاسی حکمت عملی کے بعد عمران خان کے پاس احتجاجی تحریک کو جاری رکھنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان آج شام اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ کرنے جارہے ہیں، جس کے لیے تیاریاں گذشتہ روز یعنی جمعے کی شام سے ہی شروع کردی گئی تھیں۔

تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اقتدار سے بے دخل کیے جانے کے بعد پی ٹی آئی چیئرمین اس سے قبل بھی احتجاجی جلسے اور لانگ مارچ کرچکے ہیں۔ جس کے حوالے سے تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ عمران خان کے پاس اپنے احتجاج کو جاری رکھنے کی وجوہات میں سب سے اہم ’اپنے پیروکاروں کو متحرک رکھنے‘ کے علاوہ ’خود کو پاکستانی سیاست کے ساتھ جوڑے رکھنا‘ ہے۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں حکومت کھو دینے اور اسٹیبلشمنٹ سے متعلق مخالفانہ سیاسی حکمت عملی کے بعد عمران خان کے پاس احتجاجی تحریک کو جاری رکھنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

اسی طرح بعض تجزیہ کار عمران خان اور ان کی جماعت کے لیے ملک گیر سطح پر احتجاج کو خارج از امکان قرار دیتے ہیں، جس کے باعث وہ مزاحمتی تحریک کو مقامی سطح تک محدود رکھ رہے ہیں۔

عمران خان نے چند روز قبل سوشل میڈیا پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں دو جولائی کو احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

اپنے پیغام میں عمران خان نے راولپنڈی اور اسلام آباد کے عوام کو ہفتے کی شام پریڈ گراؤنڈ کے جلسے میں شرکت کرنے کو کہا اور ملک کے دوسرے بڑے شہروں کے نام لیتے ہوئے انہوں نے وہاں کے لوگوں کو مقامی طور پر احتجاج منعقد کرنے کا کہا تھا۔

’عمران خان کسی کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں‘

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں کو مل کر مسائل کا حل نکالنا چاہیے ’لیکن عمران خان کسی کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں۔‘

پی ٹی آئی کے جلسے پر رد عمل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ’عمران خان سب کو برا بھلا کہتے رہے۔ ملک میں امن دشمنوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ایک جگہ سرجوڑ کر بیٹھیں، ایک فرد انتشار پھیلانے پر تلا ہوا ہے۔‘

رانا ثنا اللہ نے کہا: ’عمران خان کچھ کر سکتا تو پچھلے چار سال میں کرلیتا، قوم ان کا ساتھ دے گی جو ملک کو اتفاق رائے کے ساتھ آگے لے جارہے ہیں، یہ جلسوں اور لانگ مارچ کی دھمکیاں دیتے ہیں۔‘

ملکی حالات پر انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں نئے انتخابات کے بارے میں بھی سوچا۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے اچھی ڈیل کی جا سکتی تھی لیکن سابق حکومت نے ایسا نہیں کیا۔ ’آئی ایم ایف نے ہمیں تگنی کا ناچ نچا رہا ہے۔ ہم ایک ارب ڈالر کے لیے مزاکرات کر رہے ہیں۔‘

پریڈ گراؤنڈ جلسے کی تیاریاں

آج ہونے والے جلسے سے قبل پی ٹی آئی چیئرمین نے جمعے کو رات گئے پریڈ گراؤنڈ کا دورہ کیا اور جلسے کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔

عمران خان کی پریڈ گراؤنڈ میں آمد پر تحریک انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد بھی وہاں موجود رہی، جنہوں نے عمران خان کے حق میں اور موجودہ حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

اس موقعے پر سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل اسد عمر نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ’عمران خان ہفتے کی شام راولپنڈی کے علاقے رحمان آباد سے ایک جلوس کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ پہنچیں گے، جہاں بعد ازاں وہ جلسے سے خطاب کریں گے۔‘

