اسلام آباد کے بڑے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر رانا عمران نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو ان کی آنکھ کے مزید علاج کے لیے گذشتہ (منگل اور پیر کی درمیانی) رات تقریبا 12 بج کر 15 منٹ ہسپتال لایا گیا اور ان کا معائنہ تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہا۔
رانا عمران نے بتایا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کا علاج مکمل ہونے کے بعد تقریباً ایک بج کر 30 منٹ پر پمز ہسپتال سے واپس لے جایا گیا۔
جس وقت سابق وزیر اعظم کو پمز لایا گیا، اس وقت ہسپتال میں موجود ایک عہدے دار نے انڈپینڈنٹ اردو کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر منظر کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ’پمز کے کارڈیالوجی وارڈ کے اندر، باہر اور اردگرد سخت سکیورٹی تعینات تھی جبکہ متعلقہ شعبوں کی لائٹس بھی بند کر دی گئیں تھیں۔‘
پمز انتظامیہ نے منگل کو ایک بیان بھی جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ عمران خان کو آنکھ کےعلاج کے سلسلے میں ہسپتال لایا گیا تھا۔ ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کی جانب سے منگل کو علی الصبح جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا کہ سابق وزیر اعظم کو ان کی آنکھ کے علاج کے سلسلے میں فالو اپ کے طور 24 فروری کو پمز ہسپتال منتقل کیا گیا۔
یہ دوسری مرتبہ ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو پمز ہسپتال لایا گیا۔ اس سے قبل 29 جنوری کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے بتایا تھا کہ ’عمران خان کو آنکھوں کے طبی ماہرین کی تجویز پر 24 جنوری کی شب پمز ہسپتال لے جایا گیا تھا، جہاں انہیں ایک آنکھ کی تکلیف کے باعث پہلا انجیکشن لگایا گیا۔‘
بعدازاں سپریم کورٹ کی جانب سے فرینڈ آف کورٹ مقرر ہونے پر پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے عدالت میں جمع کی گئی رپورٹ میں بتایا تھا کہ عمران خان کے مطابق ان کی دائیں آنکھ کی بینائی 15 فیصد رہ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے شکایت کی تھی کہ جیل انتظامیہ نے ان کی آنکھ کی تکلیف کی طرف توجہ نہیں دی اور مناسب علاج کی سہولت مہیا نہیں کی۔
تاہم بعدازاں پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے بتایا تھا کہ سابق وزیراعظم کی متاثرہ آنکھ کی بینائی میں بہتری واقعہ ہوئی ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان اگست 2023 سے قید میں ہیں اور ان دنوں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں، جبکہ 9 مئی 2023 کے احتجاجی واقعات سے متعلق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کے تحت مقدمات بھی زیرِ سماعت ہیں۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کے بیان میں مزید بتایا گیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو پمز ہسپتال میں اینٹی وی ای جی ایف انٹرا وٹرئیل انجیکشن کی دوسری ڈوز دی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ انجیکشن لگانے سے قبل کارڈیالوجسٹ کنسلٹنٹ نے ایکوگارڈیوگرافی اور ای سی جی کیا جس کے نتائج نارمل آئے۔ ہسپتال میں قیام، پروسیجرکےدوران اور بعد میں بھی عمران خان کے وائٹلز مستحکم رہے جبکہ کنسلٹنٹ فزیشن نے بھی انہیں طبی طور پر مستحکم قرار دیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایگزیکٹیو ڈائریکٹڑ کے بیان میں کہا گیا کہ پمز اور شفا آئی ہسپتال کے کنسلٹنٹ اوپتھلمولوجسٹ اور کنسلٹنٹ وائٹریو ریٹینل سرجن کی رہنمائی میں پروسیجرعمل میں لایا گیا۔
’یہ عمل ڈے کیئر سرجری کے طور پر انجام دیا گیا، پروسیجر سے پہلے سپیشلسٹس کے بورڈ نے معائنہ کیا۔‘
ہسپتال اعلامیےکے مطابق معائنے کے بعد بانی پی ٹی آئی کو ضروری ہدایات، فالو اپ مشورے، نسخے اور دستاویزات کے ساتھ ڈسچارج کر دیا گیا۔
