شکست، فاشزم اور جمہوریت: جرمنی نے اپنی کھوئی ہوئی عزت کیسے بحال کی؟

کسی بھی قوم کی تاریخ میں ’عزت‘ اور ’شرم‘ کے جذبات گہرا اثر رکھتے ہیں۔ پہلی جنگِ عظیم کی شکست اور ذلت نے ہٹلر جیسے آمر کو جنم دیا، لیکن دوسری جنگِ عظیم کی تباہی اور شرمندگی کے احساس نے جرمن معاشرے کو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے پر مجبور کیا۔

1934 میں ہٹلر ایک بشپ سے ہاتھ ملا رہے ہیں (پبلک ڈومین)

انسان کی فطرت میں کئی جذبات ہوتے ہیں۔ ان میں عزت، شرم، محبت، دشمنی، اعتماد، دوستی، حسد اور رقابت وغیرہ شامل ہیں۔ یہ جذبات خاموش رہتے ہیں اور اس وقت ابھر کر آتے ہیں جب معاشرے میں بحران آئے اور حادثات روزمرہ کی زندگی کو بدل ڈالیں۔

1914 کی پہلی جنگ عظیم میں جرمنی جنگ میں شامل تھا۔ جرمن فوج کی حمایت میں لوگوں میں یہ تاثر تھا کہ وہ فتح یاب ہو گی کیونکہ اس کے جنرلز تجربہ کار تھے۔ اس کا اسلحہ مہلک تھا۔ اس کے فوجیوں میں قوم کی برتری اور اس کی عزت کا احساس تھا لیکن یہ تمام تاثرات اس وقت ٹوٹ گئے جب جنگ میں جرمنی کو شکست ہوئی اور اس نے 1919 میں وارسا کے معاہدے پر ذلت آمیز شرائط پر صلح کی۔

اس پر جرمن قوم میں سخت ردعمل ہوا۔ اس شکست کے بارے میں سیاست دانوں نے عوام سے کہا کہ یہ ایک سازش تھی۔ ان کی پیٹھ میں خنجر گھونپا گیا اور انہیں شکست دے کر قوم کی برتری کو گرایا گیا۔

جنگ کے بعد جو سیاسی انتشار پھیلا اس کے نتیجے میں دو تحریکیں ابھریں۔ ایک کمیونسٹ تھی جو روسی طرز کے انقلاب کو جرمنی میں لانا چاہتی تھی۔ یہ سپارٹاکس تھی جو ایک رومی غلام کے نام پر تھی۔ اس کے دو اہم رہنما تھے۔ ایک روزا لکسمبرگ (وفات 1919) اور دوسرا کارل لیبکنیخت (وفات 1919) تھا۔ جب شکست کے بعد دائیں بازو کے فوجی واپس آئے تو وہ کمیونسٹوں کے سخت خلاف تھے۔ انہوں نے روزا اور لیبکنیخت کو اغوا کیا تو پہلے انہیں اذیتیں دیں، پھر گولی مار کر انہیں ہلاک کیا اور ان کی لاشیں دریا میں بہا دیں۔

کمیونسٹ تحریک کے خاتمے کے بعد دائیں بازو کے نظریات کو فروغ ملا۔ ان میں سے ایک نیشنل سوشلسٹ پارٹی تھی جس کا رہنما اڈولف ہٹلر ہوا تو اس نے پورے جرمنی میں تقریریں کر کے عوام کے جذبات کو ابھارا اور دعویٰ کیا کہ وہ جرمن قوم کی عزت اور وقار کو بحال کرے گا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ 1933 کے الیکشن میں نازی پارٹی کامیاب ہوئی۔ پہلے وہ چانسلر ہوا اور پھر جرمن صدر کی وفات کے بعد وہ صدر کے عہدے پر بھی فائز ہو گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عوامی رہنما کسی سازش اور دشمن کی تلاش کرتے ہیں۔ نازی حکومت نے جرمن قوم کے بحرانوں کا سبب یہودیوں کو قرار دیا۔ یہودی نہ صرف تجارت میں ترقی کیے ہوئے تھے اور ان کے افراد یونیورسٹیوں میں ریسرچ اور تحقیق میں مصروف تھے۔ ریاست کے اعلیٰ عہدوں پر بھی وہ فائز تھے۔ لہٰذا ان کے خلاف لوگوں کے جذبات کو ابھارنا آسان تھا۔

