بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 75 عسکریت پسند مارے گئے: سرکاری ٹی وی

پاکستان ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آپریشن شعبان کے دوران اب تک 39 عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔

پاکستان کے سرحدی محافظ دستے فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکار 16 ستمبر 2020 کو بلوچستان کے سرحدی شہر قلعہ سیف اللہ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان واقع نو افتتاح شدہ بادینی تجارتی ٹرمینل گیٹ وے پر ایک بنکر میں پہرہ دے رہے ہیں۔ (تصویر: بنارس خان / اے ایف پی)

پاکستان کے سرکاری ٹی وی نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ’آپریشن شعبان‘ اور بلوچستان میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی کارروائیوں میں 75 عسکریت پسند مارے گئے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

پاکستان ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ آپریشن شعبان کے دوران اب تک 39 عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔ یہ آپریشن بلوچستان میں منگی ڈیم پولیس تھانے پر حملے کے بعد شروع ہوا۔

اس کے علاوہ پانچ جولائی سے صوبے بھر میں کیے گئے مختلف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مزید 36 عسکریت پسند مارے گئے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے ضلع خضدار کے علاقے زہری میں پولیس تھانے پر ایک اور حملہ بھی ناکام بنایا، جہاں پاکستان فوج اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکاروں نے آٹھ حملہ آوروں کو مار دیا۔

ان کے مطابق ہیلی کاپٹروں کی مدد سے کیے گئے آپریشنز میں مزید پانچ سے چھ عسکریت پسند بھی مارے گئے۔

یہ کارروائیاں بلوچستان میں گذشتہ ہفتے ہونے والے حملوں کے سلسلے کے بعد کی گئی ہیں، جن میں ہنہ اُرک میں شہریوں، ضلع زیارت میں منگی ڈیم پمپنگ سٹیشن کے قریب پولیس چوکی اور ڈیلا بندر کے علاقے میں فوج کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس ہفتے کے آغاز میں پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا تھا کہ ان حملوں میں 42 شہری اور سکیورٹی اہلکار جان سے گئے، جس کے بعد حملہ آوروں کے خلاف زمینی اور فضائی سطح پر وسیع کارروائیاں شروع کی گئیں۔

پاکستان نے حالیہ مہینوں میں عزم استحکام اور آپریشن غضب لِلحق کے تحت ملک بھر میں انسدادِ دہشت گردی کی مہم تیز کی ہے۔

حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کے ٹھکانوں، انفراسٹرکچر اور لاجسٹک سپورٹ کو ختم کرنا ہے، جنہیں پاکستان کے اندر حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے آپریشن شعبان میں پیش رفت پر پاکستان فوج، فرنٹیئر کور اور بلوچستان پولیس کی کارکردگی کو سراہا۔

انہوں نے کہا ’فتنہ الخوارج کے خلاف بڑے پیمانے پر جاری آپریشن کے دوران اب تک 75 دہشت گردوں کا خاتمہ ہماری سکیورٹی فورسز کی غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔‘

حکومت پاکستان انڈیا کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے لیے ’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح استعمال کرتی ہے۔

وزیراعظم نے بلوچستان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں آپریشنل حکمتِ عملی کو بھی سراہا اور خضدار میں پولیس تھانے پر حملہ ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کی تعریف کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا ’ہم ملک سے دہشت گردی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر کے رہیں گے۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ صوبے کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ منگی ڈیم پولیس تھانے پر حملے کے بعد شروع کیا گیا آپریشن شعبان کامیابی سے جاری ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان فوج، فرنٹیئر کور اور بلوچستان پولیس کی مشترکہ زمینی اور فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں صوبے کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں آپریشن شعبان کے دوران 39 عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا پانچ جولائی سے اب تک آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مجموعی طور پر 75 عسکریت پسند مارے گئے۔

سرفراز بگٹی نے کہا ’بلوچستان میں ریاست کی عملداری ہر صورت برقرار رکھی جائے گی۔‘

پاکستان ٹی وی نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بلوچستان کے مختلف پہاڑی علاقوں میں زمینی اور فضائی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان