عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمعے کو کہا ہے کہ جان لیوا نیپاہ وائرس کا انڈیا سے باہر پھیلنے کا خطرہ کم ہے، اور جنوبی ایشیائی ملک کی جانب سے دو کیسز رپورٹ ہونے کے بعد ادارے نے اس کے سفر یا اس کے ساتھ تجارت پر پابندی کی سفارش نہیں کی۔
انڈیا میں انفیکشن کی تصدیق کے بعد ہانگ کانگ، ملائیشیا، سنگاپور، تھائی لینڈ اور ویت نام ان ایشیائی ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے اس ہفتے وائرس کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے ایئرپورٹ پر سکریننگ سخت کر دی ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے جمعے کو ایک ای میل میں بتایا، ’عالمی ادارہ صحت سمجھتا ہے کہ ان دو کیسز سے انفیکشن کے مزید پھیلنے کا خطرہ کم ہے۔‘ اور مزید کہا کہ انڈیا کے پاس اس طرح کی وبا کو روکنے کی صلاحیت موجود ہے۔
ادارے کے مطابق: ’ابھی تک (وائرس کی) انسان سے انسان میں منتقلی میں اضافے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔‘ ڈبلیو ایچ او نے مزید کہا کہ اس نے صحت کے انڈین حکام کے ساتھ رابطہ کیا ہے۔
تاہم ڈبلیو ایچ او نے وائرس سے مزید لوگوں کے متاثر ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا، جو انڈیا اور پڑوسی ملک بنگلہ دیش کے کچھ حصوں میں چمگادڑوں میں پایا جاتا ہے۔
After two nurses in West Bengal, India, tested positive for #Nipah virus infection, the central and state government health agencies have enhanced surveillance, laboratory testing, and field investigations.
— World Health Organization South-East Asia (@WHOSEARO) January 29, 2026
196 contact persons linked to the confirmed cases have been identified,… pic.twitter.com/l5miVTrZe7
پھل کھانے والی چمگادڑوں اور خنزیر جیسے جانوروں کے ذریعے پھیلنے والا یہ وائرس بخار اور دماغی سوزش کا سبب بن سکتا ہے۔ اس میں موت کی شرح 40 فیصد سے 75 فیصد تک ہے، اور اس کا کوئی علاج نہیں ہے، اگرچہ تیاری کے مراحل میں موجود ویکسینز کے ابھی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
یہ متاثرہ چمگادڑوں، یا ان کے آلودہ کیے ہوئے پھلوں سے انسانوں میں پھیلتا ہے، لیکن ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقلی آسان نہیں ہے کیوں کہ اس کے لیے عام طور پر متاثرہ افراد کے ساتھ طویل وقت تک رابطے میں رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
چھوٹے پیمانے پر وبائیں غیر معمولی نہیں ہیں اور وائرس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عام آبادی کے لیے خطرہ کم ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ انفیکشن کے ذریعے کو ابھی تک پوری طرح نہیں سمجھا جا سکا۔ اس صورت حال سے نیپاہ وائرس کی بیماری پھیلانے والے ترجیحی پیتھوجن کے طور پر درجہ بندی ہوتی ہے کیوں کہ اس کی کوئی لائسنس یافتہ ویکسین یا علاج نہیں ہے، اموات کی شرح زیادہ ہے، اور یہ خدشہ ہے کہ یہ شکل بدل کر زیادہ تیزی سے پھیلنے والی قسم بن سکتا ہے۔
نیپاہ وائرس انڈیا کے لیے نیا نہیں
مقامی حکام نے بتایا ہے کہ دسمبر کے آخر میں انڈیا کی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں متاثر ہونے والے دو ہیلتھ ورکرز کا ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔
انڈیا باقاعدگی سے نیپاہ انفیکشن کے اکا دکا واقعات رپورٹ کرتا ہے۔ خاص طور پر اس کی جنوبی ریاست کیرالہ میں، جسے وائرس کے لیے دنیا کے سب سے زیادہ خطرے والے علاقوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جہاں 2018 میں اس کے پہلی بار سامنے آنے کے بعد سے اب تک درجنوں اموات ہو چکی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ یہ انڈیا میں ریکارڈ ہونے والی ساتویں اور مغربی بنگال میں تیسری وبا ہے، جہاں 2001 اور 2007 میں وبائیں بنگلہ دیش کی سرحد سے متصل اضلاع میں آئی تھیں، جو تقریباً ہر سال وباؤں کی رپورٹ کرتا ہے۔