امریکی اور اسرائیلی کی ایران پر حملے کی بےصبری سنیچر کو اچانک حملوں سے واضح ہو چکی ہے۔ دراصل تمام تر دباؤ اور جنگی حالات پیدا کرنے کا بڑا مقصد جوہری ہتھیار نہیں بلکہ ’رجیم چینج‘ ہے۔
اسرائیل کے حملے سے چند گھنٹے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں مصروف ملک عمان کے اعلی سفارت کار اور وزیر خارجہ بدر بن حمد البسیدی نے اعلان کیا کہ ایران اس بات پر آمادہ ہو گیا ہے کہ وہ افزودہ یورینیم کبھی نہیں رکھے گا۔ انہیں یقین تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے تمام مسائل چند مہینوں میں خوش اسلوبی اور جامع طریقے سے حل ہو سکتے ہیں۔
یہ بعض ماہرین کے مطابق ایک بڑی اور غیر معمولی پیش رفت تھی۔ لیکن امریکہ اور اسرائیل بظاہر اپنا ذہن حملے کے لیے بنا چکے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان جنگ کے ویڈیو میں بھی حملے کی دو بڑی وجوہات بیان کیں۔ ایک 47 سال سے ایران کا ’مرگ بہ امریکہ‘ نعرہ اور دوسرا بظاہر ’ایرانی عوام‘ کی جانب سے امریکہ کو مداخلت اور مدد کی اپیل۔
اس خطے میں نئی جنگ سے تین آپس میں جڑے مسلمان ممالک بدقسمتی میں جنگی حالت میں پھنس گئے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان پہلے ہی کئی دن بلکہ ماہ سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک دوسرے کو دیکھ اور للکار رہے ہیں۔ اب ایران بھی ایک ایسی جنگ میں الجھ گیا جس کا دورانیہ اسرائیلی حکومت کے مطابق تو چار روز ہو سکتا ہے لیکن ایران کی حکومت اور عوام کے لیے یہ ایک طویل مدتی عدم استحکام کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کے خلاف حملہ امریکی فوج کے لیے ایک مشکل اور پیچیدہ آپریشن ہو گا۔ صرف اس لیے ایران کو تر نوالہ سمجھنا کہ اس کی حکومت سیاسی طور پر اندرونی دباؤ میں ہے، اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ وہ فوجی طور پر بھی کمزور ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایرانی حکومت کی جانب سے حالیہ احتجاج کو دبانے کی اس کی سخت حکمت عملی ظاہر کرتی ہے کہ ملک کا سکیورٹی نظام خصوصا اسلامی انقلابی گارڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہوئے ہیں۔ اسی لیے صدر ٹرمپ نے پاسداران انقلاب کو خصوصی طور پر مزاحمت نہ کرنے کی تجویز دی ہے۔
امریکہ کے پاس خطے میں اتنے فوجی وسائل تو ہیں کہ وہ چند دن ایک محدود مشن چلا سکے لیکن طویل مدت کے لیے اسے جاری رکھنا اس کے لیے بھی مشکل ہوگا۔ پینٹاگون نے خطے میں مزید فوجی طاقت کی ضرورت کے بارے میں اسی لیے پوچھے سوالات وائٹ ہاؤس سے پوچھنے کی بات کی۔
امریکی صدر نے اپنے ویڈیو پیغام میں پاسداران انقلاب کو نہ صرف ہتھیار ڈالنے کا مشورہ دیا بلکہ عوام سے کہا کہ وہ بعد میں خود ملک کا انتظام سنبھالنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ کسی مقبول متبادل ایرانی قیادت کی غیر موجودگی میں یہ کیسے ممکن ہو گا کچھ واضح نہیں۔ امریکہ اور اسرائیل موجودہ ایران قیادت سے بس جان چھڑانا چاہتے ہیں باقی شام کی طرح بےشک داعش یا القاعدہ کا کوئی رہنما ہی سامنے آئے ان کی بلا سے۔
رجیم چینج کا ایک اور تجربہ امریکہ نے عراق میں بھی کیا تھا، لیکن فرق یہ ہے کہ وہاں صدام حسین جیسے ڈکٹیٹر کی حکومت تھی جس کی جڑیں عوام میں نہیں تھیں، ایران کا معاملہ بظاہر اس سے مختلف ہے۔ حالیہ ہفتوں میں حکومت کی حمایت میں بھی بہت سے لوگ سڑکوں پر نکلے ہیں، اس لیے وہاں کی رجیم چینج اتنی آسانی سے نہیں ہو سکے گی۔
ایران نے ایک روز قبل ہی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی تھی۔ کابل میں ایران کے سفارت خانے نے اعلان کیا کہ ایران افغانستان کی عبوری حکومت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہے۔ سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کی وزارت خارجہ میں جنوبی ایشیا کے امور کے ڈائریکٹر جنرل علی رضا بہرامی نے طالبان حکام اور پاکستان کے درمیان مکالمے کو آسان بنانے کے لیے تہران کی آمادگی کا اعلان کیا ہے۔
اس سے قبل، ایران کی وزارت خارجہ نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان جھڑپوں پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا تھا۔ وزارت نے فوری طور پر مذاکرات کے آغاز پر زور دیا تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے۔ لیکن شاید پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کی کوشش بھی امریکہ کو پسند نہیں آئی۔ اس کے برعکس صدر ٹرمپ نے دونوں ہمسایہ مملک کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے حوالے سے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اسلام آباد ’بہت شاندار کام‘ کر رہا ہے۔ یعنی پاکستان کی حکمت عملی کو امریکہ کی حمایت بظاہر حاصل ہے۔
ایران نے جس طرح سے حملے کے ردعمل کی دھمکی میں کہا تھا کہ پھر یہ امریکہ، اسرائیل اور ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ خلیج کے ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔
اس امریکی حکمت عملی سے واضح ہے کہ امریکہ اس خطے میں امن یا پائیدار استحکام کا فی الحال متمنی نہیں ہے۔ کچھ آپس میں لڑا کر اور کچھ سے خود لڑ کر انہیں ترقی اور استحکام سے دور ہی رکھنا اس کی سوچ کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ ماضی کے استعماری نظام کی شاید یہ نئی شکل و صورت ہے؟