ہٹلر نے سب سے پہلے جرمن قوم کو متحد کرنے کے لیے نازی نظریے کو استعمال کیا، جو تعلیم اور نصابی کتابوں کے ذریعے نوجوانوں کے ذہنوں پر اثر انداز ہوا۔ ریڈیو اور اخباروں میں نازی حکومت کی کامیابی پر تقریریں کرائیں۔ نوجوانوں کے مختلف گروپس بنائے گئے جو جھنڈے لیے سڑکوں پر مارچ کرتے تھے۔ حکومت کے حق میں نعرے لگاتے تھے۔ نوجوانوں کے اتحاد نے ان میں یکجہتی کے جذبات کو ابھارا اور انہیں اپنی طاقت کا بھی علم ہوا۔ نوجوانوں کے ان گروپوں نے یہودیوں کی دکانوں اور عبادت گاہوں پر حملے کیے ۔ اس ماحول میں نامور یہودی استادوں نے جرمنی چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں پناہ لی اور جرمن یونیورسٹیاں ذہنی لحاظ سے اجڑ گئیں۔

جرمنی کی تاریخ میں ایک بار پھر اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جب دوسری جنگ عظیم میں جرمنی پر تباہی آئی۔ اس کے رہنماؤں نے ایک بار پھر اسے سنبھالنے کی کوشش کی، نوجوان طالب علموں نے مسلسل بحث و مباحثے اور مظاہروں کے ذریعے تعلیمی نظام کو تبدیل کیا۔ 1960 کی دہائی میں امریکہ اور پورے یورپ میں بڑی سیاسی تحریکیں اٹھیں لیکن یہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

مایوس ہو کر کچھ انقلابی نوجوانوں نے دہشت گردی کو اختیار کیا تاکہ ریاست کے اعلیٰ عہدیداروں کو ختم کر کے اس کے نظام کو کمزور کر دیں۔ اس کے نتیجے میں اربن گوریلا کی تحریک پیدا ہوئی۔ جرمنی میں بادر مائن ہاف کا گروپ وجود میں آیا۔ یہ ایک عرصے تک گوریلا جنگ لڑتے رہے۔ آخر میں ناکام ہوئے اور پولیس نے گرفتار کر کے ان پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا۔ اس موقع پر فرانس کا مشہور فلسفی ژاں پال سارتر (وفات 1980) ان سے ملنے جرمنی آیا۔ اس کے جرمنی آنے کی خبر ایک بین الاقوامی خبر بن گئی۔ آخر میں بادر اور مائن ہاف دونوں نے خودکشی کر لی۔

ان دونوں جنگوں کے دوران دو واقعات اور حادثات پیش آئے۔ ان میں سے ایک شرم و غیرت کا احساس تھا کیونکہ ان شکستوں نے اس کی صدیوں کی تاریخ کو بدل ڈالا تھا۔ ان ناکامیوں کے نتیجے میں جرمنی کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ وہ ان کی ذمہ دار ہے۔ پھر اسے تاوان بھی ادا کرنا پڑا اور جرمنی کے کچھ علاقے بھی اس سے لے لیے گئے۔ لہٰذا اس شرم کے بعد اسے اس کی عزت کی بحالی کی ضرورت تھی۔ اس نے جمہوریت کے اداروں کو مستحکم کیا، تعلیمی اداروں میں سائنس اور سماجی علوم پر توجہ دی گئی، بے روزگاری کے خاتمے کے لیے سوشل سکیورٹی کا سسٹم نافذ کیا گیا۔ ان اصلاحات نے جرمنی کو سیاسی اور معاشی طور پر مستحکم کر دیا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