کشمیر میں حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے: رانا ثنا

رانا ثنا کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی 20 نشستوں پر دوسرے مرحلے کے انتخابات میں مسلم لیگ ن نے 13 نشستوں پر اور مجموعی طور پر اب تک 23 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ 3 اگست 2026 کو اسلام آباد میں وزیر برائے امور کشمیر امیر مقام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے (سکرین گریب)

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے پیر کو دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں منعقدہ انتخابات کے دو مراحل میں مجموعی طور پر ان کی جماعت کو حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت مل چکی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام  کشمیر کے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اتوار کو مظفرآباد ڈویژن کے آٹھ حلقوں میں پولنگ ہوئی جبکہ لینڈ سلائیڈنگ اور بارش کے باعث دو حلقوں میں پولنگ موخر کر دی گئی تھی۔ اسی طرح پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کی 12 نشستوں پر بھی کل ہی ووٹنگ ہوئی۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن کی جانب سے تاحال گذشتہ روز ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں تمام حلقوں کے حتمی اور سرکاری نتائج سامنے نہیں آئے، تاہم غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کو برتری حاصل ہے۔

انتخابات کے دوران پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان ایک مرتبہ پھر دھاندلی اور بدانتظامی کے الزامات کا سخت تبادلہ ہوا۔

سینیٹر رانا ثنا اللہ نے پیر کو وزیر برائے امور کشمیر امیر مقام کے ہمراہ پریس کانفرنس ہوئے کہا کہ قانون ساز اسمبلی کی 20 نشستوں پر دوسرے مرحلے کے انتخابات میں مسلم لیگ ن نے 13 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔

ان کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کی 12 میں سے 10 نشستوں پر مسلم لیگ ن کے امیدوار کامیاب ہوئے جبکہ مظفرآباد ڈویژن کی 7 نشستوں میں سے 4 پر مسلم لیگ ن اور 3 پر پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

بقول رانا ثنا: ’مجموعی طور پر  کشمیر کی 45 نشستوں میں سے اب تک 23 پر مسلم لیگ ن کامیاب ہو چکی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہو گی، ’جو نواز شریف کے اعلان کے مطابق عوام سے کیے گئے تمام وعدے پورے کرے گی اور علاقے میں ترقی کا نیا دور شروع ہو گا۔‘

بقول رانا ثنا: ’انتخابات کے تیسرے مرحلے کے فوراً بعد پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلایا جائے گا، جس میں مستقبل کے بارے میں فیصلے کیے جائیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ساتھ ہی انہوں نے دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات ’شفاف‘ ہوئے ہیں اور پیپلز پارٹی کے دھاندلی کے دعوے میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’پاکستان پیپلز پارٹی انتخابات سے قبل دھاندلی کے الزامات عائد کر رہی تھی، تاہم اب انہیں قوم کو بتانا چاہیے کہ انتخابات شفاف تھے یا نہیں؟ دھاندلی کے الزامات کے ثبوت مانگے گئے تو پہلے 13 پولنگ سٹیشنز کا دعویٰ کیا گیا پھر یہ تعداد کم ہو کر چار اور بعد ازاں صرف دو پولنگ سٹیشنز تک محدود رہ گئی۔‘

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما راجا پرویز اشرف نے کہا ہے کہ ’ان کی ذاتی رائے ہے کہ پیپلز پارٹی کو نتائج مسترد کرکے تیسرے مرحلے کا بائیکاٹ کر دینا چاہیے۔‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’حتمی فیصلہ پارٹی کی مرکزی قیادت کرے گی۔‘

اتوار کو اسلام آباد میں شیری رحمان اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں راجا پرویز اشرف نے کہا کہ ’الیکشن صاف شفاف نہیں، غیر جانبدارانہ نہیں تو انہیں کوئی نہیں مانے گا۔‘

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر مظفرآباد منیر قریشی نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ جن انتخابی حلقوں میں گذشتہ روز پولنگ ملتوی کی گئی تھی، وہاں اب منگل (4 اگست) کو دوبارہ پولنگ ہوگی۔

مظفرآباد ڈویژن کی مجموعی طور پر نو نشستوں میں سے دو حلقوں میں پولنگ ملتوی ہوئی تھی۔

منیر قریشی کے مطابق: ’انتخابی عمل شفاف انداز میں جاری ہے اور انتظامیہ آزاد، منصفانہ اور پرامن انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔‘

کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے تیسرے مرحلے کے انتخابات کا انعقاد اب 10 اگست کو ہونا ہے، جہاں پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہو گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان