او آئی سی کانفرنس میں افغان خواتین کے حقوق کی بحالی پر زور دیا جائے گا: بیرسٹر عقیل

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی خواتین سے متعلق نویں وزارتی کانفرنس کا آغاز ہو گیا ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی خواتین سے متعلق نویں وزارتی کانفرنس کا اتوار سے آغاز ہو گیا ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے قانون، انصاف اور انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ کانفرنس کی صدارت کر رہے ہیں۔

یہ وزارتی کانفرنس ہر تین سے چار سال بعد منعقد کی جاتی ہے، جس میں او آئی سی کے رکن ممالک کے وزرا خواتین کے حقوق سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیتے ہیں، قومی پالیسیوں کا تبادلہ کرتے ہیں اور نئے لائحہ عمل کی منظوری دیتے ہیں۔

کانفرنس کا مقصد او آئی سی کے رکن ممالک میں ایسا سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنا ہے جہاں خواتین اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے سماجی و اقتصادی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

اس دو روزہ کانفرنس میں او آئی سی کے 57 رکن ممالک سے تقریباً 190 مندوبین شرکت کر رہے ہیں، جن میں ممتاز خواتین، حکومتی نمائندے، او آئی سی کے مبصرین اور تنظیم کے عہدے دار شامل ہیں۔

وزیر مملکت برائے قانون اور انسانی حقوق بیرسٹر عقیل ملک نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ پہلی مرتبہ او آئی سی کی نویں وزارتی کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشرے میں شامل کرنے کے موضوع پر منعقد ہو رہی ہے، جسے انہوں نے ایک اجتماعی کوشش قرار دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیرسٹر عقیل ملک کے مطابق او آئی سی کے رکن ممالک کے وزرا اور دیگر سرکاری نمائندے اسلام آباد میں اکٹھے ہو کر ان امور پر تبادلہ خیال کریں گے اور اس حوالے سے بہتر حکمتِ عملی اختیار کرنے کے طریقوں پر غور کریں گے۔

افغانستان کی نمائندگی اور طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی سے متعلق سوال کے جواب میں بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ’یہ انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ افغان طالبان حکومت نے لڑکیوں کے لیے سکول، تعلیم اور کتابوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

’یہ ایک نہایت تشویش ناک صورتحال ہے۔ او آئی سی کے رکن ممالک تو یہاں موجود ہیں، لیکن افغانستان میں کوئی جمہوری حکومت نہیں، بلکہ ایک ایسا نظام ہے جو تمام فیصلے خود کرتا ہے۔‘

بیرسٹر عقیل ملک کہتے ہیں کہ انہیں امید ہے کہ کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے میں افغان خواتین اور بچیوں سے چھینے گئے حقوق کی بحالی پر بھی زور دیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین