پاکستان سے بات کرو، آر ایس ایس کا نیا فرمان

اس فرمان کے پیچھے ایک بڑی سیاست کار فرما ہے جس کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے رضاکار دو اکتوبر، 2025 کو ناگپور کے ریشم باغ گراؤنڈ میں ہندو قوم پرست تنظیم کی صد سالہ تقریبات کے لیے پہنچ رہے ہیں (اے ایف پی)

اس کالم کو آپ یہاں سن بھی سکتے ہیں:


اس پر یقین کرنا مشکل ہے کہ ہندوتوا جماعت آر ایس ایس کے رہنما دتتارے ہوسبولے نے ذاتی خواہش پر پاکستان سے بات چیت کا سلسلہ شروع کرنے کا حالیہ بیان دیا ہے۔ 

ایسا بیان آر ایس ایس سے دلوایا گیا ہے تاکہ عوام بالخصوص ہندوتوا کے جنونی کارکنوں کا ابتدائی ردعمل معلوم کیا جا سکے۔ 

واضح رہے آر ایس ایس کے رہنما ہوسبولے نے خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے ایک انٹرویو کے دوران پاکستان سے بات چیت کے دروازے دوبارہ کھولنے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا ’اگر پاکستان سے پلوامہ یا پہلگام جیسے حملے کروائے جاتے ہیں تو ایسے حالات میں اُس سے بات کرنا ضروری بنتا ہے۔‘

سیاسی مبصرین کے مطابق ان کے اس بیان کے پیچھے ایک بڑی سیاست کار فرما ہے جس کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ 

آر ایس ایس کا ایک وفد چند ہفتے پہلے امریکہ، برطانیہ اور جرمنی کا دورہ کر کے لوٹا ہے جس کی سربراہی ہوسبولے خود کر رہے تھے۔

دورے کے دوران انہوں نے ان ملکوں کے پالیسی سازوں، صنعت کاروں سماجی کارکنوں اور سیاست دانوں کے علاوہ ان ملکوں میں رہنے والے ہندوستانیوں سے ملاقاتیں کی۔

خیال ہے کہ انڈیا کی اقلیتوں کا معاملہ تو کافی زیر بحث رہا مگر انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کو لے کر بھی کئی خدشات کا اظہار کیا گیا۔

انڈیا یہ مان کے چل رہا ہے کہ 2019 کے اندرونی خود مختاری ختم کرنے کے فیصلے کے بعد جموں و کشمیر کے تنازعے کو حل کیا گیا ہے، جس کی تصدیق اسے عالمی برادری کی خاموشی میں مل گئی تھی۔ 

پھر اندرون وادی عوام نے بھی کوئی مزاحمت نہیں دکھائی جن پر سخت قوانین کی ایسی تلوار لٹک رہی ہے کہ حکومت مخالف معمولی بات کرنے پر گرفتار، جیل اور املاک کا سیل کرنا سزا کے طور پر سنایا جاتا ہے۔ 

میڈیا اور سیاسی جماعتوں پر غیر اعلان شدہ پابندیاں ہیں، جن کا ادراک عالمی برادری کو خوب ہے۔

بقول ایک تھنک ٹینک کے، آر ایس ایس کے دورے کے دوران عوامی رابطہ مہم میں اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا گیا کہ کشمیر کی خاموشی معنی خیز ہوتی ہے جو ہر مرتبہ ایک بڑے طوفان کی طرح اُمڈ پڑتی ہے۔ 

بی جے پی کے لیے دوسرا مسلہ یہ بھی ہے کہ پاکستان نے جموں و کشمیر کے تنازعے سے دامن نہیں چھڑایا۔

وہ امریکہ اور دیگر یورپی ملکوں کی قربت میں آکر اپنے لیے زمین ہموار کرنے میں رواں دواں ہے بلکہ عالمی ایوانوں میں اب موثر طور پر بات بھی کرنے لگا ہے۔

اس کا توڑ کرنے کے لیے انڈیاخاموش نہیں بیٹھ سکتا بلکہ عالمی رائے عامہ کو قائل کرنے کی کوشش میں وہ بھی پاکستان کی طرح پیش پیش ہے جس کی ابتدا بظاہر دتتارے کے بیان سے لگتی ہے۔ 

کراچی میں ایک کشمیری صحافی کے مطابق انڈیا نے ہمیشہ نظریہ مصروفیات کے تحت پاکستان کے کشمیر  موقف کو زائل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور شدید تلخی کے باوجود آج بھی اس کی یہ کوشش جاری ہے۔ 

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ حکمران جماعت بی جے پی نے بیشتر انتخابات میں محض کشمیر کا بیانیہ بنا کر جیت حاصل کی ہے اور اس کو خونخوار جانور کی شکل میں پیش کیا ہے۔ 

لہٰذا پارٹی پاکستان سے بات چیت کرنے کا ارادہ ظاہر کرنے کی ہمت نہیں کر سکتی کیونکہ وہ کارکنوں کی مذہبی جنونیت جگا کر ہی انتخابات میں جیت حاصل کرتی رہی ہے جو اس کے ووٹ بینک میں بڑی سرمایہ کاری ہے۔ 

بی جے پی کی تنظیم آر ایس ایس کی کوکھ سے پیدا ہوئی ہے جس نے ماں کی طرح بی جے پی کے لیے مشکل وقتوں میں نئے راستے تلاش کر کے اسے ہزیمت سے بچایا۔

موجودہ بیان بھی جنونیت کو برقرار رکھنے کا ایک طریقہ ہے تاکہ ایک تیر سے دوشکار ہوں، یعنی اندرون ملک کارکنوں کو ناراض بھی نہ کریں اور عالمی برادری کو جھانسہ بھی دے سکیں۔ 

کیا پاکستان اس خوش فہمی میں مبتلا ہوکر اپنا دامن دوبارہ پھیلا دے گا؟ شریف حکمرانوں سے تو اس کی توقع کی جاتی ہے لیکن فوجی قیادت کے تیور دیکھ کر ایسا ناممکن لگ رہا ہے۔ 

بیشتر سیاسی رہنماؤں اور مبصرین نے ہوسبولے کے بیان کو مثبت قرار دے کر بات چیت کو خطے کے امن کے لیے لازمی قرار دیا۔

سابق فوجی سربراہ جنرل نورانے نے اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ جنگ سے دونوں ملکوں کو کچھ حاصل ہونے کی امید نہیں بلکہ بات چیت سے مسائل کو حل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ 

جموں کشمیر کے سیاسی رہنماؤں فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے پاکستان سے بات چیت کرنے پر زور دیا تاکہ دونوں ملکوں کے مابین دشمنی کو ختم کیا جا سکے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن ابھی ہوسبولے کے بیان پر بحث ہی شروع ہوئی تھی کہ فوجی قیادت اور دفاعی وزیر کے سخت بیانات سامنے آ گئے، جن میں پاکستان کی تاریخ اور جغرافیہ ختم کرنے کی دھمکی بھی آئی۔ 

دہلی میں مقیم صحافی ارون وٹل کہتے ہیں کہ سخت بیانات کا مقصد جنونی کارکنوں میں میزان رکھنا تھا تاکہ بی جے پی کل کو یہ جواز پیش کرسکے کہ آر ایس ایس کے کہنے پر یخ کو توڑنا پڑا۔ 

چند کشمیری سیاست دانوں کے برعکس عوام نے اس پر خاموشی اختیار کی۔ شاید کشمیری عوام سیاسی طور پر بالغ ہوچکے ہیں اور وقت کی نزاکت کو خوب سمجھتے ہیں کہ بات کب کرنی چاہیے اور کب خاموش رہنا ہے۔ 

مگر بی جے پی کے بعض کارکن سوشل میڈیا پر برس پڑے اور کہنے لگے کہ اگر ہم پاکستان کا نام لیتے تو ہمیں پاکستان جانے کی دھمکی دی جاتی ہے، ہوسبولے سے کسی لیڈر نے یہ کیوں نہیں کہا؟

اکثر لوگوں کو حیرانی اس وقت ہوئی جب سیکولر پارٹی کانگریس نے ہوسبولے کے پاکستان سے بات چیت کے بیان پر شدید تنقید کی اور کہا کہ دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں ہوسکتے۔

اس پر بیشتر لوگوں کی ہنسی چھوٹ گئی اور چرچے ہونے لگے کہ بی جے پی نے اپنی ہندوتوا کی لہر سے جب اپوزیشن کے سامنے خود کوکٹر ہندو جتانے کا چلینج رکھا تو کانگریس سمیت کئی جماعتوں کے لیڈر مندروں میں جا جا کر اور ماتھے پر ٹیکہ لگا لگا کر خود کو کٹر ہندو بنانے کی دوڑ میں لگ گئے۔

پھر پاکستان کو دہشت گرد قرار دینے کا چلینج رکھا تو کانگریس پاکستان کی درندگی کا الاپ گانے لگ گئی جبکہ آر ایس ایس کی کوکھ سے جنمی بی جے پی چپکے سے پاکستان سے ملتی بھی رہی ہے۔ 

گو پاکستان سے ابھی سرکاری ردعمل نہیں آیا مگر پاکستان کی حالیہ دنوں میں امن بروکر کے طور پر جو امیج ابھری ہے یا آپریشن سندور میں فضائی بالادستی کے چرچے ہوئے ہیں خیال ہے کہ وہ ابھی اس خمار میں سرشار ہے حالانکہ بعض سابق وزرا یا پالیسی سازوں نے ہوسبولے کے بیان کا خیرمقدم کرکے باہمی مسائل کو حل کرنے پر زور دیا۔ 

بی جے پی نے مسلسل خاموشی اختیار کر رکھی ہے، وہ جنوبی ایشیا کی موجودہ جیو سٹرٹیجک حالات کے پس منظر میں ایک طرف تذبذب کا شکار ہے اور دوسری جانب معاشی بدحالی کے باعث جنگی جنون سے نکلنے کا موقع بھی تلاش کر رہی ہے۔

نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر