جب گذشتہ موسم گرما میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوجے ہوئے ہاتھوں اور ٹخنوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو میں خود کو ان تصویروں میں دیکھنے سے خود کو روک نہ سکی۔
صدر کو ’کرونک وینس انسفیشنسی‘ (Venous Insufficiency) کی تشخیص ہوئی، جو خون کی نالیوں کی ایک عام بیماری ہے اور زیادہ تر بڑی عمر کے افراد کو متاثر کرتی ہے۔ امریکہ میں کروڑوں افراد، یعنی تقریباً ہر چار میں سے ایک شخص، اس بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے، جن میں اکثریت پچاس برس سے زائد عمر کے افراد کی ہے۔
وینس انسفیشنسی کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کی رگیں کمزور ہو جاتی ہیں، جس کے باعث ٹانگوں میں خون کی روانی متاثر ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بلند فشارِ خون، سوجن اور بعض صورتوں میں زخم بھی ہو سکتے ہیں۔ صدر کے معالج ڈاکٹر شان باربیبیلا کے مطابق اس بیماری کے باعث صدر ٹرمپ کی نچلی ٹانگوں میں ہلکی سوجن پائی گئی ہے۔
مگر میں، 32 سال کی عمر میں، ان پانچ فیصد بالغ افراد میں شامل ہوں جن کی عمر 18 سے 65 سال کے درمیان ہے اور جو اس بیماری میں مبتلا ہیں اور یہ بیماری میرے ساتھ نوعمری سے چلی آ رہی ہے۔
اکثر اوقات یہ بیماری میرے لیے شرمندگی کا باعث بنتی ہے۔ سرخ، جامنی اور نیلی رگیں میرے پاؤں، ٹخنوں اور ٹانگوں پر جال کی طرح پھیلتی دکھائی دیتی ہیں۔
بچپن میں میرے ماہرِ جلد نے پہلے پہل ٹخنوں کے اندرونی حصے پر نمودار ہونے والی سرخ لکیروں کو مکڑی کے کاٹنے کا نتیجہ سمجھا۔ بدقسمتی سے وہ مکڑی کے کاٹے نہیں تھے، اور وہ کبھی ختم بھی نہیں ہوئے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میری رگیں مزید نمایاں اور بڑی ہوتی گئیں۔ پہلے ٹانگوں کے اندرونی حصے متاثر ہوئے اور پھر بیرونی جانب تک پھیل گئیں۔ پاؤں اور ٹخنوں پر موجود رگیں جامنی رنگ کے نیل کی طرح دکھائی دیتی ہیں۔
گذشتہ ایک دہائی میں یہ کیفیت مزید بگڑ گئی، جس کے باعث تصاویر میں اور پہلی ملاقاتوں کے دوران انہیں چھپانا مشکل ہوتا چلا گیا۔
میں نے یہاں تک سوچا کہ شاید ٹیٹو بنوا لوں، جیسا کہ بعض افراد مکڑی نما اور ابھری ہوئی رگوں کو سیاہی میں چھپا لیتے ہیں۔ مگر سینٹر فار وین ریسٹوریشن کے مطابق ایسا کرنے سے رگوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، خون بہنے یا انفیکشن کا خطرہ ہوتا ہے، اور وینس انسفیشنسی کا بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ ویسے بھی، میری والدہ مجھے کبھی معاف نہ کرتیں۔
چنانچہ میں نے سوشل میڈیا پر چھپانے کے فن میں مہارت حاصل کر لی، فلٹرز اور بلر ٹولز کے ذریعے نمایاں رگوں کو چھپانے لگی۔
تاہم حقیقت یہی ہے کہ یہ ایک موروثی بیماری ہے جس پر توجہ دینا ضروری ہے اور ماہرین کے مطابق اس سے نمٹنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کی جائیں۔
یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ٹانگوں کی رگوں میں موجود والو درست طریقے سے کام نہیں کرتے، جس کے باعث خون ٹانگوں میں جمع ہونے لگتا ہے اور دل کی طرف خون کی روانی سست ہو جاتی ہے۔
اس کے نتیجے میں درد، خارش اور سوجن پیدا ہو سکتی ہے، جو جلد کو خشک، نازک یا کھردرا بنا دیتی ہے۔ شدید صورتوں میں ٹانگوں پر تکلیف دہ زخم بھی بن سکتے ہیں۔
وینس انسفیشنسی کے شکار افراد میں ابھری ہوئی یا مکڑی نما رگیں بھی بن سکتی ہیں، اگرچہ ہر مریض میں ایسا ہونا ضروری نہیں۔
