پاکستان کو 3-0 سے وائٹ واش، انگلینڈ سنسنی خیز مقابلے کے بعد فاتح

جو روٹ نے کے بقول رضا اللہ نے ایسے شاندار سٹروکس کھیلے کہ ان کے خلاف فیلڈ ترتیب دینا بھی مشکل ہو گیا تھا۔

انگلینڈ کے وسطی شہر برمنگھم کے ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں 12 ستمبر 2026 کو انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان تیسرے ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز پاکستانی کھلاڑی محمد علی کا ردعمل(اے ایف پی)

انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں ایک موقع پر مشکلات کا شکار ہونے کے باوجود آٹھ وکٹوں سے کامیابی حاصل کر کے تین میچوں کی سیریز 3-0 سے جیت لی۔

برمنگھم میں کھیلے گئے میچ کے چوتھے روز ہدف، 130 رنز کے تعاقب میں انگلینڈ نے پہلی ہی اوور میں دونوں اوپنرز کی وکٹیں گنوا دیں، تاہم جو روٹ اور جارڈن کاکس نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو سنبھالا اور جیت کے قریب پہنچا دیا۔

انگلینڈ کو میچ جیتنے کے لیے صرف 130 رنز درکار تھے، تاہم اسے اس وقت مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جب محمد عباس نے پہلے ہی اوور میں اوپنرز بین ڈکٹ اور ایمیلیو گے کو آؤٹ کر دیا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

انگلینڈ کے سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے والے بلے باز جو روٹ نے رضا اللہ کی گیند پر اپنی پہلی ہی گیند سلپس کے درمیان سے چوکے کے لیے نکالی۔ ابتدائی دباؤ کے بعد انہوں نے تیزی سے رنز بناتے ہوئے صورت حال کو انگلینڈ کے حق میں کر دیا۔

روٹ کو محمد علی کی گیند پر ایک بڑا موقع اس وقت ملا جب وہ گیند کو کھیلتے ہوئے وکٹوں پر مار بیٹھے، لیکن امپائر نے اسے نوبال قرار دے دیا۔ اس فیصلے پر محمد علی خاصے مایوس دکھائی دیے۔

روٹ کو ایک اور موقع محمد عباس کی گیند پر ملا، جب ان کا کیچ پہلی اور دوسری سلپ کے درمیان سے نکل گیا اور دونوں فیلڈرز گیند کی جانب حرکت نہ کر سکے۔

روٹ نے 57 گیندوں پر چوکے کے ساتھ اپنی نصف سنچری مکمل کی، جبکہ جارڈن کاکس نے بھی کچھ ہی دیر بعد 50 رنز کا سنگ میل عبور کر لیا۔

انگلینڈ نے 25ویں اوور میں ہدف حاصل کر لیا۔ روٹ 62 اور کاکس 59 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔

بین سٹوکس کی رخصتی کے بعد دوسری مرتبہ انگلینڈ کی قیادت سنبھالنے والے روٹ نے اعتراف کیا کہ ان کی ٹیم ابھی مکمل طور پر تیار نہیں، تاہم وہ سیریز میں کامیابی پر خوش ہیں۔

انہوں نے سکائی سپورٹس سے گفتگو میں کہا کہ سیریز سے قبل غیر یقینی صورت حال اور افراتفری کے باوجود ٹیم نے حالات کو جس طرح سنبھالا اور میدان میں سامنے آنے والے چیلنجز کا بھرپور مقابلہ کیا، وہ قابل اطمینان ہے۔

روٹ نے کہا کہ ’یہ کامیابی نئے ہیڈ کوچ سٹیفن فلیمنگ کے آنے کے ساتھ ایک نئے دور کے آغاز کے لیے ٹیم کو اچھی پوزیشن میں لے آئے گی۔‘

پاکستان کی مشکلات

انگلینڈ نے 2024 کے بعد پہلی مرتبہ ٹیسٹ سیریز جیتی ہے، جبکہ پاکستان اپنے گذشتہ 21 ٹیسٹ میچوں میں سے 16 ہار چکا ہے اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی پوائنٹس ٹیبل پر آخری نمبر پر ہے۔

جمعے کو انگلینڈ تیسرے دن ہی آسان فتح کی جانب بڑھ رہا تھا، تاہم ڈیبیو کرنے والے فاسٹ بولر رضا اللہ نے بلے سے جارحانہ اننگز کھیل کر انگلینڈ کی مشکلات بڑھا دیں۔ انہوں نے 63 گیندوں پر 81 رنز بنائے، جس میں نو چھکے شامل تھے۔

21  سالہ بلے باز نے انگلینڈ کی پہلی اننگز میں چار وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔ انہوں نے محمد عباس کے ساتھ نویں وکٹ کے لیے 121 رنز کی شراکت قائم کی، جس کے باعث انگلینڈ کی فتح میں تاخیر ہوئی۔

روٹ نے کہا کہ رضا اللہ نے عمدہ بیٹنگ کی اور انگلینڈ کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ ان کے مطابق رضا اللہ نے ایسے شاندار سٹروکس کھیلے کہ ان کے خلاف فیلڈ ترتیب دینا بھی مشکل ہو گیا۔

رضا اللہ کی شاندار بیٹنگ نے پاکستان کے لیے ماحول ضرور کچھ بہتر کیا، لیکن یہ بہت دیر سےآئی۔ پاکستان نے سیریز کا پہلا ٹیسٹ ایک اننگز اور 103 رنز جبکہ دوسرا ٹیسٹ 194 رنز سے ہارا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ میں بھاری شکست کے بعد پاکستان نے اپنے سات کھلاڑی وطن واپس بھیج دیے تھے اور ان کی جگہ سات نئے کھلاڑیوں کو سکواڈ میں شامل کیا گیا، جن میں رضا اللہ بھی شامل تھے۔

دورے کے دوران پیدا ہونے والی افراتفری کے بعد پاکستان نے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور سسٹنٹ کوچ عمر گل کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا تھا۔

پاکستان کو ٹیم پر نظرثانی کرنا ہوگی

پاکستان نے برمنگھم میں تیسرے ٹیسٹ کے لیے ٹیم میں چار تبدیلیاں کیں اور پہلی اننگز میں صرف 133 رنز پر آؤٹ ہونے کے باوجود مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔

کپتان بابر اعظم نے یکطرفہ سیریز کے بعد کہا کہ ٹیم کو اپنی غلطیوں کا تفصیلی جائزہ لینا ہوگا اور آئندہ کے لیے درست پلیئنگ الیون کا فیصلہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ انگلینڈ آنے سے قبل ٹیم اور مختلف معاملات پر غور کرنا پڑا، جبکہ دو میچ ہارنے کے بعد مزید تبدیلیاں بھی کرنا پڑیں۔ ان کے مطابق انگلینڈ میں کھیلنا بہت مشکل ہے اور ٹیم نے تیسرے میچ میں اپنی پوری کوشش کی۔

انگلینڈ کے لیے 3-0 کی یہ کامیابی ایک بڑا حوصلہ ہے، کیونکہ چند ہفتے قبل نیوزی لینڈ کے ہاتھوں سیریز شکست اور ہیڈ کوچ برینڈن میک کولم اور بین سٹوکس کی رخصتی کے بعد ٹیم مشکل دور سے گزر رہی تھی۔

تاہم انگلینڈ کے لیے اگلے بڑے امتحانات ابھی باقی ہیں، جن میں دسمبر اور جنوری میں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز اور اگلے سال ہوم ایشز سیریز شامل ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل