اسلام آباد میں پانی کا بحران، کیا دارالحکومت منتقل کرنا پڑے گا؟

آبادی میں اضافہ دنیا کے تمام بڑے شہروں کو متاثر کر رہا ہے لیکن ہمارے ہاں صورت حال اس لیے مختلف ہے کہ ہم عموما بحران جب سر پر آن کھڑا ہوتا ہے تب سوچتے ہیں۔

اسلام آباد میں 29 مئی 2021 کو مزدور پانی کا ٹینکر ایک ہائیڈرینٹ سے بھرنے کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ہر موسم گرما پانی کی قلت کا مسئلہ سنیگن ہوتا جاتا ہے (فاروق نعیم / اے ایف پی)

’صرف دس سال پہلے کی بات ہے۔ اسلام آباد کی یہ ہاؤسنگ سوسائٹی نئی نئی بنی تھی اورابھی یہ صرف دس فیصد آباد تھی۔ یہاں پانی کے آٹھ ٹیوب ویل تھے۔ 24 گھنٹے پانی آتا تھا۔ باغ باغیچے بھی رنگا رنگ پھولوں سے لدے رہتے۔ کچھ گھروں نے کچن گارڈن بھی بنا رکھے تھے۔

’پھر یہاں 80 فیصد پلاٹوں پر مکان بن گئے۔ شروع میں ٹیوب ویل خشک ہونا شروع ہوئے تو لوگوں نے مکانوں میں بور کرنا شروع کر دیے۔ دو سال بعد بور بھی خشک ہونے لگے۔

اب  صرف اس ہاؤسنگ سوسائٹی میں ماہانہ ایک ہزار ٹینکر آتے ہیں۔ پانی کی کمی کی وجہ سے نہ صرف گھر کرائے پر نہیں لگتے بلکہ اب ان کی قیمتیں بھی مسلسل گر رہی ہیں کیونکہ اب بیچنے والے زیادہ ہیں اور خریدنے والے کم۔‘

یہ کہانی اب صرف طارق اقبال کی نہیں بلکہ اسلام آباد ایکسپریس وے کے دائیں بائیں آباد ہر ہاؤسنگ سوسائٹی کے رہائشی کی ہے جس کی زندگی کو پانی کی کمی نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔

اسلام آباد میں پانی کا بحران کتنا شدید؟

وفاقی ادارہ شماریات  کے مطابق اسلام آباد کی آبادی 2,363,863  نفوس پر مشتمل ہے جس میں اسلام آباد کی شہری آبادی 11 لاکھ ہے، باقی دیہی ہے۔

اس کا  مطلب ہر گز یہ نہیں کہ یہ کسی دیہات میں رہتے ہیں بلکہ سی ڈی اے کے سیکٹروں کے باہر کی آبادی کو دیہی آبادی ہی گنا جاتا ہے چاہے وہ کسی جدید ترین ہاؤسنگ سوسائٹی کی ہی کیوں نہ ہو۔

اسلام آباد کا سیٹلائٹ نقشہ دیکھیں تو ایسے لگتا ہے کہ آبادی اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی ظاہر کی جا رہی ہے۔ اسی حساب سے دیکھیں تو اسلام آباد کے سیکٹروں کو روزانہ447  ملین لیٹر پانی کی ضرورت ہے جبکہ فی الوقت جو پانی دستیاب ہے وہ 270 ملین لیٹر ہے۔

اس میں سے بھی 30  سے 40  فیصد پانی ٹیوب ویلوں کے ذریعے  فراہم کیا جا رہا ہے اور باقی  تین ڈیموں جن میں سملی ڈیم، راول ڈیم اور خان پور ڈیم شامل ہیں وہاں سے لیا جا رہا ہے۔

ٹیوب ویلوں کا پانی زیادہ تر ای سیون، ایف سیون اور ڈی بارہ کے سیکٹروں میں دیا جا رہا ہے جو مارگلہ ہلز کے ساتھ  ہیں اس لیے وہاں زیر زمین پانی وافر ہے۔

جبکہ اس کے مقابلے میں آئی ایٹ، آئی نائن، ایچ نائن میں زیر زمین پانی کم ہے جبکہ باقی سیکٹروں میں زیر زمین پانی نہ ہونے کے برابر ہے۔ جہاں سی ڈی اے ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کرتا ہے۔

اس کے علاوہ کچھ سیکٹرز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے بھی زیر انتظام ہیں جہاں پانی کی شدید قلت ہے۔ گرمیوں میں تو ٹینکرز کا ملنا بھی خوش نصیبی کی علامت سمجھا جاتا ہے بلکہ شدید گرمی کے دنوں میں تو ایک واٹر ٹینکر تین تین گھروں میں تقسیم کر کے دیا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ حال تو سیکٹروں کا ہے جبکہ سیکٹروں سے باہر جو ہاؤسنگ سوسائٹیز گذشتہ پندرہ بیس سالوں میں آباد ہوئی ہیں ان کے ہاں پانی کی فراہمی کا انحصار صرف زیر زمین پانی پر ہی تھا۔

شروع شروع میں تو انہوں نے دھڑا دھڑ  ٹیوب ویل لگائے، جب ٹیوب ویل بھی جواب دے گئے تو انہوں نے اپنے رہائشیوں کو ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جو فی ٹینکر تین سے پانچ ہزار روپے وصول کر رہے ہیں۔

یعنی اب ایک اوسط گھرانے پر بھی پانی کے خرچے کا ماہانہ بل بیس ہزار تک پہنچ چکا ہے۔

کیا اس کا کوئی حل بھی موجود ہے؟

اسلام آباد جب بنایا گیا تو خیال تھا کہ اس کی آبادی پانچ لاکھ سے تجاوز نہیں کرے گی۔ اس کے لیے راول اور سملی ڈیم بنائے گئے جو طویل عرصہ تک پانی کی ضروریات پوری کرتے رہے لیکن پھر جب پانی کی کمی ہوئی تو خان پور ڈیم سے اضافی پانی حاصل کر لیا گیا۔

لیکن اب بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے سی ڈی اے نے دو مزید ڈیم بنانے کا عندیہ دیا ہے ایک شاہدرہ ڈیم ہے جو مارگلہ ہلز میں قائداعظم یونیورسٹی کے پیچھے بنایا جائے گا جبکہ دوسرا دوتارا ڈیم دریائے ہرو پر خان پور ڈیم سے پہلے بنایا جائے گا۔

لیکن یہ منصوبے ابھی بہت ابتدائی سطح پر ہیں۔ ان پر کام کا آغاز کب ہو گا اور یہ کب تک بن جائیں گے؟ اس حوالے سے شیخ سعدی کی ایک حکایت ہے کہ ’تا تریاق از عراق آوردہ شود، مارگزیدہ مردہ باشد‘ یعنی جب تک زہر کا علاج عراق سے پہنچے گا تب تک جس کو سانپ نے کاٹا ہو گا وہ مر چکا ہو گا۔

 سی ڈی اے زیر زمین پانی کو ری چارج کرنے کے ایک منصوبے پر بھی عمل پیرا ہے جس کے تحت  مختلف علاقوں میں پانی کے کنویں کھودے جائیں گے اور ان میں پارش کا پانی ڈالا جائے گا تاکہ زیر زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح کو بحال کیا جائے۔

اس کے علاوہ اسلام آباد کے تمام مکانات کے اندر بارش کے پانی کو بھی ری چارج کنووں میں ڈالنے کا ایک قانون بھی زیر غور ہے۔

جنرل مشرف کے دور میں جڑواں شہروں کو دریائے سندھ سے ایک نہر لا کر پانی کی فراہمی کا منصوبہ  پیش کیا گیا  تھا۔

جس پر عملی پیش رفت 2011 اور 2014 میں اس وقت ہوئی جب مشترکہ مفادات کونسل میں یہ منصوبہ پیش کیا گیا کیونکہ دریائے سندھ کے پانی سے وفاقی دارالحکومت کو پانی کی فراہمی کی منظوری کے لیے چاروں صوبوں کی رضامندی ضروری تھی۔ مگر صوبہ سندھ اس پر راضی نہیں ہوا۔

لیکن 2016 میں چاروں صوبوں نے راولپنڈی اسلام آباد کو روزانہ دس کروڑ گیلن پانی کی فراہمی پر آمادگی ظاہر کر دی۔

اس منصوبے کے لیے عالمی بینک نے بھی محدود فنڈنگ پر آمادگی ظاہر کر دی تھی۔ پھر یہ منصوبہ کابینہ ڈویژن اور سی ڈی اے کے درمیان خط و کتابت  کی نذر ہو گیا اور آج تک نہیں معلوم کہ اس اہم منصوبے کی 2008  سے مکمل فزیبلٹی سٹڈی کو کس  فائل میں دفن کر دیا گیا ہے۔

پانی کی کمی سے وفاقی دارالحکومت کو  کتنا خطرہ؟

ہمارے ہمسائے میں ایران کا دارالحکومت تہران پانی کی شدید کمی کا شکار ہے۔ اس سال کے شروع میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی اس بحث میں شامل ہو چکے ہیں کہ ایرانی دارالحکومت کو کسی ایسی جگہ منتقل کر دیا جائے جہاں پانی کی فراوانی ہو۔

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کی بھی یہی حالت ہے۔ میکسیکو، کیپ ٹاؤن، ڈھاکہ، چنائے، سان ڈیاگو، لاس ویگاس، بیجنگ، نئی دہلی، قاہرہ، ٹوکیو اور استنبول بھی پانی کی شدید کمی کا شکار ہیں۔

آبادی میں اضافہ دنیا کے تمام بڑے شہروں کو متاثر کر رہا ہے لیکن ہمارے ہاں صورت حال اس لیے مختلف ہے کہ ہم عموما بحران جب سر پر آن کھڑا ہوتا ہے تب سوچتے ہیں۔

اسلام آباد کی نصف سے زیادہ آبادی پانی کی شدید کمی کا شکار ہے۔ کوئی ایسا منصوبہ قریب قریب ایسا نہیں ہے جس سے یہ مسئلہ حل ہو سکے۔

اس لیے اب یہ خیال پیش کیا جا رہا ہے کہ مارگلہ ہلز سے ٹنل نکال کر خان پور کے طرف ایک نیا اسلام آباد بسایا جائے جہاں پانی کی فراوانی ہے۔

اسی پس منظر میں اسلام آباد کی حدود نتھیا گلی تک بڑھائی جانے کی تجاویز بھی سامنے آ رہی ہیں اور راولپنڈی کو بھی وفاقی علاقہ قرار دینے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

اسلام آباد نیا صوبہ بنتا ہے یا نہیں یہ الگ بحث ہے لیکن اسلام آباد کی بقا کا دارومدار اب پانی پر ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