حال ہی میں انقرہ میں منعقد ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں جہاں عسکری امور پر کچھ اتفاق نظر آیا، وہیں سیاسی امور میں اختلافات بھی ابھر کے سامنے آئے۔
کانفرنس میں جہاں کچھ مبصرین اس اجتماع کی کامیابیاں گنوا رہے ہیں، وہیں کچھ ناقدین اس کانفرنس کے بطن سے نکلنے والے اختلافات اور مستقبل میں اس کے نیٹو پر اثرات پر غور و فکر کر رہے ہیں۔
ترکی میں منعقدہ دو روزہ کانفرنس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ساری کی ساری توجہ اپنی جانب مرکوز کروا لی۔ کہیں انہوں نے ایران کے خلاف انتہائی شدید بیانات دے کر عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کی اور کہیں وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور ترک صدر رجب طیب اردوغان کی تعریف و توصیف کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنے رہے۔
تاہم ٹرمپ کو اس وجہ سے بھی عالمی ذرائع ابلاغ اور بین الاقوامی امور کے ماہرین نے اپنی توجہ کا مرکز بنائے رکھا کہ انہوں نے حسب توقع ایک بار پھر اپنے ہی اتحادیوں پر غصہ نکالنے کی کوشش کی۔ تاہم اس غصے میں ماضی کی وہ شدت نہیں تھی جو پہلے یورپی اور امریکی رہنماؤں کے اجتماعات میں دیکھی گئی۔
جہاں ماضی میں دنیا کے طاقتور ترین آدمی ٹرمپ نے جرمنی کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا، وہیں اس بار یہ تنقید سپین کے حصے میں آئی اور اس کا تعلق نیٹو کی پالیسی سے کم اور امریکہ ایران جنگ سے زیادہ تھا، جہاں سپین نے امریکی پالیسی سے اختلاف کیا۔
ٹرمپ نے تنقید کے نشتر برطانیہ پر بھی چلائے اور شکوہ کیا کہ لندن نے ایران کی جنگ میں بھرپور ساتھ نہیں دیا۔
امریکی صدر کا یہ ہی شکوہ تقریباً تمام نیٹو اتحادیوں سے بالعموم تھا، جنہوں نے صفائیاں پیش کرنے کے لیے ایسے واقعات گنوائے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس جنگ میں نیٹو نے بھی کسی حد تک ایران کے خلاف کام کیا۔
کانفرنس کی ایک یہ کامیابی ہے کہ اس نے یوکرین کے لیے 70 ارب یورو کا 2026 کے لیے وعدہ کیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ نیٹو کی رکنیت کے بغیر بھی وہ اس اتحاد کی سٹریٹیجک پلاننگ کا ایک طریقے سے حصہ بن گیا ہے۔
امریکہ نے یوکرین کو اس بات کی اجازت دینے کا بھی اعلان کیا کہ وہ پیٹریاٹ دفاعی نظام خود بنا سکتا ہے۔ یوکرین کا یہ دیرینہ مطالبہ تھا کہ اسے اس طرح کی سہولت دی جائے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاریخی طور پہ نیٹو کا ہمیشہ سے ہدف ماضی میں سوویت یونین اور اس کے خاتمے کے بعد روس اور کسی حد تک چین رہا ہے۔ تاہم موجودہ کانفرنس کی بظاہر ایک ناکامی یہ نظر آتی ہے کہ اس کا محور و مرکز روس کی جگہ امریکی صدر کے جوشیلے بیانات رہے۔
لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ماضی کے نیٹو کے اجتماعات کے برعکس اس اجتماع میں روس اور اس سے پیدا ہونے والے خطرات کو اتنی سرگرمی سے موضوع بحث نہیں بنایا گیا، جتنی سرگرمی سے اسے موضوع بحث بنایا جانا چاہیے تھا۔
کانفرنس ترکی کے لیے ایک اچھی خبر یہ لے کر آئی کہ امریکی صدر نے یہ اعلان کیا کہ وہ ترکی کو ایف 35 دینے کے بارے میں غور کریں گے۔ اس کے علاوہ اس کے فضائی نظام کے لیے کچھ جنگی جہازوں کے انجن فراہم کرنے پر بھی غور کیا جائے گا۔
اس اعلان نے نہ صرف اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو چراغ پا کیا بلکہ یونان نے بھی اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ اسرائیلی حکومت کا خیال ہے کہ اس سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا اور یہ کہ ترکی ایک قابل اعتماد امریکی اتحادی نہیں ہے۔
یونان کے قبرص اور بحری سرحدوں کے تعین کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات سمیت کئی امور پر ترکی سے شدید اختلافات ہیں۔ اس کو یہ خطرہ ہے کہ ممکنہ طور پر ایف 35 کے ملنے کے بعد ترکی اپنی طاقت کو ایک دوسرے نیٹو اتحادی کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ یونان کی حکومت نے سوال کیا کہ کیا یہ امریکی اقدام امریکی مفادات میں ہے؟
ترکی پر 2019 میں روس سے فضائی نظام خریدنے پر امریکی کانگریس نے پابندیاں لگائی تھیں۔ اس لیے یہ سوال اہم ہے کہ کیا ترکی کو اتنی آسانی سے ایف 35 مل جائیں گے کیونکہ یہ ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہو سکتا ہے جس میں امریکی کانگریس کا بڑا عمل دخل ہوگا جہاں ایوان میں موجود دونوں جماعتیں ہی اسرائیلی مفادات کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔
اس کے علاوہ امریکی کانگریس کے کئی ارکان کو اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ روسی فضائی دفاعی نظام کے ساتھ ان جنگی طیاروں کے چلنے سے امریکی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
قوی امکان ہے کہ اس اعلان کے بعد اسرائیلی لابیاں کانگریس کی پالیسی پر اثر انداز ہونے کے لیے دن رات سرگرمی سے کام کریں گی اور ترکی کے لیے یہ آسان نہیں ہوگا کہ وہ اتنے ہی موثر انداز میں کانگریس پر اثر انداز ہو جتنے موثر انداز میں اسرائیل ہو سکتا ہے۔
امریکی ذرائع ابلاغ پر بھی اسرائیل کا بہت اثر و رسوخ ہے اور اسرائیلی حکومت کے لوگوں نے پہلے ہی اپنے بیانات اور انٹرویوز کے ذریعے صدر ٹرمپ کے اس اعلان پر اثر انداز ہونا شروع کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے گذشتہ دور اقتدار میں بھی نیٹو کے اتحادیوں کو دفاعی بجٹ بڑھانے پر زور دیا تھا اور اب بھی وہ بضد ہیں کہ یورپین حکومتیں جلد دفاعی بجٹ میں اضافہ کریں۔
کچھ حکومتیں ایسا کر چکی ہیں اور کچھ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس سے بظاہر امریکی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا لیکن بجٹ کے بڑھنے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے یورپ کا اپنا دفاعی نظام ایک نئے طور پر سامنے آئے گا، جس میں وہ ممکنہ طور پر خود مختار بن سکتا ہے اور امریکہ سے بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی خریداری میں کمی آ سکتی ہے۔
یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے امریکہ اور یورپ میں مستقبل میں اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ اگر یورپ امریکہ پہ منحصر نہیں ہوگا تو وہ اپنی آزادانہ پالیسی پہ کاربند ہوگا، جو امریکہ کو ایک آنکھ بھی نہیں بھائے گی۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا یورپ اس حوالے سے ترکی کو بھی اس دفاعی ڈھانچے کا حصہ بنائے گا۔ البانیہ، رومانیہ، پولینڈ، اٹلی اور فرانس سمیت کئی یورپی ممالک نے ترکی سے دفاعی معاملات میں دو طرفہ تعاون کیا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ یورپ ترکی سے انسانی حقوق، جمہوریت اور دوسرے امور پر شدید ناراض ہے۔
تاہم یوکرین کی جنگ میں ترکی کے ڈرونز کے کرشموں نے کئی یورپی ممالک کو مجبور کیا ہے کہ وہ ڈرون اور دوسرے ہتھیاروں کے حوالے سے ترکی سے تعاون کریں۔ امریکہ کی بے اعتباری بھی یورپ کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ دفاعی تعاون کے حوالے سے دوسری طرف بھی دیکھے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انقرہ اور ماسکو میں بہت قربت ہے، جو یورپ کے لیے باعث تشویش ہے، لہذا یورپ ایک حد سے زیادہ ترکی سے تعاون نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کو اس دفاعی نظام کا موثر حصہ بنائے گا۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
