کیلیفورنیا میں ایک فوجی اڈے کے باہر سابق فوجیوں کے ایک گروہ کی جانب سے نصب کیے گئے بل بورڈ کے ذریعے فوجیوں پر مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے کہنے پر اپنے اعلیٰ افسران کے غیر قانونی احکامات کو مسترد کریں۔
سان ڈیاگو نیول بیس کے باہر نصب اس بورڈ پر لکھا ہے: ’کُل وقتی فوجی اور نیشنل گارڈ: آپ پر غیر قانونی احکامات کو ماننے سے انکار کرنا فرض ہے۔‘
اس تحریر کے پس منظر میں برف پوش پہاڑوں کا منظر ہے جبکہ سامنے ایک عقاب دکھایا گیا ہے۔
باریو لوگان کے علاقے میں ہاربر ڈرائیو پر نصب یہ بل بورڈ تنظیم سان ڈیاگو ویٹرنز فار پیس نے لگایا ہے۔ اس تنظیم نے بدھ کو جاری ایک بیان میں کہا کہ اس کے ہیوج تھامسن میموریل چیپٹر نمبر 91 نے یہ بورڈ اس لیے لگایا ہے تاکہ حاضر سروس فوجیوں کو یاد دلایا جا سکے کہ اگر انہیں کوئی حکم قانون کے خلاف محسوس ہو تو اسے نہ ماننا ان کی ذمہ داری ہے۔
اس گروپ سے وابستہ ایک کارکن کی انسٹاگرام پوسٹ میں کہا گیا کہ ’اس مہم کا مقصد ہمارے بھائیوں، بہنوں، بیٹوں، بیٹیوں اور پوتے پوتیوں کو، جو فوج میں شامل ہو چکے ہیں، یہ یاد دلانا ہے کہ انہیں غیر قانونی احکامات ماننے سے انکار کرنے کا حق اور ذمہ داری دونوں حاصل ہیں اور جب وہ ایسا کریں گے تو ہم ان کی حمایت کریں گے۔‘
تنظیم نے جن احکامات کو غیر قانونی قرار دیا، ان میں ’امریکی شہروں میں نسل پرستانہ آئی سی ای کارروائیوں کی حمایت یا پرامن احتجاج دبانے‘ کے لیے فوج کی ’غیر آئینی‘ تعیناتی، ’غیر قانونی حکومت کی تبدیلی کے لیے جنگیں، جیسے وینزویلا یا ایران کے خلاف‘، اسرائیل کو ایسے ہتھیار بھیجنے کے احکامات جو فلسطینیوں کے خلاف استعمال ہوں اور ’شہریوں پر حملہ کرنے یا جنگی قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے احکامات‘ شامل ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ بورڈ اس سے پہلے لگائے گئے ایک اور پیغام کے بعد سامنے آیا ہے جو غیر سرکاری تنظیموں ڈیفائنس ڈاٹ آرگ اور وسل بلوور ایڈ ڈاٹ آرگ نے فلوریڈا کے شہر ٹیمپا میں میک ڈِل ایئر فورس بیس کے قریب لگایا تھا۔ اس مہم میں فوجیوں کو یاد دلایا گیا تھا کہ انہیں صرف قانونی احکامات کی تعمیل کرنی چاہیے۔
اس کے بعد سے کاراکاس میں نکولس مادورو کی حکومت کے خاتمے اور ایران کے خلاف مشترکہ امریکہ۔اسرائیل فضائی حملوں پر مبنی آپریشن ایپک فیوری کے آغاز نے فوج پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
یہ بل بورڈ اسی پیغام کو دہراتے ہیں جو واشنگٹن میں سابق فوجی تجربہ رکھنے والے کچھ سینیٹرز اور ارکانِ کانگریس نے گذشتہ سال ایک متنازع ویڈیو میں دیا تھا، جس میں انہوں نے مسلح افواج کے ارکان سے کہا تھا کہ وہ غیر قانونی احکامات ماننے سے انکار کریں۔
اس گروہ میں ایریزونا کے سینیٹر مارک کیلی، مشی گن کی سینیٹر ایلیسا سلوٹکن، کولوراڈو کے رکن کانگریس جیسن کرو، پنسلوینیا کے ارکان کرس ڈیلو زیو اور کرسی ہولاہان اور نیو ہیمپشائر کی رکن میگی گُڈ لینڈر شامل تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ویڈیو پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ان قانون سازوں پر بغاوت کا الزام لگایا اور کہا کہ یہ جرم ’موت کی سزا کے قابل‘ ہے۔
بعد میں محکمہ انصاف نے ایک گرینڈ جیوری کے ذریعے اس گروہ کے خلاف فرد جرم عائد کروانے کی کوشش کی، مگر یہ کوشش ناکام رہی۔
دفاعی امور کے وزیر پیٹ ہیگستھ نے بھی سابق نیوی پائلٹ مارک کیلی کو سرزنش کرنے اور انہیں ریٹائرڈ رینک کیپٹن سے تنزلی دینے کے ساتھ ان کی پینشن کم کرنے کی کوشش کی، تاہم عدالت نے اس اقدام کو روک دیا۔
سینیٹر کیلی نے اس کوشش کو صدر کی جانب سے ’اختیارات کا کھلے عام غلط استعمال‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا: ’پیٹ ہیگستھ کے لیے یہ کافی نہیں تھا کہ وہ مجھے سرزنش کریں اور میرا رینک کم کرنے کی دھمکی دیں، اب لگتا ہے کہ انہوں نے مجھے جرم میں ملوث قرار دلوانے کی بھی کوشش کی، صرف اس بات پر کہ میں نے ایسی بات کہی جو انہیں پسند نہیں آئی۔‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’امریکہ میں معاملات اس طرح نہیں چلتے۔‘
© The Independent