باجی سر پہ کھڑی ہو کے صفائی کیوں کرواتی ہیں؟

ہماری تعلیم بڑھ رہی ہے لیکن تریبت معذرت کے ساتھ اسی سپیڈ سے کم ہو رہی ہے۔ یہ جو ہر طرف پھیلا ہوا ڈپریشن ہے، انسان خود اپنے ساتھ نہیں رہ پا رہا اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جس جگہ وہ رہتا ہے، اس جگہ میں خود ترتیب نہیں ہے، سکون نہیں ہے۔

کبھی نوٹ کریں کہ جو باجی گھر کی صفائی کرنے آتی ہیں، اکثر خود گھر کی مالکن بھی ان کے سر پہ کھڑے ہو کر ایک ایک کام کروا رہی ہوتی ہیں۔

یہ کوئی خبط نہیں ہے، حق بات ہے، دل مطمئن نہیں ہوتا یار، صوفوں کے نیچے صفائی کا پتہ چلتا ہے نہ چارجر کی تار کا ۔۔۔ دوا کسی دراز سے نکلے گی، نیل پالش کہیں اور سے، میلے صاف کپڑے تک مکس ہو جاتے ہیں ۔۔۔ تو سر پہ کھڑے ہوئے بغیر گزارہ نہیں ہوتا۔ ہاں کوئی اپنی قسم کی طبیعت کا بندہ مل جائے کام کرنے والا تب بیٹھے بیٹھے بھی سارے کام ہو جاتے ہیں لیکن ایسا اپنی زندگی میں کم ہی دیکھا گیا ہے۔

سلیقہ امیری غریبی نہیں دیکھتا، صفائی دیکھتا ہے، چیزیں اپنی جگہ پہ موجود دیکھنا چاہتا ہے اور پورا گھر ہر روز ایک ہی طریقے سے آراستہ دیکھنا چاہتا ہے۔

دولت سے آپ خوبصورت چیزیں خرید سکتے ہیں، ذوق نہیں۔ پیسہ بہترین فرنیچر لا سکتا ہے لیکن اسے کن دوسری چیزوں کے ساتھ جگہ دینی ہے، یہ سلیقے سے آتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک عجیب غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے کہ صفائی اور سلیقہ امیروں کے شوق ہیں، جب پیسے جیب میں ہوں گے تب دیکھا جائے گا، ابھی تو بس چلتی کا نام گاڑی رکھو اور کھینچے جاؤ۔

سلیقہ آنکھ اور دماغ کی ٹریننگ ہے، سوچیں کہ ایک جگہ ہے جہاں پر لوگ خوبصورتی دیکھنا ہی نہیں چاہتے، ان کے لیے معمول کیا ہو گا؟ کچرے کے ڈھیر، ٹوٹی سڑکیں، بدنما عمارتیں، بجلی کی تاروں کے جال، ہر طرف سے بڑھتا شور، پرندے کب غائب ہوئے انہیں پتہ نہیں چلے گا، جگنو ان کے ویرانوں کو اندھیرا کب کر گئے ان کی جانے بلا!

ہم لوگ مجموعی طور پہ اس ماحول کے عادی ہو گئے ہیں، یہ سب کچھ ہمیں نارمل لگتا ہے، جب ہر غلط چیز ٹھیک لگنے لگے تو پھر سوال بنتا ہے کہ ایک عورت کام کرنے والی کے سر پہ کیوں کھڑی ہے، جا کے آرام کیوں نہیں کرتی، یا اسے ٹریننگ کیوں نہیں دیتی کہ صفائی ستھرائی ایسی ہو جسے چیک کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔

جواب یہ ہے کہ اس دنیا میں بہت تھوڑے لوگوں کے علاوہ معاشرے کی آنکھ خوب صورتی دیکھنا چھوڑ چکی ہے، ترتیب یا بے ترتیبی سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ شاگرد پیشہ ہیں یا امیر، بلیو کالرڈ ہیں یا وائٹ کالر، اکثریت کو کسی چیز سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی، اور وہ ٹریننگ بھی نہیں چاہتے ۔۔۔ تو، جو آنکھ نارمل بچی ہے، اسے تو ٹھیک رہنے دیں یار!

ہم نے اپنے بچوں کو حساب، سائنس، انگریزی، کمپیوٹر سب کچھ سکھایا ہے لیکن یہ نہیں بتا سکے کہ الماری میں کپڑے تمیز سے تہہ ہوئے موجود ہونا کیوں ضروری ہیں یا فریج کی ڈی فروسٹنگ کس چڑیا کا نام ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہماری تعلیم بڑھ رہی ہے لیکن تریبت معذرت کے ساتھ اسی سپیڈ سے کم ہو رہی ہے۔ یہ جو ہر طرف پھیلا ہوا ڈپریشن ہے، انسان خود اپنے ساتھ نہیں رہ پا رہا اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جس جگہ وہ رہتا ہے، اس جگہ میں خود ترتیب نہیں ہے، سکون نہیں ہے۔ رہنے کی جگہ تو ایسی ہو یار جہاں دو لمحے آرام کے مل جائیں۔

آرام کو بے ترتیبی، بکھرا پن، میلے پردے ۔۔۔۔ یہ سب کچھ کھا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے آپ نے پیدائش سے آج تک اپنے آس پاس بے ترتیبی ہی دیکھی ہو لیکن ایک مرتبہ چیزیں ٹھیک کر کے تو دیکھیں ۔۔۔۔ اندر سب کچھ درست کرنے کی پہلی سیڑھی آس پاس وہ چیزیں ٹھیک کرنا ہے جنہیں آپ اگنور کر رہے ہیں۔

اور اس ’ٹھیک کرنے‘ کا نام سلیقہ مندی ہے۔ یہی سلیقہ آپ کو مہذب بناتا ہے، نصف ایمان پورا کرتا ہے اور یہ نہ ہو تو وہ بے حسی اور ڈپریشن پیدا ہوتا ہے جس نے اس وقت ہم سب کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے۔

اور یہ سب امیری کا محتاج نہیں ہے، دولت سلیقہ مندی کو چار چاند ضرور لگا سکتی ہے لیکن اسے پیدا کبھی نہیں کر سکتی۔

سلیقہ کردار ہے، تربیت ہے، شعور ہے، خاموش احترام ہے، اس جگہ کے لیے جہاں ہم رہتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو ہمارے ساتھ رہتے ہیں۔ یہ مہنگا نہیں ہے بابا، یہ تو ایک جھاڑو، ایک ڈسٹ بن، ایک استری، ایک بالٹی، سفید چونا اور کام کرنے والوں کے سر پہ کھڑا ہونا مانگتا ہے ۔۔۔ پھر چاہے وہ گھر ہو یا دفتر!

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