دماغ کا الٹا پن جب رشتوں میں رکاوٹ بن جائے تو کیا کریں؟

پہلے صرف چند دماغ سوچتے تھے، باقی سب کام کام اور بس کام کرتے تھے۔

جو آپ سے پیار کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں آپ کے دماغ کو بھی گود لے لیں، دماغ لیکن الٹا چلتا ہے، بس اسی الٹے پن کی قمیت آپ ساری زندگی ادا کرتے ہیں۔

اگر اپنا دماغ آپ بالکل ویسا کر لیں جیسا وہ چاہتے ہیں تو کیا مزا ہو۔ سوچیں، زندگی میں کون سا مسئلہ باقی رہ جائے گا؟

ایسا ہوتا اس لیے نہیں کہ ہر انسان اپنی سوچ کا بادشاہ ہے۔ اگر آج میں یہ سوچوں کہ بھائی مجھ سے بڑا رئیس آدمی کوئی نہیں، بہترین کپڑے، اچھا کھانا، رہنے کے لیے چھت، جسمانی صحت، ہر چیز خدا کا شکر میرے پاس ہے تو مجھے کیا ہی غم باقی رہ جائے گا؟

اور اگر میں سوچنا شروع کر دوں کہ کل میرے پاس یہ سب کچھ نہیں ہو گا، میں ایک کارپوریٹ مزدور ہوں، آٹھ گھنٹے کی نوکری کے بعد میرے پاس کوئی وقت نہیں بچتا، آج مجھے نزلہ کیوں ہوا، پرسوں نیند کیوں نہیں آئی، اکرم اور بشیر نے اپنی لڑائی میں کہیں میری طرف اشارہ تو نہیں کیا؟

ساری دنیا ہمیشہ میرے خلاف کیوں ہوتی ہے؟ تو بس فیر سوچی پیا تے سب کجھ گیا۔

دماغ ہمیں الجھاتا ہے، دماغ ہمیں سلجھاتا ہے، دماغ ہی تھک جاتا ہے تو سلا دیتا ہے کیوں کہ جسمانی محنت ہم لوگ کرتے ہی نہیں۔

مجھے لگتا ہے میرے دادا دادی کے زمانے تک کیونکہ زیادہ تر کام آٹومیٹڈ نہیں ہوتے تھے اس لیے وہ لوگ کم سوچتے تھے، خوش رہتے تھے اور رج کے نیند پوری کرتے تھے۔

میں نے سنا ہے جب میں پیدا ہوا تو میرے دادا نے ایک شاگرد کو ساتھ لیا، ان کے پاس بہت سے لڈو تھے، پورے محلے میں پیدل وزٹ کیا، ہر ایک گھر مٹھائی پہنچائی، مبارک باد وصول کی اور پھر واپس آئے۔

اپنا مجھے یاد ہے، جب میری بہن پیدا ہوئی تو میں نے اپنے گھر کی چھت پہ ٹیپ ریکارڈ رکھ کے اونچی آواز میں گانے چلا دیے، سامنے کی چھت پہ شاید وسیم بھائی تھے، انہیں چیخ کر بتایا کہ ہماری بہن پیدا ہوئی ہے، بارہ سال کا تھا میں اس وقت، ایک دم نیچے سے دادی نے آواز دی، گیا، ان کا چہرہ غصے سے سرخ تھا، پھر بھی انہوں نے بہت سنبھل کے سمجھایا کہ بیٹا یہ شرم کی بات ہوتی ہے، اس طرح پیدائشوں کا اعلان چھت پہ نہیں کرتے۔

جب میری بیٹی پیدا ہوئی تو میری خوشی کا ٹھکانہ کوئی نہیں تھا لیکن میرے پاس فون کرنے کے لیے صرف میرا گھر تھا اور دو دوست ۔۔۔ ایسا کیوں ہوا؟

مٹھائی محلے میں تقسیم کیوں نہیں کی میں نے دادا کی طرح؟ اور اگر بیس سال بعد آج وہ پیدا ہوتی تو میں کیا کرتا؟ اب تو فون کرنے کا بھی رواج نہیں ۔۔۔ سوشل میڈیا پوسٹ لگا دیتا یا وٹس ایپ پہ ایک فارورڈ میسج گھما دیتا قریبی احباب کو۔

