پاکستانی فوج نے جمعرات کو بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں آپریشن ردّ الفتنہ-1 کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے، جس کے دوران 216 عسکریت پسند مارے گئے جبکہ 36 عام شہری اور 22 سکیورٹی اہلکار بھی جان سے گئے۔
ہفتے (31 جنوری) کو بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے 12 سے زائد مقامات پر مربوط حملوں کی لہر نے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کو تقریباً بند کر دیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے ان حملوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا۔
بلوچستان، جس کی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں، گذشتہ کئی دہائیوں سے علیحدگی پسندی کا سامنا کر رہا ہے جس میں سکیورٹی فورسز، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور شہریوں پر حملے شامل ہیں۔ پاکستان نے حالیہ دنوں میں علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان کے مطابق ’انڈین حمایت یافتہ‘ عسکریت پسند عناصر کے خلاف ’ایک سلسلہ وار، تیز رفتار اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں کی گئیں، جو معصوم شہریوں، بشمول خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا کر امن و ترقی کو تباہ کرنا چاہتے تھے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آئی ایس پی آر کے مطابق گذشتہ ہفتے29 جنوری کو بلوچستان کے ضلع پنجگور اور ہرنائی کے مضافاتی علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں شروع کی گئیں، جس کے نتیجے میں 41 عسکریت پسند مارے گئے، جو ’انڈین پراکسی نیٹ ورکس سے تعلق رکھتے تھے۔ُ
بیان میں کہا گیا کہ ’بعد ازاں، بہادر سکیورٹی فورسز کی جارحانہ اور ثابت قدم کارروائیوں نے فتنہ ہند کے بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ اس کے بعد، دہشت گردوں کے سلیپر سیلز کو ختم کرنے کے لیے متعدد علاقوں میں وسیع پیمانے پر انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں شروع کی گئیں، جن میں مسلسل سرچ اور سینیٹائزیشن آپریشنز شامل تھے۔‘
مزید بتایا گیا کہ ’احتیاط سے کی گئی منصوبہ بندی، قابل عمل انٹیلی جنس اور مشترکہ عملدرآمد کے ذریعے پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مدد سے آپریشن ردّ الفتنہ-1 کے تحت مؤثر اور پرعزم کارروائی کی۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق ان مربوط کارروائیوں اور کلیئرنس آپریشنز کے نتیجے میں 216 عسکریت پسند مارے گئے، ’جس سے دہشت گرد نیٹ ورکس کی قیادت، کمانڈ اینڈ کنٹرول کے ڈھانچے اور آپریشنل صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق عسکریت پسندوں کے قبضے سے ’غیر ملکی ساخت کا اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور ساز و سامان بھی برآمد ہوئے۔ ابتدائی تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ ان انتہا پسند پراکسیوں کو منظم بیرونی معاونت اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی گئی تھی۔‘
بلوچستان پر حملہ کرنے والے عام دہشت گرد نہیں تھے، انڈیا ان کے پیچھے ہے: وزیر داخلہ محسن نقوی#IndependentUrdu #Balochistan #India #Attack #mohsinnaqvi pic.twitter.com/8y7T5fFu9A
— Independent Urdu (@indyurdu) February 1, 2026
فوج نے بتایا کہ ان کارروائیوں کے دوران خواتین اور بچوں سمیت 36 شہری اور سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 22 اہلکار بھی جان سے چلے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق: ’پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی کے تمام اقسام اور شکلوں کے خلاف حکومت پاکستان کے نیشنل ایکشن پلان کے تحت پرعزم ہیں اور دہشت گرد خطرات کے مکمل خاتمے تک انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔‘
وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں جاری آپریشن رد الفتنہ۔1 کی کامیابی پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی اور 216 دہشت گردوں کو مارنے پر سراہا۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے 36 عام شہریوں کی اموات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے جان سے جانے والے 22 سکیورٹی اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستانی قوم اپنے شہداء کی قربانی کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بلوچستان کے معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر دہشت گردوں نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ بلوچستان کی ترقی و خوش حالی اور عوام کے دشمن ہیں۔‘
ساتھ ہی انہوں نے ’دہشت گردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے‘ تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم بھی دہرایا۔