پریڈ گراؤنڈ وہی مقام ہے جہاں رواں برس 27 مارچ کو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے ایک جلسے سے خطاب کے دوران ایک کاغذ لہراتے ہوئے اپنی حکومت کے خلاف مبینہ غیر ملکی سازش کا انکشاف کیا تھا۔

بعد ازاں قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد اس سال اپریل میں پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت ختم ہوئی۔

وفاقی سطح پر حکومت گنوانے کے بعد عمران خان نے ملک کے مختلف حصوں میں جلسوں سے خطاب کیا۔

تحریک انصاف کے سربراہ نے تقریباً ایک درجن سیاسی جماعتوں پر مشتمل موجودہ حکومت کے خلاف فیصلہ کن احتجاج کے لیے 25 مئی کو ’حقیقی آزادی مارچ‘ کی کال دی تھی، جس کے آغاز کے لیے انہوں نے خیبر پختونخوا میں اپنی جماعت کی حکومت ہونے کے باعث پشاور کا انتخاب کیا۔

پشاور سے مارچ کی قیادت کرتے ہوئے عمران خان 26 مئی کو علی الصبح وفاقی دارالحکومت پہنچے، جہاں انہوں نے ڈی چوک کا رخ کیا، تاہم شرکا کی کم تعداد اور بعض ناخوشگوار واقعات پیش آنے کے باعث انہوں نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

ڈی چوک پر احتجاج کا اختتام کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین نے چھ روز بعد دوبارہ اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا تھا، تاہم اس کے بعد سے بڑے پیمانے پر کوئی احتجاج منعقد نہیں کیا جا سکا۔

آزادی لانگ مارچ کے بعد سابق وزیراعظم کچھ عرصہ پشاور میں ہی مقیم رہے اور اس دوران انہوں نے خیبر پختونخوا میں بونیر اور چارسدہ سمیت بعض دیگر شہروں میں احتجاجی جلسوں سے خطاب کیا۔

گذشتہ ماہ كے دوران بھی عمران خان کی کال پر پاکستان تحریک انصاف نے ملک کے مختلف شہروں میں موجودہ حکومت، اس کی پالیسیوں، مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خلاف احتجاج کا اہتمام کیا تھا۔

آج پریڈ گراؤنڈ میں منعقد ہونے والا جلسہ بھی تحریک انصاف کے حکومت مخالف احتجاج کا حصہ ہے۔

احتجاج کے مقاصد کیا ہیں؟

پاکستان کے سیاسی حالات پر نظر رکھنے والے ماہرین کے خیال میں عمران خان کے بار بار سڑکوں پر آنے کا مقصد اپنے پیروکاروں اور پاکستانی عوام کو اپنے ایجنڈے کی یاد دہانی کروانا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر قمر چیمہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’عمران خان عوام سے رابطہ نہیں توڑنا چاہتے، اسی لیے وقفے وقفے سے مقامی سطح پر چھوٹے چھوٹے احتجاجوں کا اہتمام کر رہے ہیں۔‘

بقول ڈاکٹر قمر چیمہ: ’وہ نہیں چاہتے کہ پاکستانی عوام وہ سب کچھ بھول جائیں جو وہ (عمران خان) ایک لمبے عرصے سے کہتے آئے ہیں۔'‘

اسی طرح سیاسیات كے استاد پروفیسر ڈاكٹر رسول بخش رئیس کے خیال میں عمران خان عوام کو سڑکوں پر بار بار لا کر متحرک رکھنا چاہتے ہیں، جس کا ایک خاص مقصد ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کے سربراہ عوام اور خصوصاً اپنے پارٹی ورکرز کو اس وقت کے لیے تیار کر رہے ہیں جب وہ (عمران خان) اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ براہ راست تصادم کا راستہ اختیار کریں گے۔‘

ڈاکٹر رسول بخش رئیس کے مطابق: ’یہ تھوڑے تھوڑے عرصے بعد احتجاج کروانا عمران خان کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تصادم کو ناگزیر سمجھتے ہیں۔‘

