پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی کشمیر انتخابات پر محاذ آرائی پرانا رجحان؟

پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن ملک کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں عام انتخابات کے پہلے مرحلے کے اختتام کے بعد گذشتہ روز آمنے سامنے آ گئیں، جسے تجزیہ کار ’پرانا سیاسی رجحان‘ قرار دے رہے ہیں۔

 پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری (دائیں) اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز 25 جولائی  2022 کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے لیے پہنچ رہے ہیں (عامر قریشی/اے ایف پی)

وفاق میں اتحادی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں عام انتخابات کے پہلے مرحلے کے اختتام کے بعد گذشتہ روز آمنے سامنے آ گئیں اور تلخیاں بڑھ گئیں لیکن سینیئر تجزیہ کار اسے ’پرانا سیاسی رحجان‘ قرار دے رہے ہیں۔

کشمیر میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر تین مراحل میں کروائے جانے والے انتخابات کے پہلے مرحلے کے میرپور ڈویژن میں نتائج سامنے آتے ہیں غیرمعمولی بیانات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پولنگ کا یہ عمل ’جھڑپوں، تشدد اور دھاندلی‘ کے الزامات کی نظر رہا جبکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے پر ’انتخابی بے ضابطگیوں‘ کے الزامات عائد کیے۔

جہاں ایک جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دھاندلی کے الزامات کے ساتھ حکومت اور مظاہرین جموں و کشمیر میں جاری کشیدگی کے حل کے لیے ایک ’کمیشن برائے سچائی و مفاہمت‘ کے قیام پر اتفاق کرنے کا مطالبہ کیا، وہیں دوسری جانب مسلم لیگ ن کی رہنما اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جواب میں پیپلز پارٹی کو جمہوریت کے جذبے کے تحت اپنی ’شکست تسلیم کرنے‘ کا کہا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے میرپور ڈویژن کی 13 میں سے نو نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کو چار نشستیں ملیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مسلم لیگ ن اس انتخابی برتری کو ’عوامی اعتماد کا اظہار‘ قرار دے رہی ہے جبکہ پیپلز پارٹی نتائج اور انتخابی عمل پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہی ہے۔ یپلز پارٹی کے سیاسی بیانات میں کافی محتاط سمجھے جانے والے بلاول بھٹو زرداری نے تاہم منگل کو مظفر آباد میں پارٹی ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ریاست کو فیصلہ کرنا ہے کہ ہمارے لیے قومی مفاد زیادہ اہم ہے یا ن لیگ کا مفاد؟ ہم قومی مفاد میں ریاستِ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، ن لیگ کے مفاد میں نہیں۔ کشمیر کے الیکشن میں میر پور اور کوٹلی کے ووٹ پر ڈاکا مارا گیا۔‘

لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی سیاست میں یہ عمل صرف انتخابی سیاست اور الزامات تک محدود رہے گا یا پھر اس کے اثرات اسلام آباد میں قائم حکومتی اتحاد تک بھی پہنچ سکتے ہیں؟

اور اگر دونوں جماعتیں مرکز میں اتحادی بنی رہیں تو کیا کشمیر کی صورت حال ان کے اتحاد کو کمزور کر سکتی ہے؟ یا دونوں ایک بار پھر سیاسی مصلحت کو ترجیح دیں گے؟

انڈپینڈنٹ اردو نے سینیئر صحافیوں اور تجزیہ کاروں سے گفتگو میں ان سوالات کے جوابات جاننے کی کوشش کی ہے۔

صحافی ابصا کومل سمجھتی ہیں کہ کشمیر کے حالیہ انتخابات میں ایک بار پھر وہی ’سیاسی رجحان‘ دیکھنے کو ملا جو اس سے پہلے گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھی سامنے آیا تھا۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ گلگت بلتستان کی ’انتخابی مہم کے دوران مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری نے ایک دوسرے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، لیکن ماضی میں ایسے انتخابات کے بعد شہباز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان رابطوں سے معاملات معمول پر آ جاتے رہے ہیں۔‘

