مردوں کو سیکھنا ہو گا کہ خواتین ڈرائیورز سے کیسے پیش آئیں: سی ٹی او اسلام آباد

اسلام آباد کی پہلی خاتون چیف ٹریفک آفیسر کائنات اظہر خان چاہتی ہیں کہ شہر میں مزید خواتین ڈرائیور سامنے آئیں۔

اسلام آباد کی پہلی خاتون چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) کائنات اظہر خان نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے دارالحکومت میں مزید خواتین کو گاڑی چلاتے دیکھنا چاہتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں پر خواتین کی زیادہ موجودگی نہ صرف روایتی تصورات کو چیلنج کرے گی بلکہ مرد ڈرائیوروں کو سکھائے گی کہ وہ خواتین کے ساتھ کس طرح کا ’رویہ اختیار کریں‘ اور ان کے ساتھ ہم آہنگی سے سفر کریں۔

پولیس سروس آف پاکستان کی گریڈ 18 کی افسر کائنات اظہر خان کو اس ماہ اسلام آباد کا چیف ٹریفک آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔

انہیں سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سیف سٹی کی اضافی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے، جس کے تحت وہ وفاقی دارالحکومت میں ٹریفک انتظامات اور سڑکوں کی حفاظت کی نگران ہیں۔

ان کی تقرری ایک ایسے ملک میں اہم سنگ میل سمجھی جا رہی ہے جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں خواتین کی نمائندگی اب بھی کم ہے اور جہاں نقل و حرکت بہت سی خواتین کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے۔

خصوصاً ٹریفک پولیسنگ کو روایتی طور پر مردوں کا شعبہ سمجھا جاتا رہا ہے۔

کائنات خان نے اس ہفتے عرب نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ’ہم چاہتے ہیں کہ سڑکوں پر مزید خواتین ڈرائیور آئیں تاکہ مرد ڈرائیور سیکھ سکیں کہ ان کے ساتھ کس طرح پیش آنا ہے۔‘

پاکستان کی عوامی زندگی میں خواتین کی شرکت بڑھنے کے لیے بتدریج پیش رفت ہوئی ہے، تاہم خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت اب بھی جنوبی ایشیا میں کم ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے۔

محققین اور ترقیاتی ادارے طویل عرصے سے محدود نقل و حرکت، تحفظ کے خدشات اور سماجی رویوں کو ان رکاوٹوں میں شمار کرتے ہیں جو بہت سی خواتین کو تعلیم اور روزگار کے مواقع تک رسائی سے محروم رکھتے ہیں۔

کائنات خان نے کہا کہ اسلام آباد کے ’اڑان سکوٹی اینڈ موٹر رائیڈنگ سکول‘ جیسے اقدامات، جہاں خواتین کو موٹر سائیکل، سکوٹر اور کار چلانے کی تربیت دی جاتی ہے، سڑکوں پر خواتین کی تعداد بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

سینیئر پولیس افسر کے مطابق ایسے پروگرام بتدریج مزید خواتین ڈرائیور پیدا کریں گے اور عوامی مقامات پر ان کی موجودگی کو معمول کا حصہ بنائیں گے۔

پاکستان میں خواتین ڈرائیور آج بھی اپنی ڈرائیونگ صلاحیت کے بارے میں منفی تصورات کا سامنا کرتی ہیں، جنہیں اکثر لطیفوں، غیر رسمی تبصروں اور سماجی رویوں کے ذریعے تقویت ملتی ہے اور جو سڑکوں پر امتیازی سلوک کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔

کائنات خان کا کہنا تھا کہ خواتین کی زیادہ نمایاں موجودگی ان رویوں کو بدلنے میں مدد دے گی۔

انہوں نے مرد ڈرائیوروں کے بارے میں کہا ’وہ برداشت کرنا سیکھتے ہیں۔ وہ سیکھتے ہیں کہ کس طرح برتاؤ کرنا ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو پھر پولیس قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔‘

ان کے یہ ریمارکس سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے اس بیان کے چند روز بعد سامنے آئے جس میں انہوں نے ان کی تقرری سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ زیادہ تر خواتین پولیس افسران کے طور پر ’مکمل ناکارہ‘ ہوتی ہیں۔

اس بیان پر سوشل میڈیا پر تنقید کی گئی تھی۔ تاہم کائنات خان کی ذمہ داریاں صرف صنفی رکاوٹوں کو توڑنے تک محدود نہیں۔

چیف ٹریفک آفیسر کے طور پر انہیں اسلام آباد کے عوام کی دیرینہ شکایات میں سے ایک اہم مسئلے کا سامنا ہے یعنی وی آئی پی شخصیات کی آمدورفت کے باعث ٹریفک میں خلل۔

پاکستان کے دارالحکومت اور حکومتی مرکز ہونے کے باعث اسلام آباد میں اکثر سڑکیں اس وقت بند کر دی جاتی ہیں اور ٹریفک طویل وقت تک متاثر رہتی ہے جب اعلیٰ سرکاری شخصیات، غیر ملکی معززین یا دیگر اہم افراد سخت سکیورٹی کے حصار میں شہر سے گزرتے ہیں۔

کائنات خان نے تسلیم کیا کہ یہ مسئلہ اب بھی ایک چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا: ’ظاہر ہے ٹریفک پلان عوام اور وی آئی پیز دونوں کی آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے ہوتا ہے لیکن بعض اوقات یہ مسئلہ بن جاتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکام ٹریفک انتظامات کو بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں تاکہ سکیورٹی ضروریات عام شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث نہ بنیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بقول کائنات: ’ہم ایک ایسا طریقۂ کار وضع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انشا اللہ آپ دیکھیں گے کہ فرق نظر آئے گا۔‘

اس مقصد کے حصول میں ٹیکنالوجی کلیدی کردار ادا کرے گی۔ اسلام آباد سیف سٹی سسٹم کی سربراہ کے طور پر کائنات خان ٹریفک مینیجمنٹ کو پاکستان کے جدید ترین شہری نگرانی کے نظاموں میں سے ایک کے ساتھ مربوط کر رہی ہیں، جس میں سینکڑوں ہائی ڈیفینیشن کیمرے، ویڈیو مانیٹرنگ سسٹمز اور شہر بھر میں نصب دیگر ڈیجیٹل آلات شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’ہمارے پاس پہلے ہی جدید کیمرے اور ڈرونز فعال ہیں اور اب ٹریفک پولیس سیف سٹی کے ساتھ مل کر سڑکوں کو زیادہ محفوظ اور سفر کو زیادہ آسان بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ جلد ہی تقریباً 700 نئے کیمرے ان مقامات کو بھی کور کریں گے جو پہلے نگرانی سے باہر تھے، جس سے پورے شہر کی مؤثر نگرانی اور سکیورٹی یقینی بنائی جا سکے گی۔‘

ٹیکنالوجی اور قانون نافذ کرنے کے اقدامات پر توجہ کے باوجود کائنات خان نے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد انسانی جانوں کو بچانا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ٹریفک قوانین کا مقصد ڈرائیوروں کو سزا دینا نہیں بلکہ حادثات کی روک تھام اور محفوظ ڈرائیونگ کی عادات کو فروغ دینا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’اسلام آباد کے شہریوں سے میری سادہ سی درخواست ہے کہ ٹریفک قوانین پولیس کے لیے نہیں بلکہ جانیں بچانے کے لیے اختیار کریں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے شہری اور تمام پاکستانی محفوظ رہیں اور ترقی کریں۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین