جدید مورخ اب تاریخ کے دائرے کو بڑھاتے ہوئے انسانی جذبات کی تاریخ لکھ رہے ہیں۔ عزت، شرم، غصہ، خوشی اور غم یہ وہ جذبات ہیں جو روزمرہ کی زندگی میں معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
انسانی جذبات کا تعلق بھی طبقاتی معاشرے سے ہوتا ہے۔ اشرافیہ اور عام لوگوں کے جذبات کے اظہار میں فرق ہوتا ہے۔ اشرافیہ کو اپنے خاندان، اقتدار اور مالی وسائل کی وجہ سے اپنی عزت کا احساس ہوتا ہے جبکہ غریب آدمی جس کے پاس نہ جائیداد ہے، نہ سرمایہ ہے اور نہ ہی اسے خاندانی امتیاز حاصل ہے اس لیے اس کی عزت بھی معاشرے میں قابل قدر نہیں ہوتی ہے۔
’عزت اور شرم‘ کے موضوع پر David Nash کی مرتب شدہ کتاب قابل ذکر ہے۔ اس میں مصنف نے اس کی تشریح کی ہے کہ معاشرے میں عزت کا کیا مقام ہے۔ اس کے مطابق صاحب عزت وہ افراد ہوتے ہیں جن کا تعلق اعلیٰ خاندان سے ہوتا ہے اور وہ عزت کے اس مقام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں کئی روایات نے جنم لیا اور صاحب عزت افراد کی حفاظت کی۔
یورپ میں عہد وسطیٰ کے زمانے میں ’Knights‘ کا طبقہ اپنی عزت کو قائم رکھنے کے لیے سخت اصول اور قوانین پر عمل کرتا تھا۔ یہ اپنی توحید برداشت نہیں کرتے تھے اور فیصلہ لڑائی کے ذریعے ہوتا تھا۔ یہ بھی ان کے قانون میں تھا کہ جنگ میں بہادری سے لڑیں گے۔ جان دے دیں گے مگر فرار نہیں ہوں گے۔ تیرویں صدی میں عزت کے نام پر ’Dual‘ لڑائی کا رواج ہوا۔ اگر کسی کی توہین کی جاتی تھی تو وہ توہین کرنے والے کو چیلنج کرتا تھا۔
لڑائی کی صورت میں ان میں سے ایک یا دو زخمی ہو جاتا تھا یا مارا جاتا تھا۔ DUAL کی روایت کو ختم کرنے کے لیے چرچ اور ریاست کی جانب سے قوانین نافظ کیے گئے۔ مگر یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ یہ امریکہ تک بھی پہنچ گیا۔ خاص طور سے امریکی سیاست دان جن میں کانگرس اور سینٹ کے نمائندے شامل تھے۔
عزت کے معاملے پر بہت حساس تھے۔ کانگرس میں تقریر کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ ان کے کسی جملے سے کوئی ناراض نہ ہو جائے۔ ایسے کئی واقعات ہوئے کہ جب دو کانگرس کے نمائندے آپس میں لڑ پڑے اور ایک دوسرے کو زخمی کر دیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ جب وہ کانگرس کے سیشن میں جاتے تھے تو اپنے ساتھ پستول، چھری اور چھڑی لے کر جاتے تھے۔ تاکہ کسی جھگڑے کی صورت میں انہیں استعمال کیا جائے۔
بےعزتی کا بدلہ لینے کے لیے ’ڈول‘ کا استعمال ہوتا تھا۔ اس کے لیے کسی میدان کو منتخب کیا جاتا تھا۔ فریقیں کے لڑنے کے لیے وقت مقرر کیا جاتا تھا۔ دونوں کے حمایتی جمع ہو جاتے تھے۔ لڑائی میں استعمال ہونے والے ہتھیار کا انتخاب کیا جاتا تھا۔ فریق ایک خاص فاصلے پر کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔ حاضرین میں ایک ڈاکٹر بھی ہوتا تھا جو زخمی ہونے کی صورت میں اس کی دیکھ بھال کر سکے یا مرنے کی صورت میں اس کی موت کا اعلان کرے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کی ایک دلچسپ صورت یہ ہوئی کہ ہندوستان میں جب سر سید احمد خان پر اعتراضات شروع ہوئے تو انہوں نے بھی اپنے مخالفین کو ’ڈول‘ لڑنے کا چیلنج کیا۔ لیکن ان کے مخالفوں میں سے کسی نے بھی اس چیلنج کو قبول نہیں کیا۔