یہ تین پیدائشیں گنوانے کا مقصد یہ تھا کہ دیکھیے سوشل لائف ہماری کس طرح سے بدلی ہے۔ کدھر ایک صاحب کوٹ پتلون پہنے پیدل گھوم رہے ہیں سارے محلے میں، سب سے مل رہے ہیں، مٹھائی تقسیم کر رہے ہیں، فروری کا مہینہ ہے، ملتان کی صبح ہے، جس سے بھی ملتے ہوں گے دس بارہ منٹ گپ شپ ہوتی ہو گی۔

آس پاس کے پندرہ گھروں میں بھی گئے ہوں تو کم از کم دو ڈھائی گھنٹے کی ایکٹیویٹی بنتی ہے ۔۔۔ اب کیا ہوتا ہے؟ صرف فون اور آپ، صرف کمپیوٹر اور آپ، صرف سوشل میڈیا اور آپ۔

اب ہمارے پاس سوچنے کے لیے بے تحاشا وقت ہے، دوسروں کی پوسٹیں دیکھ کے کڑھنے کی فرصت ہے لیکن آس پاس کے گھروں میں رہتا بھی کون ہے، یہ ہمیں شاید ہی پتہ ہو۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تو لانجھا شروع ہوا تھا کام آٹومیٹڈ ہونے سے، ہوا یہ کہ اس کے بعد زندگیاں غیر محسوس طریقے سے بدل گئی ہیں۔

پہلے صرف چند دماغ سوچتے تھے، باقی سب کام کام اور بس کام کرتے تھے۔

جس عورت یا مرد نے صبح اٹھنا ہے، پانی گرم کرنا ہے، ہانڈی چڑھا کے ناشتے کے لیے آٹا گوندھ کے روٹیاں اور چائے بنانی ہیں، پھر برتن دھونے ہیں، اس بیچ ہانڈی اور بچوں کو بھی دیکھتے رہنا ہے، سبزی والے کی آواز پہ سبزی لینے بھی دروازے پہ جانا ہے، دہی لانا ہے، اس کا دماغ کتنا سوچ لے گا؟ اور اس دماغ کی رفتار کیا ہو گی جس نے فوڈ پانڈے پہ سے آرڈر کرنا ہے؟

تو اگر آپ کسی رشتے میں دماغ کے ہاتھوں خوار ہو رہے ہیں، چاہنے والے چاہتے ہیں کہ آپ کا دماغ بھی ان کی طرح ہو جائے تو اس کا آسان حل یہ ہے کہ بندہ نہ چھوڑیں سوچنا چھوڑ دیں اور فزیکل تھکن والے کام شروع کر دیں۔

یہی حل آپ کو سائیکالوجسٹ نے دینا ہے، آپ کے پیر فقیر گرو دیں گے اور اس کی شکل یہ ہو گی کہ جم جائیں، یوگا کریں، ننگے پاؤں چلیں، گارڈننگ کریں، دوڑنا شروع کریں، گھر میں ورزش کریں یا ایک جانور ہی پال لیں ۔۔۔ جانور کیوں، کہ پھر آپ اس کی فکر میں غرق رہیں گے، غم نہ داری بز بخر۔

تو الٹا دماغ دو وجہ سے ہوتا ہے، علم کی کثرت یا فراغت، پہلی وجہ کا علاج کوئی نئیں، وہ قدرتی ان بلٹ خرابی ہے، لیکن دوسری کے لیے جو اتنے سارے علاج بتائیں ہیں وہی فارمولا علم کی زیادتی پہ بھی اپلائے ہو سکتا ہے۔

فزیکلی مصروفیت کے بہانے ڈھونڈیں، دماغ سکون میں رہے گا۔

آسان ترین حل یہ ہے کہ جوتے پالش کرنے سے لے کر گاڑی سروس، صفائیوں اور برتن دھونے تک، ہر کام خود کریں، بیٹھیں لیٹیں گے نہیں تو سوچیں گے نہیں، سوچیں گے نہیں تو بھلے سے کوئی بھی آپ کا دماغ گود لے لے، زندگی تو آرام سے گزرے گی نا!

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