اگرچہ کم عمر افراد میں یہ بیماری نسبتاً کم پائی جاتی ہے، مگر ییل نیو ہیون ہیلتھ کے ہارٹ اینڈ واسکولر سینٹر سے وابستہ انٹرونشنل کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر راب اٹاران نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ انہوں نے 19 سال کی عمر کے مریضوں کا بھی علاج کیا ہے اور خواتین میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا: ’اگر آپ خاتون ہیں اور ایک جگہ ابھری ہوئی رگیں ہیں تو تقریباً 50 فیصد امکان ہے کہ دوسری جگہ بھی ہوں گی۔ مردوں میں یہ شرح کچھ کم ہے، مگر پھر بھی خاصی زیادہ ہے۔‘
دیگر عوامل میں کم حرکت، فیملی ہسٹری، موٹاپا، حمل، سگریٹ نوشی، ڈیپ وین تھرومبوسس یعنی گہری رگ میں خون کا لوتھڑا بننا، اور کرسی پر بیٹھ کر سونا شامل ہیں۔
یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ 79 سالہ صدر میں کون سے عوامل اس بیماری کا سبب بنے، تاہم وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ نے جولائی میں بتایا کہ سوجن محسوس ہونے پر صدر کا ’انتہائی احتیاط‘ کے تحت طبی معائنہ کیا گیا۔
انہوں نے ڈاکٹر باربیبیلا کا میمو پڑھتے ہوئے کہا: ’صدر کا مکمل طبی معائنہ کیا گیا، جس میں وینس سے متعلق تشخیصی ٹیسٹ شامل تھے۔ دونوں ٹانگوں کے وینس ڈوپلر الٹراساؤنڈ کیے گئے جن سے کرونک وینس انسفیشنسی کی تشخیص ہوئی، جو ایک بے ضرر اور عام بیماری ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’تمام نتائج معمول کے مطابق تھے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وینس انسفیشنسی کا مکمل علاج ممکن نہیں، مگر طرز زندگی میں تبدیلی اور طبی طریقہ علاج سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ سب سے عام طریقہ کمپریشن جرابیں یا سٹاکنگز پہننا ہے، جو سوجن کم کرتی ہیں، خون کو دل کی طرف واپس دھکیلتی ہیں اور درد میں کمی لاتی ہیں۔
براؤن سرجیکل ایسوسی ایٹس سے وابستہ ویسکیولر سرجن ڈاکٹر رچرڈ مینا کے مطابق اس کے علاوہ بھی جدید طریقے موجود ہیں۔
انہوں نے کہا: ’زیادہ تر ترقی کیتھیٹر یا کم سے کم جراحی طریقوں میں ہوئی ہے۔ حرارت، لیزر، جھاگ اور گوند جیسی انجیکشنز استعمال کی جاتی ہیں، تاکہ متاثرہ رگ کو بند کیا جا سکے اور خون دل کی طرف بہتر انداز میں واپس جا سکے۔‘
جمالیاتی طریقے بھی موجود ہیں، جن کے ذریعے رگوں کی نمایاں شکل کم کی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر مکڑی نما رگوں میں ’سکلیرسنٹس‘ نامی دوا انجیکٹ کرتے ہیں یا مائیکروفلیبیکٹومی کے ذریعے رگیں نکال دیتے ہیں۔
اوچسنر ہیلتھ کے ویسکیولر سرجن ڈاکٹر چارلس لیٹ ہیڈ کے مطابق: ’یہ تمام طریقے کم سے کم تکلیف دہ ہوتے ہیں، مریض کلینک آتا ہے اور واپس چلا جاتا ہے، اور جلد ہی اپنی ٹانگوں سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔‘
تاہم یہ طریقے مہنگے ہیں اور اکثر انشورنس میں شامل نہیں ہوتے۔ نیویارک میں بعض علاج کی قیمت دو ہزار ڈالر سے بھی زیادہ ہے، اور بعض اوقات ایک سے زیادہ بار علاج کروانا پڑتا ہے۔
ماہرین کے مطابق فی الحال متحرک رہنا، کمپریشن جرابیں پہننا اور صحت کا خیال رکھنا بہترین راستہ ہے۔ دوڑنا اور وقفے وقفے سے چلنا اس بیماری کے لیے مفید ہے۔
آخرکار، میرے لیے سب سے بڑا سبق یہ رہا کہ باقاعدہ طبی معائنہ نہایت ضروری ہے، کیونکہ ہر شخص کا طبی سفر مختلف ہوتا ہے۔
جیسا کہ ڈاکٹر مینا نے کہا: ’ہر انسان کی اپنی طبی کہانی ہوتی ہے، حتیٰ کہ رگوں کے معاملے میں بھی،‘
© The Independent