مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈے کہاں کہاں ہیں؟

ایک رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے تقریباً 19 اڈے ہیں جہاں فوجیوں اور اسلحے کی تعداد بدلتی رہتی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے 15 مئی 2025 کو العُدید ایئر بیس کا دورہ کیا تھا (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

ہفتے کی صبح امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملوں کا آغاز کیا، جس کے جواب میں ایران نے مشرقِ وسطیٰ کے چند ملکوں کو نشانہ بنایا ہے، جن میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق کویت، بحرین، عراق، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں 1958 سے امریکی اڈے موجود ہیں۔ کونسل آن فارن ریلیشینز کی ایک رپورٹ کے مطابق ان اڈوں کی تعداد کم از کم 19 ہے، جن میں سے آٹھ مستقل اڈے ہیں جو بحرین، مصر، عراق، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں واقع ہیں۔ ان میں 40 سے 50 ہزار تک امریکی فوجی تعینات ہیں، تاہم ان کی تعداد بدلتی رہتی ہے۔ 

مشرق وسطیٰ میں اہم امریکی فوجی تنصیبات درج ذیل ہے۔

قطر

مشرقِ وسطیٰ میں سب سے اہم امریکی اڈہ العدید ایئر بیس ہے جو قطر میں واقع ہے، اور یہاں تقریباً دس ہزار فوجیوں کے علاوہ 100 طیارے اور متعدد ڈرونز موجود ہیں۔ یہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے فارورڈ ہیڈ کوارٹرز کے طور پر کام کرتا ہے اور عراق، شام اور افغانستان میں ہونے والے آپریشنز کے لیے اس کی حیثیت مرکزی رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بحرین

بحرین میں امریکی بحریہ کے فِفتھ فلیٹ کے ہیڈ کوارٹر کا مرکز واقع ہے، جس کی ذمہ داری کے علاقوں میں خلیج عرب، بحیرہ احمر، بحیرہ عرب اور بحر ہند کے کچھ حصے شامل ہیں۔

کویت

کویت میں کئی امریکی فوجی تنصیبات ہیں جن میں کیمپ عریفجان شامل ہے، جو امریکی آرمی سینٹرل کا فارورڈ ہیڈ کوارٹر ہے۔ اس کے علاوہ یہیں علی السالم ایئر بیس بھی ہے جو عراقی سرحد سے تقریباً 40 کلومیٹر دور ہے۔

کیمپ بیوہرنگ 2003 کی عراق جنگ کے دوران قائم کیا گیا تھا اور یہ امریکی آرمی کی ویب سائٹ کے مطابق عراق اور شام میں تعینات ہونے والی امریکی آرمی یونٹس کے لیے سٹیجنگ پوسٹ ہے۔

متحدہ عرب امارات

الظفرہ ایئر بیس، متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی کے جنوب میں واقع ہے اور امریکی فضائیہ کا ایک اہم مرکز ہے، جس نے داعش کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیا ہے۔

دبئی کی جبل علی بندرگاہ اگرچہ ایک باقاعدہ فوجی اڈہ نہیں ہے، لیکن مشرق وسطیٰ میں امریکی بحریہ کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے جہاں بڑی تعداد میں امریکی طیارہ بردار جہاز اور دیگر بحری جہاز ٹھہرتے ہیں۔

عراق

صوبہ انبار میں عین الاسد میں امریکی ایئر بیس موجود ہے، جو وائٹ ہاؤس کے مطابق نیٹو مشنز میں حصہ لیتی ہے۔ 2020 میں جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے جواب میں ایران نے اس اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔

شمالی عراق کے نیم خودمختار کردستان خطے میں واقع، اربیل ایئر بیس امریکی اور اتحادی افواج کا تربیتی مرکز ہے، جہاں تربیتی مشقوں اور جنگی ڈرلز انجام دی جاتی ہیں۔

اردن

ازرق میں واقع دارالحکومت عمان سے 100 کلومیٹر شمال مشرق میں، موفق الصلتی ایئر بیس امریکی ایئر فورسز سینٹرل کا 332ویں ایئر ایکسپیڈیشنری ونگ تعینات ہے، جو بلاد شام میں مشنوں میں مصروف ہے۔

سعودی عرب

وائٹ ہاؤس کے مطابق سعودی عرب میں امریکی فوجیوں کی 2024 میں تعداد 2,321 تھی۔ سعودی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی سے کام کرتے ہیں، فضائی اور میزائل دفاعی صلاحیتیں فراہم کرتے ہیں۔

ڈیاگو گارشیا

یہ اڈا مشرقِ وسطیٰ میں نہیں بلکہ بحیرۂ عرب میں واقع ہے، تاہم اس کی موجودہ جنگ میں بےحد اہمیت ہے۔ 18 فروری کو صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اس اڈے کو ایران پر حملے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بعض اطلاعات کے مطابق یہاں خطرناک بی 52 بمبار طیارے موجود ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا