بلوچستان کے وزیر پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ اینڈ واسا سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا ہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) میں شامل انتہا پسند صوبے میں کام کرنے والی کمپنیوں سے کروڑوں روپے بھتہ لے رہے ہیں اور انہیں مذاکرات کے ذریعے قومی دھارے میں لانا ممکن نہیں ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ سکیورٹی ادارے موثر کارروائی کر رہے ہیں لیکن بی ایل اے کو جڑ سے اکھاڑنے میں رعایت کے باعث پوری طرح امن قائم نہیں ہوپارہا۔
سردار عبدالرحمان کھیتران کا کہنا تھا کہ ’بی ایل اے کے انتہا پسند اور ان کے حامی دشمن ملکوں کی حمایت سے صوبے میں ترقی کا راستہ روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انتہا پسند یہاں کام کرنے والی مائیننگ کمپنیوں، تعمیراتی اور ٹیکینکل کام کرنے والے اداروں سے کروڑوں روپے بھتہ وصول کر رہے ہیں۔
’وہ مذاکرات سے قومی دھارے میں آنے کو تیار نہیں۔ فوجی آپریشن سے بہت حد تک ان کا خاتمہ ہوا ہے لیکن جب ریاست ماں ہونے کا خیال کر کے ان پر ترس کھاتی ہے تو یہ اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لہٰذا جب تک ان کے خلاف موثر کارروائی نہیں ہوتی انہیں اسلحہ اٹھانے سے نہیں روکا جاسکتا ہے۔‘
بلوچستان کے وزیر کا کہنا تھا کہ ’ہماری صوبائی حکومت کی کارکردگی اتنی بہتر نہیں جو ہونی چاہیے۔ اس بار بھی وہاں ڈھائی ڈھائی سال کے لیے وزارت اعلیٰ کا فارمولا ہے۔ پہلے پیپلز پارٹی اب مسلم لیگ ن کا وزیر اعلی بنے گا۔
’لیکن جب تک اختیار جمہوری نمائندوں کو نہیں دیا جاتا کارکردگی بہتر سے بہترین نہیں ہوسکتی۔ خرابیوں سے متعلق ابھی کھل کر بات نہیں کر سکتا۔ لیکن کچھ دنوں میں اس بارے میں اپنا واضح موقف دوں گا۔‘
بلوچستان کے وزیر نے مزید کہا کہ گوادر اور سی پیک جیسے منصوبے بلوچستان میں جاری ہیں۔ ابھی ابتدا ہے جیسے جیسے یہ منصوبے مکمل ہوں گے مقامی لوگوں کو بھی اس کے فوائد حاصل ہوں گے۔
ان سے پوچھا گیا کہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بی ایل اے کو مقامی سرداروں کی حمایت بھی حاصل ہے اس میں کتنی صداقت ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’میں بھی سردار ہوں میرا علاقہ بارکھان ہے وہاں بی ایل اے نے دو بار واردات کی میں نے منہ توڑ جواب دیا۔ اب وہ اس طرف دیکھتے بھی نہیں۔ کون سا سردار ہے جو ان کی حمایت کر کے ریاست کے ساتھ دشمنی کرے گا؟ ترقی کا مخالف کوئی سردار نہیں۔
’بدقسمتی سے ماہ رنگ بلوچ جیسی خواتین کو ان انتہا پسندوں نے شیلڈ بنا رکھا ہے۔ وہ سرداری نظام کی مخالفت اور حقوق بلوچستان کے نام پر بلوچستان مخالف ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں۔
’ہم کہتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرو نوکریوں کے لیے امتحان دو تو کون روکتا ہے؟ کون انہیں تعلیم حاصل کرنے یا نوکری کرنے سے منع کرتا ہے۔ لیکن وہ کون سے حقوق مانگ رہے ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سردار کھیتران کے بقول: ’بلوچستان بہت بڑا صوبہ ہے جہاں آبادی کم لیکن فاصلے زیادہ ہیں۔ ایک ہزار ارب سالانہ ترقیاتی بجٹ میں سے آٹھ سو ارب تک سکیورٹی معاملات پر خرچ ہوجاتا ہے تو دو سو ارب روپے سے کتنی ترقی ہو سکتی ہے؟ ہماری ترقی کا دشمن کوئی اور نہیں ہم خود ہیں۔ ٹرینوں پر حملے سکولوں اور ہسپتالوں کو تباہ کرنا سڑکیں بنانے والوں کو اغوا کرنے سے وہاں کیا ترقی ہوگی؟‘
سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ ’افغانستان کا بارڈر بند ہونے سے معاشی نقصان اپنی جگہ لیکن دہشت گردی اور سمگلنگ میں بہت کمی ہوئی ہے۔ اس طرف سے نہ اسلحہ آسکتا ہے نہ ہی سمگلنگ ہوسکتی ہے۔ جس سے انتہا پسندی اور دہشت گردوں کی مالی معاونت بھی ختم ہورہی ہے۔
’کچھ دن پہلے کوئٹہ میں ہونے والے اجلاس میں میرے سامنے فیلڈ مارشل نے کہا کہ ہم انتہا پسندی اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑیں گے۔ وہ اس بارے میں سنجیدہ اقدامات دکھائی دیے انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپریشن وزیر اعظم کی اجازت سے ہورہا ہے ہم جو بھی کرتے ہیں اپنے وزیر اعظم کی اجازت سے کرتے ہیں۔‘
بی ایل اے (بلوچستان لبریشن آرمی) پاکستان اور امریکہ میں کالعدم عسکری تنظیم ہے۔ گیارہ اگست 2025 کو جاری امریکی محکمہ خارجہ کے اعلامیے میں کہا گیا کہ 2019 میں کالعدم بی ایل اے کو خصوصی طور پر نامزد ’عالمی دہشت گرد‘ قرار دیا گیا تھا، جبکہ اب مجید بریگیڈ کا نام بھی بی ایل اے کے ساتھ ’عالمی دہشت گرد فہرست‘ میں شامل ہے۔