’ڈیجیٹل دہشت گردی‘ کیس: پاکستان کے 7 صحافیوں، یوٹیوبرز کو عمر قید کی سزا

سزائیں پانے والوں میں صحافی صابر شاکر، معید پیرزادہ، شاہین صہبائی، وجاہت سعید خان، یوٹیوبرز اور سابق فوجی افسر عادل راجہ، حیدر رضا مہدی اور اکبر حسین شامل ہیں۔

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے دو جنوری 2025 کو معید پیرزادہ، عادل راجہ اور صابر شاکر سمیت دیگر کو عمر قید کی سزا سنائی ہے (تصاویر: معید پیرزادہ یوٹیوب چینل، عادل راجہ فیس بک اکاؤنٹ، صابر شاکر فیس بک اکاؤنٹ)

اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے جمعے کو سات صحافیوں اور سوشل میڈیا تبصرہ نگاروں کو ان کی غیر موجودگی میں عمر قید کی سزا سنا دی۔

عدالت نے صحافی صابر شاکر، معید پیرزادہ، شاہین صہبائی، وجاہت سعید خان، یوٹیوبرز اور سابق فوجی افسران عادل راجہ، حیدر رضا مہدی اور سید اکبر حسین کو ’نو مئی ڈیجیٹل دہشت گردی‘ کے مقدمات میں دو، دو بار عمر قید کی سزائیں سنائی ہیں۔ 

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے ملزمان پر دوسری دفعات کے تحت مجموعی طور پر 35 سال قید اور مجموعی طور پر 15 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔  

وفاقی دارالحکومت کے تھانہ آبپارہ میں دائر مقدمے میں صابر شاکر، معید پیرزادہ اور سید اکبر حسین کو جبکہ تھانہ رمنا میں درج ایف آئی آر میں شاہین صہبائی، حیدر مہدی اور وجاہت سعید کو سزائیں سنائی گئیں۔

استغاثہ نے مجرموں پر نو مئی کے واقعات کے حوالے سے ریاستی اداروں کے خلاف ’ڈیجیٹل دہشت گردی‘ کا الزام عائد کیا تھا۔

عدالت نے ٹرائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے آج سنایا گیا۔ پراسکیوشن کی جانب سے مجموعی طور پر 24 گواہان پیش کیے گئے۔ 

عدالت نے پراسکیوشن کی استدعا پر ملزمان کی غیر موجودگی میں ٹرائل مکمل کیا۔ 

عدالت نے واضح کیا تھا کہ انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت ملزمان کی عدم موجودگی میں ٹرائل کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکم نامے میں کہا گیا کہ ’مجرم کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ اسے سات دن کے اندر اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔‘

عدالت نے متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوز کو ہدایت کی ہے کہ مجرموں کو ’دستیاب ہوتے ہی گرفتار کرکے سزا پر عمل درآمد کے لیے جیل بھیجا جائے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو نے صابر شاکر اور وجاہت سعید سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا، تاہم ان کا تاحال جواب موصول نہیں ہو۔ 

جولائی 2023 میں پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے فوج اور اس کی قیادت پر مبینہ فیک نیوز کے ذریعہ تنقید کرنے والوں کے لیے ’ڈیجیٹل دہشت گرد‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی۔

انہوں نے انتہا پسندوں اور ’ڈیجیٹل دہشت گردوں‘ کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’دونوں کا ہدف فوج ہے۔ یہ دہشت گرد فوج، فوج کی قیادت، فوج اور عوام کے رشتے کو کمزور کرنے کے لیے فیک نیوز کی بنیاد پر حملے کر رہے ہیں۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور عالمی میڈیا واچ ڈاگ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے جون 2023 میں ان مقدمات کے اندراج پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی حکام کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان