نیپاہ انتہائی جان لیوا وائرس ہے جسے عالمی ادارہ صحت نے انتہائی خطرناک جراثیم کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ اس وائرس کی خوفناک بات یہ ہے کہ فی الحال دنیا میں اس کی کوئی ویکسین یا مخصوص علاج موجود نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ وائرس بنیادی طور پر جانوروں، خاص طور پر چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔
اس وائرس کی حالیہ وبا انڈیا میں پھوٹی ہے۔ دسمبر سے اب تک دو کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے، جس کے بعد تھائی لینڈ اور انڈونیشیا جیسے ایشیائی ممالک میں تشویش پیدا کر دی ہے، جنہوں نے مسافروں کی سکریننگ شروع کر دی ہے۔
علامات اور تشخیص کی مشکلات
نیپاہ وائرس کی تشخیص ابتدائی مرحلے میں بہت مشکل ہوتی ہے کیونکہ اس کی علامات عام موسمی نزلہ زکام سے ملتی جلتی ہیں۔ امریکی ادارے ’سی ڈی سی‘ کے مطابق وائرس کے جسم میں داخل ہونے کے بعد علامات ظاہر ہونے میں چار سے 21 دن لگ سکتے ہیں۔
مریض کو ابتدائی طور پر بخار، سر درد، پٹھوں میں شدید درد، قے اور گلے کی سوزش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کچھ مریضوں میں نمونیا بھی ہو سکتا ہے۔ بیماری بڑھنے پر سب سے خطرناک مرحلہ ’دماغی سوزش‘ (Encephalitis) کا ہوتا ہے، جس میں مریض کو ذہنی الجھن، دورے پڑنے اور 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر کوما میں جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آغاز اور اموات کی شرح
نیپاہ وائرس میں اموات کی شرح تشویشناک حد تک زیادہ ہے جو وبائی لہر اور وائرس کی قسم کے لحاظ سے 40 سے 75 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ صحت یاب ہونے کے مہینوں یا سالوں بعد بھی وائرس دوبارہ متحرک ہو سکتا ہے۔
نیپاہ وائرس کا پہلا کیس 1998 می ملائشیا کے علاقے نیپاہ میں سامنے آیا تھا، جس سے 108 اموات ہوئی تھیں۔ اس علاقے میں نیپاہ نام کا دریا ہے جس کی وجہ سے وائرس کا نام پڑ گیا۔
تب سے اب تک انڈیا، فلپائن، سنگاپور اور ملائیشیا سمیت ایشیا کے مختلف ممالک میں تقریباً ہر سال نیپاہ کی وبائیں پھوٹتی رہی ہیں۔ بنگلہ دیش میں اس وائرس نے کئی بار سر اٹھایا ہے اور انڈیا میں اس کا پہلا کیس 2001 میں مغربی بنگال میں رپورٹ ہوا تھا، جس کی سرحد بنگلہ دیش سے ملتی ہے۔
بنگلہ دیش میں اس وائرس کا تعلق کھجور کا کچا رس نکالنے کے عمل سے جوڑا گیا ہے، کیونکہ ’فروٹ بیٹس‘ (پھل کھانے والی چمگادڑیں) اکثر کھجور کے درختوں میں بسیرا کرتی ہیں۔
سال 2018 میں انڈین ریاست کیرالہ میں نپاہ وائرس سے کم از کم 17 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ 2023 میں مزید دو افراد کی جان گئی۔
یہ کیسے پھیلتا ہے؟
یہ ایک ’زونوٹک‘ (zoonotic) وائرس ہے، یعنی یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کے پھیلاؤ کے تین بڑے طریقے ہیں:
وائرس کی قدرتی میزبان پھل کھانے والی بڑی چمگادڑیں ہیں۔ اگر انسان چمگادڑ کا جھوٹا پھل کھا لیں یا ان کے فضلے سے آلودہ کھجور کا کچا رس پی لیں تو وہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
گھریلو جانوروں سے بھی یہ وائرس انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔
متاثرہ مریض کے تھوک اور پسینہ وغیرہ سے بھی نیپاہ خاندان کے افراد میں پھیل سکتا ہے۔
احتیاط ہی علاج ہے
چونکہ کوئی دوا موجود نہیں، اس لیے احتیاط لازمی ہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ پھلوں کو اچھی طرح دھو کر اور چھیل کر کھائیں، جانوروں کے کترے ہوئے پھل ہرگز استعمال نہ کریں، اور کھجور کا کچا رس پینے سے گریز کریں۔ مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد ماسک اور دستانے پہنیں اور ہاتھ بار بار دھوئیں۔