عزت کے سلسلے میں عورت کے سماجی مقام کا بھی بڑا حصہ ہے۔ کیونکہ عورت مرد کی ملکیت سمجھی جاتی ہے۔ اس لیے اگر کوئی عورت کی توہین کرتا ہے تو اس کے والد، بھائی اور شوہر کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ خاندان کی بے عزتی کا بدلہ لے۔ برصغیر ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات اس وقت اور زیادہ خونریز ہوئے جب یہ افواہیں پھیلتی تھی کہ ہندوؤں نے مسلمان عورتوں کی بے عزتی کی اور مسلمانوں نے ہندو عورتوں کی عصمت دری کی۔
عزت کا سوال خاص طور سے قبائلی معاشرے میں اس وقت پیدا ہوتا ہے۔ جب ایک قبیلے کا شخص دوسرے قبیلے کے فرد کو قتل کر دیتا ہے۔ قبائلی روایت کے مطابق قبیلے کے تمام افراد کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ اس کا بدلہ لیں اور انتقام کے ذریعے اپنی عزت کو برقرار رکھیں۔ اس سلسلے میں اگرچہ کوششیں تو کی جاتی ہیں کہ بات چیت کے ذریعے معاملات کو طے کر لیا جائے۔
مگر مقتول قبیلے کے لوگ اس کو بےعزتی سمجھتے ہیں کہ وہ مقتول کا خون بہا لیں یا اسے معاف کر دیں۔ اس لیے قبائل میں ایک کے بعد ایک قتل کی واردات ہوتی رہتی ہے۔ موجودہ زمانے میں جب ریاست نے قتل کے مجرم کو عدالت کے ذریعے سزا دینے کا فیصلہ کیا تو یہ انتقامی سلسلہ ختم ہوا۔
یورپ نے مجرموں، رشوت لینے والوں، ناپ تول میں کمی کرنے والوں، ملاوٹ کرنے والوں، بے ایمانی جھوٹ اور محدے کی خلاف ورزی کرنے والوں کو شہر کے چوک پر سزا دی جاتی تھی۔ ان کے سر مونڈ دیے جاتے تھے۔گلے میں لوہے کے کالر باندھ دیے جاتے تھے۔ ان کے جسم کے حصوں کو آگ سے داغ دیا جاتا تھا تاکہ لوگ ان کو پہچان سکیں۔
یورپ کے عہد وسطیٰ میں سزا کا ایک طریقہ پلورین کہلاتا تھا۔ یہ لکڑی کا ایک فریم ہوتا تھا جس میں مجرم کے دونوں ہاتھ باندھ دیے جاتے تھے۔ اس کا چہرہ اور سینہ کھلا رکھا جاتا تھا۔ آنے جانے والے لوگ اس پر گند پھینکتے تھے اور اسے شرمندہ کرتے تھے۔
سزا کا ایک دوسرا طریقہ یہ تھا کہ مجرم کے گلے میں ایک بھاری پتھر ڈال دیا جاتا تھا اور اسے مارکیٹ میں چلایا جاتا تھا۔ ان سزاؤں کے ذریعے کوشش کی جاتی تھی کہ معاشرے کی اصلاح ہو اور لوگ جرم کرتے وقت سزا کے خوف سے ڈریں۔
اس تناظر میں جب ہم پاکستان کے معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں اس میں عزت و شرم کے کوئی جذبات نہیں پاتے ہیں۔ جبکہ عزت و شرم کے جذبات معاشرے کی اصلاح کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