پی ٹی آئی کا ردعمل
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے منگل کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مطالبہ کیا کہ عمران خان کو ان کے اہل خانہ اور ذاتی معالجین کی موجودگی میں مکمل چیک اپ اور علاج کروایا جائے۔
بیرسٹر گوہر نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ انہیں ’آج صبح 2 بجے ایک میسج کے ذریعے بتایا گیا کہ خان صاحب کو پمز ہسپتال انجیکشن لگانے کے لیے لائے گئے تھے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس سلسلے میں پیشگی اطلاع نہیں تھی۔
آج صبح 2 بجے مجھے ایک میسیج کے ذریعے اتنا بتایا گیا کہ خان صاحب کو PIMS ہاسپٹل انجیکشن لگانے کیلیئے لائے گے تھے- مجھے پیشگی اطلاع نہیں تھی-
ہمارا مطالبہ آج بھی وہی ہے کہ خان صاحب کا شفا انٹرنیشنل ہاسپٹل میں اپنے ڈاکٹرز اور فیملی ممبرز کی موجودگی میں مکمل چیک اپ اور علاج ہو۔
— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) February 24, 2026
اس معاملے پر سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا ہے کہ ’ہم نے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن خاندان کو اس حوالے سے آگاہ نہیں کیا گیا، مکمل بلیک آؤٹ ہے۔ قانون کے مطابق کسی قیدی پر کوئی بھی پروسیجر کرنے سے پہلے خاندان کو مطلع کرنا ضروری ہے۔‘
عمران خان کے بین الاقوامی پریس ایڈوائزر سید ذوالفقار بخاری المعروف زلفی بخاری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بھیجے گئے بیان میں کہا کہ ’پاکستان تحریک انصاف کا موقف ہے کہ محض دو سطروں پر مشتمل ایک سرسری اور رسمی نوعیت کی وضاحت کسی تفصیلی اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ میڈیکل رپورٹ کا متبادل نہیں ہو سکتی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’عمران خان کی custodial status کے پیش نظر ان کے ذاتی معالج اور اہل خانہ کو ان تک رسائی دی جانا چاہیے۔ ’ان کے طبی علاج کے حوالے سے مسلسل غیر شفافیت عوام میں بے چینی میں اضافے کا باعث بن رہی ہے اور اس عمل پر مزید سوالات اٹھا رہی ہے۔‘
ذلفی بخاری نے کہا ہے کہ ’جب تک عمران خان کے ذاتی ڈاکٹروں یا اہل خانہ کو رسائی دے کر طبی صورت حال کی تصدیق نہیں کرائی جاتی، اس وقت تک حکام یا ہسپتال کی جانب سے دیا جانے والا ہر بیان irrelevant اور محض قیاس آرائی کے زمرے میں آتا ہے۔‘
اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی صحت سے متعلق سہولیات پر پی ٹی آئی متعدد بار شکوہ اور عدم اطمینان کا اظہار کر چکی ہے۔ گذشتہ ماہ بھی خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ عمران خان کو آنکھوں کا سنگین مرض ’سنٹرل ریٹائنل وین اوکلوژن (CRVO)‘ لاحق ہو سکتا ہے اور شوکت خانم ہسپتال کی انتظامیہ نے ان کے طبی معائنے اور ان تک رسائی کی اجازت کے لیے درخواست کی ہے۔
اس کے بعد سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں ہونے لگیں۔
بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹ کے سپریم کورٹ میں جمع ہونے کے اگلے ہی روز پی ٹی آئی کے پارلیمینٹیرینز نے پارلیمنٹ ہاؤس اور سپریم کورٹ کی عمرات کے باہر پر امن دھرنا دیا تھا۔
ان کا مطالبہ تھا کہ عمران خان کا علاج ان کے اہل خانہ کی موجودگی میں ذاتی معالجین سے کروایا جائے۔
پارلیمینٹیرینز کے دھرنے کے ساتھ ہی پی ٹی آئی کے کارکنوں میں خیبر پختونخوا سے دوسرے صوبوں کو جانے والی شاہراہوں پر دھرنا دیا جو چار دن تک جاری رہا۔
پی ٹی آئی ورکرز کے دھرنے سے خیبر پختونخوا اور ملک کے دوسرے حصوں کے درمیان سفر کرنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اب تک حکومت نے عمران خان کا علاج اپنی مرضی سے کروایا ہے اور تحریک انصاف یا خاندان کے مطالبات کہ انہیں ان کی مرضی کے ہسپتال میں علاج اور دوران علاج خاندان کی موجودگی پر کان نہیں دھرے ہیں۔