بلوچستان کی پہلی خاتون کمشنر: سائرہ عطا لسبیلہ ڈویژن میں تعینات

سائرہ عطا کو لسبیلہ ڈویژن کا کمشنر مقرر کیا گیا ہے، جسے خواتین کی نمائندگی اور انتظامی میدان میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

حکومتِ بلوچستان نے صوبے کی تاریخ میں پہلی بار کسی خاتون افسر کو کمشنر تعینات کیا ہے۔

 سائرہ عطا کو لسبیلہ ڈویژن کا کمشنر مقرر کیا گیا ہے، جسے خواتین کی نمائندگی اور انتظامی میدان میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

سائرہ عطا کا تعلق بلوچستان کے ضلع آواران سے ہے، جو صوبے کے پسماندہ اور وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے اضلاع میں شمار ہوتا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق ایسے علاقے سے ہے جہاں ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہیں اور عوام آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ‘میرا تعلق بلوچ قوم کی محمد حسنی شاخ سے ہے۔ ہم آٹھ بہن بھائی ہیں اور میں سب سے بڑی ہوں۔‘

سائرہ عطا کے مطابق ان کے والد نے میٹرک تک تعلیم آواران سے حاصل کی اور مزید تعلیم کے لیے خضدار منتقل ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اس دور کی بات ہے جب لوگ اونٹوں پر سفر کرتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ’میرے والد نے تعلیم کو بنیادی ضرورت سمجھا اور تعلیم کے فروغ کے لیے کام کیا۔ انہیں بلوچستان کے پہلے سی ایس پی افسر ہونے کا اعزاز حاصل ہے، جبکہ میری والدہ بھی پی سی ایس افسر رہ چکی ہیں۔‘

سائرہ عطا کے والد نے آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس گروپ میں خدمات انجام دیں اور اسی شعبے سے ریٹائر ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ والدین کی سرپرستی میں انہوں نے ابتدائی تعلیم کوئٹہ سے حاصل کی۔

’میرے والدین کی خواہش تھی کہ خواتین، خصوصاً ان کی بیٹیاں، اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔‘

ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے بلوچستان یونیورسٹی سے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کیا۔

بعد ازاں ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے علاوہ سی پی اے اور کامن پروفیشنل کورس کنگسٹن یونیورسٹی، ہانگ کانگ سے مکمل کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سائرہ عطا نے بتایا کہ انہیں ہانگ کانگ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے ڈاؤننگ سکالرشپ ملی، جس کی بدولت وہ اپنی تمام ڈگریاں مکمل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا تعلق پی سی ایس ایگزیکٹو گروپ سے ہے اور ان کی سروس میں تعیناتی سن 2000 میں ہوئی۔

اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔

بطور کمشنر تعیناتی سے قبل وہ دو سال تک سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ کے طور پر فرائض انجام دیتی رہیں۔

ان کے مطابق اس دوران خواتین کی ترقی کے لیے ریکارڈ اقدامات کیے گئے اور متعدد قوانین بھی متعارف کرائے گئے۔

انہوں نے وفاقی وزارتِ تعلیم میں ڈیپوٹیشن پر دو سال خدمات انجام دیں۔

اس کے علاوہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بطور ڈائریکٹر جنرل اور جوائنٹ سیکرٹری بھی کام کیا۔

سائرہ عطا محکمہ تعلیم بلوچستان میں ایڈیشنل سیکرٹری، محکمہ صنعت میں ڈی جی، کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں سیکرٹری اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (NIM) میں کوآرڈینیٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین