ایک تازہ تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ انتہائی طویل دورانیے کی دوڑ (ایکسٹریم اینڈیورنس رننگ) خون کے سرخ خلیات کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور بڑھاپے کے عمل کو تیز کر سکتی ہے۔
دوڑ جسمانی ورزش کی سب سے زیادہ تحقیق شدہ اقسام میں سے ایک ہے، جس کے دل اور خون کی گردش پر ثابت شدہ فوائد ہیں، اور یہ بالواسطہ طور پر عمر بڑھنے کے عمل پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔
بڑے پیمانے کی سابقہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ہفتہ وار 150 منٹ کی معمولی دوڑ صحت مند عمر (healthspan) میں بہتری اور لمبی عمر کے نمایاں فوائد فراہم کرتی ہے۔
تاہم حالیہ تحقیق سے اشارہ ملتا ہے کہ طویل فاصلے تک شدت سے دوڑنا خون کے سرخ خلیات کے ٹوٹنے (hemolysis) کا سبب بن سکتی ہے اور ممکنہ طور پر خون کی کمی (انیمیا) پیدا کر سکتی ہے۔ اس کے اسباب اور طویل مدتی اثرات اب تک واضح نہیں تھے۔
اب سائنس دانوں نے شواہد پیش کیے ہیں کہ الٹرا میراتھون ایتھلیٹس کے خون کے سرخ خلیات لمبی دوڑ کے بعد کم لچکدار ہو جاتے ہیں، جس سے ان کی آکسیجن مؤثر طریقے سے منتقل کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
ان میں پورے جسم میں سوزش کی علامات بھی دیکھی گئیں اور ایسے مالیکیولز میں کمی بھی نوٹ کی گئی جو ڈی این اے کو نقصان سے بچاتے ہیں۔
مطالعے کے مرکزی مصنف ٹریوس نیمکوف، جن کی تحقیق جریدے Blood Red Cells & Iron میں شائع ہوئی، نے وضاحت کی کہ اس طرح کی دوڑ میں شرکت جسم میں عمومی سوزش اور خون کے سرخ خلیات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے عالمی معیار کی 40 کلومیٹر طویل Martigny-Combes à Chamonix race اور 171 کلومیٹر طویل Ultra Trail de Mont Blanc میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کے دوڑ سے پہلے اور بعد میں خون کے نمونے لیے۔ 23 رنرز کے پلازما اور خون کے سرخ خلیات میں ہزاروں پروٹینز، لپڈز، میٹابولائٹس اور دیگر عناصر کا تجزیہ کیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
نتائج سے معلوم ہوا کہ رنرز کے خون کے سرخ خلیات میں مستقل طور پر نقصان کے آثار موجود تھے۔ 40 کلومیٹر کی دوڑ کے بعد جو تبدیلیاں دیکھی گئیں، وہ 171 کلومیٹر کی زیادہ کٹھن دوڑ میں مزید شدید ہو گئیں۔
محققین کے مطابق یہ تبدیلیاں بڑھاپے کے عمل کو تیز کر سکتی ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جوں جوں دوڑ کا فاصلہ بڑھتا ہے، خون کے خلیات کا نقصان اور جسم میں جمع ہونے والی خرابی بھی بڑھتی جاتی ہے۔
ڈاکٹر نیمکوف کے مطابق، ’میراتھن اور الٹرا میراتھن کے فاصلے کے درمیان کسی مقام پر نقصان نمایاں طور پر بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ جسم کو اس نقصان کو ٹھیک ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے، آیا اس کے طویل مدتی اثرات ہوتے ہیں یا نہیں، اور اگر ہوتے ہیں تو وہ مثبت ہیں یا منفی۔
محققین کو امید ہے کہ آئندہ مطالعات نہ صرف کھلاڑیوں کی کارکردگی بہتر بنانے بلکہ طویل دورانیے کی ورزش کے ممکنہ منفی اثرات کم کرنے کی حکمت عملی وضع کرنے میں مدد دیں گے۔
مزید برآں، الٹرا میراتھن رنرز پر تحقیق محفوظ کیے گئے خون کی شیلف لائف بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
مطالعے کے ایک اور مصنف اینجلو ڈی الیساندرو، جو University of Colorado Anschutz سے وابستہ ہیں، کے مطابق یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ انتہائی برداشت والی ورزش خون کے سرخ خلیات کو ایسے طریقہ کار کے ذریعے تیزی سے بڑھاپے کی طرف دھکیلتی ہے جو خون کو ذخیرہ کرنے کے دوران دیکھی جانے والی تبدیلیوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔
© The Independent