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

تاہم بقول ابصا اس بار ایک فرق ضرور تھا۔ ’دونوں جانب سے الزامات غیر معمولی حد تک سخت تھے۔ رانا ثنا اللہ نے سندھ حکومت پر کرپشن کے الزامات لگائے جبکہ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن پر مینڈیٹ چوری کا الزام عائد کیا۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی بیانیہ ماضی میں پاکستان تحریکِ انصاف ان دونوں جماعتوں کے خلاف استعمال کرتی رہی ہے، اس لیے اس لفظی جنگ نے کسی حد تک اپوزیشن کے موقف کو بھی تقویت دی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ کشیدگی بھی ماضی کی طرح جلد ختم ہو جائے گی یا اس بار بلاول بھٹو اور مریم نواز کے درمیان بڑھنے والی تلخی حکومتی اتحاد پر دیرپا اثرات چھوڑے گی۔‘

سینیئر صحافی عاصمہ شیرازی بھی سمجھتی ہیں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان اختلافات ’کوئی نئی بات نہیں۔‘

انہوں نے انڈپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھی دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے مدمقابل تھیں لیکن نظریاتی اختلافات کے ساتھ ساتھ طرز حکمرانی پر بھی ان کے اختلافات نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔‘

عاصمہ شیرازی کا مزید کہنا تھا کہ ’فی الحال یہ اختلافات اس نوعیت کے نہیں کہ پیپلز پارٹی وفاقی حکومت سے علیحدگی اختیار کر لے۔ ایسا تبھی ممکن ہوگا جب اسے سیاسی طور پر اتحاد ختم کرنا ناگزیر محسوس ہو۔

’ماضی میں بھی گلگت بلتستان کے انتخابات کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تھی لیکن بعد میں شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان رابطوں سے معاملات معمول پر آ گئے تھے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اس لیے موجودہ کشیدگی کو فی الحال انتخابی سیاست کے تناظر میں ہی دیکھنا چاہیے۔ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ پہلے مرحلے کے بعد دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان ایک سنجیدہ دراڑ نمایاں ہو چکی ہے۔‘

دوسری جانب اینکر اجمل جامی کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ ن دونوں اس ’سیاسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش‘ کر رہے ہیں جو پاکستان تحریک انصاف کی محدود انتخابی موجودگی یا عدم شرکت کے باعث پیدا ہوا ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ سے گفتگو میں بتایا کہ ’دونوں جماعتیں عوامی توجہ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں ایک بڑی اپوزیشن جماعت مؤثر انداز میں انتخابی میدان میں موجود نہیں ہے۔‘

بقول اجمل جامی: ’پیپلز پارٹی کے اپنے بھی نظام سے متعلق تحفظات اور شکوے ہیں جبکہ بلاول بھٹو ایک نوجوان رہنما کے طور پر اس موقعے کو اپنی سیاسی مقبولیت بڑھانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ گلگت بلتستان ہو یا آزاد کشمیر، دونوں انتخابات میں یہی حکمت عملی نظر آتی ہے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’فی الحال ایسا نہیں لگتا کہ یہ کشیدگی وفاقی حکومت کے لیے کوئی بڑا خطرہ بنے گی۔ حکومت سازی کا عمل مکمل ہونے کے بعد حالات معمول پر آنے کا امکان زیادہ ہے۔‘

اجمل جامی کے مطابق: ’عوام اب یہ ضرور سمجھنے لگے ہیں کہ اس نوعیت کے سخت بیانات اور نعرے زیادہ تر انتخابی سیاست کا حصہ ہوتے ہیں جو انتخابات کے بعد اکثر اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔‘

کشمیر انتخابات کے دو راونڈ ابھی باقی ہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ ان کے نتائج بھی ان دو بڑی سیاسی جماعتوں کے تعلقات پر کیسا اثر ڈالیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست