گول کے جشن میں بندوق کا اشارہ، اسرائیلی فٹ بالر کو میدان سے باہر بھیج دیا گیا

اسرائیل کے فارورڈ سعید ابو فرشی کو نیشنز لیگ میں آسٹریا کے خلاف میچ کے دوران گول کرنے کے بعد کارنر فلیگ کو بندوق کی شکل میں استعمال کرنے پر میدان سے باہر بھیج دیا گیا۔

اسرائیل کے سعید ابو فرشی 24 ستمبر 2026 کو آسٹریا کے شہر لنز میں آسٹریا اور اسرائیل کے درمیان یوئیفا نیشنز لیگ گروپ بی 3 کے میچ کے دوران گول کرنے کے بعد پچ کے کارنر فلیگ کا ڈنڈا بندوق کی طرح تھامے اپنی ٹیم کے پہلے گول کا جشن منا رہے ہیں (اے ایف پی)

اسرائیل کے فارورڈ سعید ابو فرشی کو نیشنز لیگ میں آسٹریا کے خلاف میچ کے دوران گول کرنے کے بعد کارنر فلیگ کو بندوق کی شکل میں استعمال کرنے پر میدان سے باہر بھیج دیا گیا۔ آسٹریا نے یہ میچ 3-1 سے جیتا۔

آسٹریا کے شہر لنز کے رائیفائزن ایرینا میں کھیلے گئے میچ میں ابو فرشی نے 55 ویں منٹ میں گول کرکے اسرائیل کو برابری دلائی۔ اس سے قبل آسٹریا نے میچ کے پہلے ہاف کے اختتام سے قبل رومانو شمڈ کی پنالٹی کے ذریعے برتری حاصل کی تھی۔

گول کرنے کے بعد 20 سالہ کھلاڑی کارنر فلیگ کی جانب دوڑا، اسے پکڑا اور جشن مناتے ہوئے بندوق چلانے کا اشارہ کیا۔

ریفری نے اس سے چار منٹ قبل ابو فرشی کو یلو کارڈ دکھایا تھا اور جشن منانے پر انہیں دوسرا یلو کارڈ دکھایا، جس کے بعد انہیں ریڈ کارڈ دے دیا گیا۔ اس طرح اسرائیل کو میچ کے باقی حصے میں 10 کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا پڑا۔

آسٹریا نے 90 ویں منٹ میں فلیپ موئنے کے گول کے ذریعے دوبارہ برتری حاصل کرلی۔ انہوں نے پال وانر کے کراس پر گول کیا جبکہ ساسا کالادزچ نے انجری ٹائم میں قریب سے گول کرکے تیسرا گول داغا اور آسٹریا کی فتح یقینی بنادی۔

اسرائیل کا اگلا مقابلہ اتوار کی شام جمہوریہ آئرلینڈ سے ہوگا، جس کے میچ سے قبل کا ماحول تنازع سے بھرا ہوا ہے۔

اسرائیلی فٹ بال ایسوسی ایشن نے آئرلینڈ کے کوچ ہیمیر ہالگریمسن پر ’منافقت اور حماقت‘ کا الزام عائد کیا، جب انہوں نے کہا تھا کہ ان کی ٹیم دونوں ٹیموں کے درمیان ہونے والے آئندہ دو میچوں میں ’نسل کشی کے خلاف کھیلے گی‘۔

یہ میچ سکیورٹی خدشات کے باعث غیر جانب دار مقامات ہنگری اور سربیا میں کھیلے جائیں گے۔

