تحفے کے ماتھے پہ پرائس ٹیگ مت چپکائیں

تحفے کی قیمت اگر پہلے ہی پتہ ہو تو پھر احساس غائب ہو جاتا ہے، خریداری پیچھے کھڑی دُم ہلا رہی ہوتی ہے۔

تحفے کی قدر اس دن ختم ہوئی ہو گی جس دن ہم نے اس کے ماتھے پہ پرائس ٹیگ چپکایا اور اسی لیے شاید ہم لوگ اب تحفے ویلیو کرنا بھول گئے ہیں۔

دیکھیں بہت سیدھی سی بات ہے کوئی آدمی آپ کو تحفہ دے رہا ہے، وہ کچھ بھی ہے، اس کا مطلب ہے کہ وہ آپ کو اس قابل سمجھ رہا ہے کہ آپ کو تحفہ دیا جائے۔

فرض کیجے وہ تحفہ آپ کے کسی کام کا نہیں، تب بھی، مذاق میں بھی، اگلے دس سال بعد بھی یہ بات کرنا کہ فلاں تحفہ آپ کے لیے بیکار تھا، یا کم قیمت تھا، یا خراب ہو گیا، اس سے کمتر بات دنیا میں کوئی نہیں ہو سکتی۔

میرے نزدیک صرف اس چیز کی قدر ہونی چاہیے کہ تحفہ دیا گیا، اور تحفہ لینے کے بعد آپ نے اس کا فیڈ بیک کیا دیا!

آپ کے چہرے پر شکر گزاری کے تاثرات تھے یا نہیں؟ آپ نے اس چیز کو کتنی اہمیت دی؟ اور جس شخص نے آپ کو تحفہ دیا اسے آپ نے کیا محسوس کروایا؟

پھر ایک چیز اور ہے، تحفے کو تحفہ سمجھیں، ریس نہیں، زندگی میں کئی بار میں نے اپنے آپ کو ترازو میں بیٹھے ہوئے دیکھا ہے ۔۔۔ آج کچھ دیا، پرسوں ڈیڑھ گرام زیادہ واپس مل گیا، پھر چھ ماہ بعد کچھ دیا، پھر دو دن بعد دو سو گرام زیادہ واپس ۔۔۔ یہ کیا ہے؟ تحفہ احسان نہیں ہے بابا ۔۔۔ بس ایک آدمی اگر آپ کے لیے اچھا محسوس کر رہا ہے تو اس خوشی کی شکرگزاری کا ایک اظہار ہے، پھر چاہے وہ پھول ہوں، کوئی کانٹا یا کچھ بھی۔ جسٹ کیپ اٹ۔ واپسی فورا نہیں کرنی، سو موقعے آئیں گے، اللہ خیر کرے گا۔

تحفہ دینے والا صرف یہ دیکھنا چاہ رہا ہوتا ہے کہ کیا آپ کو واقعی اس بات کا احساس ہے کہ آپ اس انسان کی زندگی میں اہمیت رکھتے ہیں؟ وہ کوئی احسان نہیں چڑھا رہا ہوتا، تو فوراً تحفہ دینا جو ہے، جواب میں، وہ ایسے لگتا ہے جیسے کوئی رشتہ نہیں ہے بس آپ سر سے اتار رہے ہیں۔

خدا نے آپ کو جتنے بھی پیسے دیے ہیں، ہمیشہ دے، اچھا رکھے، لیکن ایک تو جوابی تحفہ فوری نہ دیں، دوسرا کوشش کریں اس ریس سے بچیں کہ یہ دو ہزار کا ملا ہے تو اگلا تین ہزار کا دینا چاہیے، تیسرا یہ کہ تحفے کے اوپر پرائس ٹیگ نہ ہو اور چوتھا یہ کہ تحفہ جیسا مرضی ہو اس کے اندر احساس، خوشی، اپنائیت اور رشتہ ڈھونڈیں ۔۔۔۔ یا تو لیں ہی مت، چٹا انکار، یا دینے والے کو مایوس نہ کریں!

اب تو بلکہ تحفے میں آئی فون دیا جاتا ہے، گاڑی دی جاتی ہے، ہیرے کی انگوٹھی، برانڈڈ گھڑیاں دی جاتی ہیں لیکن وہ سب چیزیں ماتھے پر اپنی قیمت لکھے گھوم رہی ہوتی ہیں ۔۔۔ کہاں وہ دور کہ باقاعدہ دھیان رکھا جاتا تھا کہ اگر کوئی تحفہ دیا جا رہا ہے تو اس کے اوپر سے قیمت والا سٹیکر اتار لیا جائے اور کہاں یہ سب چیزیں؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تحفے کی قیمت اگر پہلے ہی پتہ ہو تو پھر احساس غائب ہو جاتا ہے، خریداری پیچھے کھڑی دُم ہلا رہی ہوتی ہے۔ دیکھیں، کسی کی سالگرہ ہے، پروموشن یا کوئی بھی خوشی، کوئی چیز دی ہے تو کم از کم وہ ایسی تو نہ ہو کہ ایک منٹ میں اس کی قیمت چھپاک سامنے ہو، کیونکہ وہ خوشی کا ریٹ لگانے والی بات ہو گی باقاعدہ، یہ کیا ہوا؟

کوئی قیمتی تحفہ دینا ہے، اوکے، بے شک وہ سونے کی انگوٹھی ہو کسی لوکل سنار نے بنائی ہو وہ بھی برابر قیمتی ہے، لیکن کم از کم ماتھے پر تو قیمت نہیں لکھی ہوئی نا ۔۔۔ آپ میری بات سمجھیں، تحفہ کچھ بھی ہو لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ دیکھنے والا پہلی نظر میں جان لے کہ یہ اتنے ہزار کا ہے، یا اتنے سو کا ہے، یا اتنے لاکھ کا ہے، اور پھر ریس شروع ہو جائے۔ مقصد اپنائیت تھا، اگلے کو ان کمفرٹیبل کرنا نہیں!

مدعا یہ ہے بھئی کہ تحفوں کے آداب ہوتے ہیں اور ٹرسٹ می، ایسے لوگ بہت کم بچ گئے ہیں جن کو تحفہ دیا جا سکے یا جن سے لیا بھی جا سکے۔ باقی اگر آپ سمجھتے ہیں کہ تحفے کی ویلیو نہیں ہو گی تو سیدھے سیدھے پیسے دے دیں لفافے میں۔

ویسے بھی تحفے شحفے فرینکلی مجھے سمجھ نہیں آتے ۔۔۔ بچپن کے جتنے میرے دوست ہیں، کبھی کسی کو تحفہ دیا نہ لیا، آج تک فرسٹ کلاس کام چل رہا ہے ۔۔۔ یہ شاید ان لوگوں کے لیے ہوتے ہیں جو کالج یونیورسٹی کے دنوں میں دوست بنتے ہیں اور جنہیں خلوص کا یقین دلانے کے لیے کوئی چیز درمیان میں رکھنی پڑتی ہے۔

کیونکہ پہلے والے دوست ہمیشہ دماغ میں ساتھ رہتے ہیں، بعد کے دوستوں کو بتانا پڑتا ہے کہ انہیں یاد رکھا گیا ہے۔

تو بس تحفہ معمولی لگے تو دل بڑا کیجے، مہنگا لگے تو حوصلہ کیجے۔۔۔ اور اگر کسی کو تحفہ دینے کا ارادہ ہے تو خدا کے واسطے اس کے ماتھے پہ پرائس ٹیگ نہ چپکائیے ۔۔۔ تحفہ اپنائیت ہے ۔۔۔ مقابلہ ہرگز نہیں!

نوٹ: پی آر والے تحفے اس اصول سے مستثنیٰ ہیں، انہیں کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