پاکستانی جزیرہ جہاں 45 درجہ حرارت حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے خطرہ

کراچی کے ساحل کے قریب واقع بابا نامی جزیرے کے رہائشیوں کے لیے زندگی ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

پاکستان کے شہر کراچی کے قریب واقع بابا آئی لینڈ پر موجود مائیں اور بچے (نیہا منکانی)

کراچی کے ساحل کے قریب واقع بابا نامی جزیرے کے رہائشیوں کے لیے زندگی ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے قریب واقع اس جزیرے پر تقریباً 25 ہزار افراد صرف ایک مربع کلومیٹر کے محدود رقبے میں آباد ہیں، جہاں سبزہ نہ ہونے کے برابر، بجلی کی فراہمی غیر یقینی اور روزگار کے مواقع زیادہ تر ماہی گیری تک محدود ہیں۔

تاہم سمندر میں بھی حالات خراب ہو رہے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ مچھلیوں کا شکار، ماحولیاتی آلودگی اور سمندری درجہ حرارت میں اضافے کے باعث مچھلیوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، جس سے مقامی آبادی کا ذریعہ معاش متاثر ہو رہا ہے۔

خواتین کے لیے مشکلات اور بھی زیادہ ہیں۔ گرمیوں میں درجہ حرارت اکثر 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے، لیکن سماجی پابندیوں کے باعث خواتین زیادہ تر تنگ، غیر ہوادار گھروں میں رہنے پر مجبور ہوتی ہیں، جبکہ مرد شدید گرمی میں سمندر میں جا کر کچھ راحت حاصل کر لیتے ہیں۔

جب کوئی خاتون حاملہ ہو جاتی ہے تو یہ گرمی مزید جان لیوا بن جاتی ہے۔

کمیونٹی میں کام کرنے والی دائی اور فلاحی ادارے کی بانی نیہا منکانی نے دی انڈپینڈنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’میں کہوں گی کہ گرمیوں کے مہینوں میں شاید آبادی کے 30 سے 40 فیصد افراد کو کسی نہ کسی قسم کا منفی طبی مسئلہ پیش آتا ہے، اور ان میں سے زیادہ تر مسائل کسی نہ کسی طرح گرمی سے متعلق ہوتے ہیں۔‘

ان کے مطابق کئی حاملہ خواتین شدید پانی کی کمی کا شکار ہو کر کلینک پہنچتی ہیں کیونکہ ان کے گھروں میں ہفتوں بجلی نہیں ہوتی۔ گرمی کے موسم میں قبل از وقت پیدائش کے کیسز بڑھ جاتے ہیں، جبکہ بعض نومولود بچوں میں اعصابی اور دل کی بیماریاں بھی سامنے آتی ہیں۔

ثقافتی روایات کے تحت بچوں کو ضرورت سے زیادہ کپڑے پہنائے جانے کے باعث کئی نومولود بھی گرمی اور پانی کی کمی کا شکار ہو کر دوبارہ کلینک لائے جاتے ہیں۔

شدید گرمی اور حاملہ خواتین کے لیے پہلی انشورنس سکیم

جزیرہ بابا جیسی خواتین کو درپیش خطرات کے پیش نظر موسمیاتی تبدیلی سے متعلق تنظیم HERA نے دنیا کا پہلا حاملہ خواتین کے لیے ہیٹ انشورنس پروگرام متعارف کرایا ہے۔

نیہا منکانی کا کہنا ہے کہ گذشتہ چھ برسوں میں شدید گرمی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے ایک چھوٹی دکان کو خواتین کے لیے کلینک میں تبدیل کیا، جہاں سولر پنکھے تو موجود ہیں مگر ایئر کنڈیشننگ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’اکثر خواتین یا نومولود بچوں کی مائیں صرف ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے کلینک میں آ کر بیٹھ جاتی ہیں۔‘

طبی تحقیق بھی بتدریج اس بات کی تصدیق کر رہی ہے کہ شدید گرمی حاملہ خواتین کے لیے خطرناک ہے۔

مختلف مطالعات کے مطابق: شدید گرمی قبل از وقت پیدائش کے خطرے میں 26 فیصد تک اضافہ کر سکتی ہے۔

درجہ حرارت میں ہر 1 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے سے مردہ بچے کی پیدائش کا خطرہ تقریباً 5 فیصد بڑھ جاتا ہے۔

حاملہ خواتین میں دل کی پیچیدگیوں اور نال (Placenta) تک خون کی فراہمی میں کمی کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

دنیا بھر میں تشویش

انٹرنیشنل کنفیڈریشن آف مڈوائفز کے 2024 کے سروے کے مطابق 41 ممالک کی 77 دائیوں میں سے 75 فیصد کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی ان کی کمیونٹیز کی صحت پر منفی اثر ڈال رہی ہے، جس کے نتیجے میں قبل از وقت پیدائش، غذائی قلت اور قدرتی آفات کے دوران طبی سہولیات تک رسائی کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔

انڈیا سے آغاز

ہیرا کی چیف ایگزیکٹو کیتھی بوگمین میکلوڈ کے مطابق یہ نئی انشورنس سکیم پہلے سے موجود پروگرام میں شامل کی جا رہی ہے، جو انڈیا میں تین لاکھ سے زائد غیر رسمی شعبے کے کارکنوں کو شدید گرمی کے دوران مالی امداد فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’جب درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جائے تو خواتین کم کام کر سکیں گی اور مالی تحفظ بھی حاصل ہوگا۔‘

یہ منصوبہ لوریال فاؤنڈیشن سمیت مختلف فلاحی اداروں کے تعاون سے اگلے سال انڈیا میں شروع کیا جائے گا، جبکہ بعد میں اسے تھائی لینڈ اور سیرالیون تک توسیع دینے کا منصوبہ ہے۔

نیہا منکانی کا کہنا ہے کہ بابا آئی لینڈ کی خواتین بھی اس طرح کی سکیم سے بہت فائدہ اٹھا سکتی ہیں کیونکہ گرمیوں میں پانی، بجلی اور ہسپتال کے اخراجات ان کے لیے بڑا بوجھ بن جاتے ہیں۔

کیتھی بوگمین میکلوڈ کے مطابق شدید گرمی صرف حمل ہی نہیں بلکہ خواتین کے خلاف گھریلو تشدد، ہارمونز میں تبدیلی اور ماہواری سے متعلق مسائل میں بھی اضافہ کرتی ہے۔

انہوں نے کہا: ’شدید گرمی موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے تمام خطرات میں سب سے زیادہ جانیں لے رہی ہے، مگر اس کے باوجود دنیا کے کئی حصے اب بھی اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں۔‘

یہ مضمون دی انڈیپنڈنٹ کے Rethinking Global Aid منصوبے کا حصہ ہے۔

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی گھر