فٹ بال ایسوسی ایشن آف آئرلینڈ نے تصدیق کی ہے کہ وہ مہم چلانے والوں کی جانب سے میچوں کے بائیکاٹ کے بڑھتے ہوئے مطالبات کے باوجود دونوں میچ کھیلے گی، تاہم اپنی ٹیم کا اعلان کرنے کے بعد ہالگریمسن نے اعتراف کیا کہ ’ہم میں سے کوئی بھی ان میچوں میں کھیلنے میں خود کو آرام دہ محسوس نہیں کرتا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ آئرلینڈ میں میچوں کے بائیکاٹ کے مطالبات کے باوجود ان کے کھلاڑی میچوں پر توجہ کیسے مرکوز کرسکتے ہیں تو ہالگریمسن نے مزید کہا: ’ہم نسل کشی کے ساتھ نہیں کھیل رہے، ہم نسل کشی کے خلاف کھیل رہے ہیں۔ ہم اسرائیل کے خلاف کھیل رہے ہیں، ہم اسرائیل کے ساتھ نہیں کھیل رہے۔‘

سوشل میڈیا پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی فٹ بال ایسوسی ایشن نے لکھا: ’ہم نے دنیا اور انسانیت کے لیے بے شمار شعبوں میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور اس دوران متاثر کن تعداد میں نوبیل انعامات بھی حاصل کیے ہیں۔ بدقسمتی سے، ہمیں ابھی تک آئرلینڈ فٹ بال ٹیم کے کوچ کی جانب سے دکھائی جانے والی حماقت، لاعلمی اور منافقت کا علاج نہیں ملا۔ ہم لاعلمی، منافقت اور حماقت کے ساتھ نہیں کھیل رہے، ہم اس کوچ کے خلاف کھیل رہے ہیں جو ان سب کی نمائندگی کرتا ہے۔‘

آئرلینڈ کے وزیراعظم مائیکل مارٹن نے نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی فٹ بال ایسوسی ایشن کے تبصروں کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ’واپس لیا جانا چاہیے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیلی حکومت نے 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد اپنی جوابی کارروائی کے آغاز سے ہی نسل کشی کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ تقریباً تین سال قبل ہونے والے ان حملوں میں حماس کے ہاتھوں تقریباً 1200 اموات ہوئیں تھیں اور 250 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا جبکہ اقوام متحدہ کے زیر استعمال اعداد و شمار کے مطابق اس کے بعد سے غزہ میں جاری جنگ کے دوران 70ہزار سے زائد فلسطینی جان سے جا چکے ہیں۔

جمعرات کو کوسوو کے خلاف نیشنز لیگ کے میچ سے قبل پریس کانفرنس میں، جو بالآخر آئرلینڈ 1-0 سے ہار گیا، ہالگریمسن نے تسلیم کیا کہ ان کے تبصرے ضروری نہیں کہ سب سے دانشمندانہ اقدام تھے۔

انہوں نے کہا: ’میں نے پچھلی بار جو کچھ کہا، اس سے بننے والی سرخیوں نے اس بات سے توجہ ہٹا دی ہے جو شاید سب سے اہم ہے، یعنی ہم کوسوو کے خلاف ایک اہم میچ کھیل رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’یہ مقصد نہیں تھا اور شاید قیادت کے نقطۂ نظر سے یہ میرے لیے دانشمندانہ نہیں تھا کہ اس طرح توجہ اپنی طرف مبذول کراؤں۔ مجھے میچ پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے اور کھلاڑیوں کو بھی میچ پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ سوال کا جواب یہ ہے کہ ہمیں ملنے والی حمایت پر ہم شکر گزار ہیں۔ یہ ہمارے لیے ایک مشکل وقت ہے۔‘

دریں اثنا، کپتان دارا اوشی نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف کھیلنے سے قبل آئرش کھلاڑی احتجاج کرنے کے امکان پر باہمی مشاورت کریں گے اور فیصلہ ٹیم ’متحد ہوکر‘ کرے گی۔

اوشی نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف میچوں سے قبل آئرش ٹیم کو ایک ’مشکل‘ اور ’غیر معمولی‘ صورت حال کا سامنا ہے اور وہ ہفتے کے اختتام سے قبل اس بارے میں فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے۔

اس رپورٹ کی تیاری میں روئٹرز کی اضافی رپورٹنگ بھی شامل ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال