انڈیا میں نیپاہ وائرس سے اموات کے بعد پاکستان کے داخلی راستوں پر سکریننگ کی ہدایت

بارڈر ہیلتھ سروسز پاکستان کی ایڈوائزری میں کہا گیا کہ انڈیا میں وائرس کے پھیلاؤ نے سرحدوں پر احتیاطی اور نگرانی کے اقدامات کو سخت کرنا ناگزیر بنا دیا ہے۔

بارڈر ہیلتھ سروسز پاکستان (بی ایچ ایس پی) نے بدھ کو ایک ایڈوائزری جاری کی جس میں نیپاہ وائرس کے سرحد پار پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملک کے داخلی راستوں پر تمام مسافروں کی سکریننگ کا حکم دیا گیا ہے۔

انڈیا کی ریاست مغربی بنگال میں نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ نے تھائی لینڈ اور انڈونیشیا جیسے ایشیائی ممالک میں تشویش پیدا کر دی ہے، جنہوں نے مسافروں کی سکریننگ شروع کر دی ہے۔

انڈیا کے مغربی بنگال میں دسمبر سے اب تک دو کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے، جو اطلاعات کے مطابق طبی عملے کے ارکان میں سامنے آئے ہیں۔

نیپاہ، جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا وائرس ہے اور جس کی پہلی بار 1990 کی دہائی میں ملائیشیا میں پھیلنے والی ایک وبا کے دوران شناخت ہوئی تھی، پھل کھانے والی چمگادڑوں، خنزیروں اور انسان سے انسان میں رابطے کے ذریعے پھیلتا ہے۔

اس وائرس کی کوئی ویکسین نہیں ہے اور اس کی وجہ سے تیز بخار، دورے اور الٹیاں ہو سکتی ہیں۔ اس کا واحد علاج صرف ایسی طبی نگہداشت ہے جس سے پیچیدگیوں پر قابو پایا جا سکے اور مریض کو آرام مل سکے۔

وزارت قومی صحت کے ذیلی ادارے بی ایچ ایس پی نے بدھ کو ایک ایڈوائزری جاری کی جس میں کہا گیا کہ انڈیا میں وائرس کے پھیلاؤ نے سرحدوں پر احتیاطی اور نگرانی کے اقدامات کو سخت کرنا ناگزیر بنا دیا ہے۔

ایڈوائزری کے مطابق ’داخلی راستوں پر تعینات تمام انچارجز اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تمام آنے والے مسافروں، ٹرانزٹ مسافروں، عملے کے ارکان، ڈرائیوروں، ہیلپرز اور دیگر معاون عملے کی 100 فیصد سکریننگ کی جائے۔‘

’بارڈر ہیلتھ سروسز پاکستان کی جانب سے ہیلتھ کلیئرنس کے بغیر کسی بھی فرد کو پاکستان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

اس میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات تمام داخلی راستوں پر لاگو ہوں گے، جن میں بین الاقوامی ہوائی اڈے، بندرگاہیں اور زمینی سرحدیں شامل ہیں۔

بی ایچ ایس پی نے کہا کہ ہر مسافر کے ملک اور گذشتہ 21 دنوں کی مکمل سفری اور ٹرانزٹ تفصیلات کی لازمی تصدیق کی جائے گی، چاہے اس کی قومیت یا سفری حیثیت کچھ بھی ہو۔

ایڈوائزری میں کہا گیا کہ ’سکریننگ عملہ نیپاہ وائرس کے انفیکشن کی ابتدائی علامات کے لیے ہوشیار رہے گا، جن میں بخار، سر درد، سانس کی تکلیف اور اعصابی علامات جیسے ذہنی الجھن، غنودگی یا ہوش میں تبدیلی شامل ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس میں مزید کہا گیا کہ وہ افراد جو ’نیپاہ وائرس کے مشتبہ کیس کی تعریف کے مطابق‘ ہوں گے انہیں فوری طور پر داخلی راستے پر ہی علیحدہ کر دیا جائے گا، انہیں آگے جانے سے روک دیا جائے گا اور انفیکشن کی روک تھام اور کنٹرول (آئی پی سی) کے ضوابط کے مطابق سختی سے ان کی نگرانی کی جائے گی۔

اس میں کہا گیا کہ ’ایسے مشتبہ کیسز کو صوبائی اور ضلعی صحت کے حکام کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے فوری طور پر مختص کردہ آئسولیشن سینٹر یا بڑے ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔‘

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا تارڑ اپنی ایکس پوسٹ میں کہا ہے کہ انڈیا میں نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ معاملہ سنگین معلوم ہوسکتا ہے اور اس بارے میں بہت سی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی صحت