ستلج سے میرا رشتہ بڑا گہرا ہے۔ اس دریا کے کنارے میری نال گڑی ہے اور اس ستلج کے کنڈے میں نے خواب دیکھنے سیکھے۔ اس ستلج کو میں نے بپھرتے بھی دیکھا اور سوکھتے بھی۔
اسی ستلج کو صنعتی فضلے کے جھاگ سے بھرتے بھی دیکھا اور بچپن میں اسی ستلج کے بارے میں سرگوشیاں بھی سنیں کہ سرحد پار سے سکھوں کی لاشیں بہتی ہوئی آتی ہیں اور جل کنبھیوں میں الجھ جاتی ہیں۔
بچپن تھا نا، غور ہی نہیں کیا۔ دریا بہتا رہا، وقت بھی گزرتا رہا۔ وہ سکھ کون تھے؟ کبھی سوچا بھی نہیں اور جب دنیا کی سمجھ آنی شروع ہوئی تو تین چار سال کی عمر میں کان میں پڑے جملے، بچپن ہی میں کھو جانے والے کھلونوں کی طرح صرف سوالیہ نشان بن کر ذہن سے محو بھی ہو گئے۔
او ٹی ٹی پلیٹ فارم زی فائیو پہ ’ستلج‘ آئی تو جیسے کسی بسری ہوئی یاد نے کروٹ لی۔ فلم کا ہیرو دلجیت دوسانجھ ہے، یہ سن کے اندازہ تو ہو گیا کہ بات کوئی سخت ہی ہو گی، پر اتنی تلخ ہو گی کہ دو دن بھی زی فائیو پہ نہیں ٹک سکے گی سوچا نہ تھا۔
فلم بین ہوئی اور فلم ہٹ ہو گئی، انڈین پنجاب میں جگہ جگہ اس کی گوریلا سکریننگ شروع ہو گئی اور جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ فلم کب بنی، اس پہ کتنے کٹ لگے، سینسر نے کیا کیا اور زی فائیو نے بغیر سنسر کے 48 گھنٹے کیسے اور کیونکر چلائے رکھی اس پہ بحث چلتی رہے گی۔
بات یہ ہے کہ فلم صرف سینیما ایکٹوازم، کی ہی ایک مثال نہیں ہے، فلم بطور فلم اور بطور آرٹ بھی اچھی ہے۔ ایک ایسی فلم جسے بطور کہانی پڑھا جائے تو ’اولڈ مین اینڈ دا سی‘ کے ٹکر کا ناول ہے اور بطور سکرپٹ پڑھا جائے تو پوری فلم آنکھوں کے سامنے پھر جائے۔
کہانی ہے ان گمشدہ لوگوں کی جو ایک دن کہیں چلے گئے اور پھر کبھی نہیں ملے۔ کہانی کا ہیرو ایک نہتا آدمی ہے، جو صرف بولتا ہے اور اپنا بیان نہیں بدلتا۔ نہ اس کی آواز اونچی ہوتی ہے نہ وہ اپنی دھرتی چھوڑتا ہے۔
یہ ہیرو ان گمشدہ لوگوں کو ڈھونڈنے نکلتا ہے اور ایک روز خود بھی کھو جاتا ہے۔ ہیرو کبھی نہیں ملا، نہ اس کی لاش نہ اس کا سراغ، بس اس کی کہانی ملی اور وہ کہانی سنانے میں بھی کم و بیش 30 سال لگ گئے۔ پر بات یہ ہے کہ کہانی رکتی نہیں۔ بات چھپتی نہیں۔
عشق اور مشک کی طرح یہ بھی عیاں ہو جاتی ہے۔ ستلج میں بہائی جانے والی گمنام لاشوں کی کہانی کا ایک ٹکڑا سرحد پار ادھر میرے پاس تھا اور باقی کہانی ادھر۔ جل کنبھیوں میں الجھ جانے والے وہ لاشے کن کے ہوتے تھے معمہ پورا ہو گیا۔
فلم میں کردار ہیں، کوئی نسل نہیں۔ پنجاب پولیس میں بھی سکھ ہی ہیں جو سکھوں کو مار رہے ہیں۔ 84 کا ذکر صرف ایک بازگشت کے طور پہ ہے مگر یہ بڑی ڈرا دینے والی بازگشت ہے، صور کی صورت۔
ضمیر کب سامنے آکے کھڑا ہوتا ہے؟ خودکش حملہ آور کب حملہ کرتا ہے اور ان کاونٹر کنگ کب خودکشی پہ مجبور ہوتا ہے۔ یہ ساری گتھیاں اس فلم میں کرداروں نے کھولی ہیں۔
مناظر سادہ ہیں، روشنی، عکاسی، وارڈروب، کاسٹنگ، کسی چیز میں ذرا سا بھی گلیمر نہیں۔ جھکے ہوئے کندھوں والا سادہ سا بندہ، عام سی صورت والی اس کی بیوی اور سادے سادے دوست احباب۔ پھر بھی فلم لڑ گئی، دیکھنے والوں کو بھی اور ہٹانے والوں کو بھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
میں نے خود بھی زی فائیو کے ساتھ کام کیا۔ اس وقت جو ٹیم تھی میرے دیکھتے ہی دیکھتے جیسے ان کے ہاتھ باندھ دیے گئے اور امن کی آشا کی جگہ ایک سرد مہری آگئی۔ پھر بھی اس فلم کو جنم زی فائیو ہی نے دیا۔ اب چاہے وہ اسے عاق کر دے مگر والدین کی طرح بینر بھی فلم سے الگ نہیں ہوتے۔
فلم کے ایک سین میں مرکزی کردار، گواہ کے ضمیر کی صورت آتا ہے اور کہانی شیکسپیئر کا ڈرامہ بن جاتی ہے۔ اس سین میں دلجیت کی ایکٹنگ عروج پہ ہے۔ جب وہ کہتا ہے ’یار بڑی ٹھنڈ لگتی ہے، باہر سے بھی، اندر سے بھی، پھٹ گھلیا نہیں، پانی اندر چلا جاتا ہے۔۔۔۔۔ یہاں بہت سے ہیں، سب آئیں گے، ایک ایک کر کے،‘ تو لگتا ہے ستلج کا ٹھنڈا سیت پانی واقعی کہیں قریب بہہ رہا ہو۔ حالانکہ ستلج تو اب پچھلے جنم کی کوئی کتھا بن گیا ہے۔
خاص کر وہ سین جب جسونت سنگھ کو ’ستلج‘ میں پھینکا جاتا ہے تو ایک لمحے کو محسوس ہوتا ہے کہ ہر عیسیٰ کو صلیب پہ نہیں چڑھایا جاتا اور ہر موسیٰ کو کوئی آسیہ گود نہیں لیتی۔
’ستلج‘ بہتا رہے گا، ڈیموں، بیراجوں میں مقید، بہتا رہے گا، چڑھدے پنجاب سے لہندے پنجاب تک، اپنی کہانیوں کے ساتھ۔
’ستلج‘ کی کہانی چلتی رہے گی۔ سننے والے آج سن رہے ہیں کل بولیں گے۔ کہانی تو ہر دریا کی ہوتی ہے، فرات کی کہانی، جہلم کی کہانی، اباسین کی کہانی، سندھ کی کہانی، گنگا کی کہانی۔
آج ستلج بولا ہو کل باقی بھی بولیں گے، بڑا شور مچائیں گے۔ کان لگا کر سنیں ’پانی بول رہا‘ ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا صروری نہیں۔