ان کے خیال میں: ’اگر نومبر میں کوئی غیر معمولی کام ہو جاتا ہے تو یہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تصادم کے آغاز کی وجہ بن سکتا ہے۔‘

انہوں نے تصادم کی تھیوری کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان اس وقت اسٹیبلشمنٹ میں صرف ایک فرد واحد کی مخالفت کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ نیوٹرل واقعتاً نیوٹرل رہیں، نا کہ صرف دکھاوے کی حد تک۔‘

بقول ڈاکٹر رئیس بخش: ’اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل رہنے کی صورت میں عمران خان آئندہ انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کر کے حکومت بنا سکتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پنجہ آزمائی کے علاوہ عمران خان احتجاجوں کے ذریعے اپنے پارٹی ورکرز اور عوام کو آئندہ انتخابات کے لیے بھی تیار کر رہے ہیں۔‘

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عمران خان نے 27 جون کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام میں پاکستانی نوجوانوں کو تحریک انصاف کی ٹائیگر فورس میں شمولیت کی تلقین کی تھی۔

اسی پیغام میں انہوں نے عوام اور ٹائیگر فورس کے رضاکاروں کو آئندہ انتخابات کے لیے تیاری کی ہدایات بھی جاری کیں۔

عمران خان کی احتجاجی سیاست کی دوسری وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے رسول بخش رئیس نے کہا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی احتجاجی تحریک کے ذریعے قوم کو بتا رہے ہیں کہ پاکستانی فوج اور اس کے سربراہ کے بیانیوں میں فرق پایا جاتا ہے۔ وہ دراصل ادارے كو ایكسپوز كرنا چاہتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’عمران خان کی احتجاجی تحریک کا دوسرا مقصد موجودہ حکمرانوں خصوصاً شریف اور زرداری خاندانوں کی کرپشن اور نا اہلی کو عوام کے سامنے لانا ہے۔‘

دوسری جانب فوج نے بارہا یہ موقف پیش کیا کہ وہ سیاست سے دور رہنا چاہتی ہے اور سیاست میں اس کا کوئی کردار نہیں۔

دوسری جانب صحافی اور تجزیہ کار وجاہت مسعود کے خیال میں عمران خان پاکستانی سیاست کے ساتھ منسلک رہنے کی کوشش تو کر رہے ہیں، لیکن اب وہ ایک ’ہارے ہوئے کھلاڑی‘ ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ’عمران خان کی ذاتی سیاست ختم ہوچکی ہے اور اب ان کی باتیں پہلے جیسی پراثر اور پرکشش نہیں رہیں۔‘

بقول وجاہت مسعود: ’وہ ہار گئے ہیں اور اب اپنے بقا کی خاطر ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، لیکن اس میں بھی کامیاب ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہے ہیں۔‘

ان كے خیال میں پاكستان تحریک انصاف كے تمام احتجاجی جلسوں میں عوام كی شمولیت بہت كم تھی، جو ثابت كرتی ہے كہ وہ (عمران خان) پاكستانی سیاست سے ریلیونس (مطابقت) كھو چكے ہیں۔

ایک سوال كے جواب میں وجاہت مسعود کا کہنا تھا کہ عمران خان اپنے طور پر اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ نہیں کر سکتے، اس مقصد کے لیے انہیں کسی نہ کسی کی سپورٹ کی ضرورت ہو گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے پاس مانگے تانگے کا سیاسی سرمایہ ہے اور محض اس کی بنیاد پر وہ قطعاً اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج نہیں کر پائیں گے۔

صحافی اور تجزیہ کار رانا عظیم کے خیال میں عمران خان کا آج پریڈ گراؤنڈ میں ہونے والا جلسہ ان کے سیاسی کیریئر کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پریڈ گراؤنڈ کے جلسے کے بعد عمران خان یا تو سیاسی طور پر دوبارہ زندہ ہو جائیں گے یا پھر سیاسی موت کا شکار ہو جائیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان