اپنا بیسٹ ہرگز نہ دیں

بچپن سے ہمیں حکم دیا جاتا ہے، ڈو یور بیسٹ، پوری کوشش کرو، جان لڑا دو، باقی پھر دیکھا جائے گا۔

بچپن سے ہمیں حکم دیا جاتا ہے، ڈو یور بیسٹ، پوری کوشش کرو، جان لڑا دو، باقی پھر دیکھا جائے گا۔ ہم بات ماننے والے بچے تھے، ہم نے دے دیا بیسٹ، دیکھا جب گیا تو کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ یعنی سب کچھ نارمل تھا، کوئی اوقات سے باہر والی کامیابی نہیں ملی۔

تب سمجھ میں آیا کہ خواہ مخواہ بیسٹ دینے کی ضرورت نہیں، بس روٹین سے، مستقل مزاجی سے کام کرتے جاؤ، باقی اللہ مالک ہے۔

ہاں، بیسٹ دینے کے چکر میں یہ دیکھا کہ جو کچھ بھی کیا، وہ ضائع نہیں گیا۔ یعنی جو بھی کام آپ زندگی میں کسی بھی گول اچیو کرنے کے لیے کرتے ہیں، وہ مقصد حاصل ہو نہ ہو، کام موجود رہتا ہے، وہ کسی دوسری جگہ استعمال ہو جاتا ہے، نظر نہیں آتا لیکن آپ کی ہر ایک حرکت کا فٹ پرنٹ آپ کے دماغ میں نقش ہوتا ہے اور کام پڑنے پہ کھٹ سے باہر آ جاتا ہے۔

اسے تجربہ کہہ سکتے ہیں لیکن اس فینامینا کو یہ لفظ پوری طرح واضح نہیں کرتا۔
تو آپ بیسٹ کیوں نہ دیں؟ سیدھی سی بات ہے یار، بیسٹ دے کے انسان کو امید ہوتی ہے کہ وہ جیت جائے گا، جس کام کے لیے ان تھک محنت کی ہے وہ پورا ہو جائے گا، اور جب نتیجہ ویسا نہیں ملتا تو آپ بددل ہو جاتے ہیں، ایک دم مایوس! اس لیے بیسٹ مت دیں۔ ایک آنچ کی کسر رہنے دیں۔

اب اس کا پیمانہ کیا ہو گا؟ یعنی آخری حد تک جان مارنے کی بجائے کیا کریں کہ تھوڑی گنجائش باقی رہ جائے۔
سیدھی بات ہے، خود پر اتنا بوجھ مت لادیں جسے اٹھایا نہ جا سکے۔ اب ایک ویٹ لفٹر ہے، مقابلہ ہوا، اس نے تین سو کلو وزن اٹھا لیا لیکن وہ ہار گیا۔ تین سو کلو کے چکر میں کمر پہ بھی زور پڑ گیا، عمر بھر وہ تکلیف چلتی رہی، خدا ہی ملا نہ وصال صنم، کیا کرے گا وہ؟

اگر وہ 250 کلو اٹھاتا اور اس کے مقابلے پر جو بندہ تھا اس کی کمر میں چُک پڑ جاتی تو کیا ہوتا؟ ویٹ لفٹر ہمارا جو تھا، وہ بیسٹ نہ دے کر بھی جیت جاتا اور کمر بھی سلامت رہتی۔ وقت بڑا بادشاہ ہے۔

تو ’پش یور سیلف‘ یا ’ڈو یور بیسٹ‘ کے لاروں میں نہ آئیں، زندگی ہے، جسم ایک مشین ہے جس کے اندر آپ رہتے ہیں، اس مشین کو سنبھال کے، سکون سے، تیل پانی پورا کر کے استعمال کرتے رہیں، بہت زیادہ چلا دیں گے تو ایکسپائری سے پہلے دھواں دینا شروع ہو جائے گی اور کچھ نہیں۔

اب آتے ہیں اس طرف کہ بیسٹ دینے کے چکر میں جو کچھ آپ کرتے ہیں وہ ضائع کیوں نہیں جاتا۔

آج کل کی زبان میں سمجھ لیں کہ ایک سی وی پر موجود کارناموں کی طرح وہ سب محنت آپ کے اندر نقش ہوتی رہتی ہے، جیسے ہمارا ویٹ لفٹر تھا، کمر جوانی میں ہار گئی تو اسے خیال آیا کہ اپنا کرئیر بدلا جائے، اب وہ فزیوتھیراپسٹ بن گیا۔

ایک فزیو ڈاکٹر ایسا ہے جس نے صرف پڑھا ہے، پھر پریکٹیکل کیے، پھر مریض دیکھے پھر پوری ڈگری لی اور ڈاکٹر بن گیا؛ ایک وہ ہے ہمارا ویٹ لفٹر، جس نے بھگتا ہے، جس نے خود پر تجربے کیے ہوئے ہیں، سخت ترین ورزش کی ہے، خوراکیں لی ہیں، سپلیمنٹ لیے، ان کے سائیڈ ایفیکٹس برداشت کیے ۔۔۔ تو کون زیادہ تجربہ کار ہو گا؟

ویٹ لفٹر کو وہ نہیں ملا جس کے چکر میں اس نے خواری کاٹی لیکن دوسرے شعبے میں وہ بہترین کمانے کھانے لگا، شہرت بھی ہو گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن اس نے بیسٹ دیا تھا اپنا؟ پوری جان ماری تھی ۔۔۔ وہ کس کھاتے میں جائے گا؟
یہاں وقت کا حصہ شروع ہوتا ہے۔ تب اس کا وقت نہیں تھا، اب اس کا وقت ہے۔

تو اسی طرح سب کا وقت ہوتا ہے بابا، کام ضائع نہیں جاتا، کچھ بھی نہیں، یقین کریں اگر آپ کبوتر پالتے رہے ہیں یا خالی بیٹھ کے شطرنج کھیلی ہے دس سال یا آج سکرین پہ وقت گزار رہے ہیں تو یہ سب آپ کا وقت ضائع نہیں کر رہا۔

ہر ایک چیز، آگے کسی فریم میں سیٹ ہونے کے لیے ہے۔ وہ فریم کب آئے گا میں نہیں جانتا، آپ کو بھی علم نہیں لیکن ۔۔۔ ڈو ناٹ ڈو یور بیسٹ!
باقی جب فریم آ جائے گا، تب آپ کو یہ فقیر یاد آئے گا۔ مولا برکت رکھے اور تیزرفتاریوں سے پرہیز کروائے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