قبائلی اضلاع کے روایتی اور قدامت پسند معاشرے میں صحافت جیسے دشوار اور غیر روایتی پیشے میں خواتین کی موجودگی ہمیشہ ایک استثنا رہی ہے۔
ایسے ہی ماحول میں کام کرنے والی خاتون صحافی خالدہ نیاز، جو پہلے مشال ریڈیو اور وائس آف امریکہ پشتو سے وابستہ رہیں اور ان نشریات کی بندش کے بعد اب آزاد صحافت کر رہی ہیں، کہتی ہیں کہ سابق فاٹا میں خواتین صحافیوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی۔
ان کے مطابق انضمام سے پہلے اس خطے میں خواتین کا میڈیا سے جڑنا چند گنی چنی مثالوں تک محدود تھا، جہاں سماجی دباؤ، محدود مواقع اور سکیورٹی خدشات نے اس شعبے کو ان کے لیے مزید دشوار بنا دیا تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ 2018 کے انضمام کے بعد اگرچہ صورت حال یکسر تبدیل نہیں ہوئی، تاہم اب خواتین کسی نہ کسی شکل میں صحافت اور سماجی بیانیے کا حصہ بن رہی ہیں، جو ایک اہم مگر ابتدائی تبدیلی ہے۔
خالدہ نیاز کی یہ گواہی اُس بڑے سوال کا ایک پہلو ہے جو 2018 میں قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد سے مسلسل اٹھ رہا ہے: کیا اس آئینی تبدیلی نے واقعی قبائلی صحافت کو وہ آزادی، تحفظ اور سہولتیں دیں جن کی توقع کی جا رہی تھی، یا یہ تبدیلی محض کاغذ تک محدود رہی؟
انضمام کے آٹھ برس بعد بھی اس سوال کا جواب سادہ نہیں۔
انضمام سے پہلے
انضمام سے قبل سابقہ فاٹا میں آئینِ پاکستان مکمل طور پر نافذ نہیں تھا۔ یہاں 1901 میں انگریز دور کا بنایا گیا فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) نافذ تھا، نہ کوئی واضح پریس قوانین موجود تھے اور نہ ہی معلومات تک رسائی کا کوئی باقاعدہ نظام۔
صحافی زیادہ تر ذاتی اور قبائلی روابط پر انحصار کرنے پر مجبور تھے۔
ریسرچ گیٹ پر قبائلی اضلاع سے متعلق شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق ان علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ جسمانی تحفظ تھا۔ قتل، اغوا، تشدد، دھمکیوں اور جبری نقل مکانی کے واقعات مسلسل رپورٹ ہوتے رہے۔
مختلف تحقیقی مطالعات کے مطابق جنگِ دہشت گردی کے ابتدائی برسوں میں متعدد صحافی قتل، اغوا، گرفتاری، تشدد یا دھمکیوں کا نشانہ بنے، جبکہ بہت سے صحافیوں کو اپنا پیشہ یا آبائی علاقے چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
مہمند سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی شاہ نواز ترکزئی، جو اب فری لانس یا آزاد صحافت کر رہے ہیں، اسی دور کو بیان کرتے ہوئے فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہیں۔
ان رپورٹوں کے مطابق سابق فاٹا میں صحافت کا ادارہ جاتی ڈھانچہ نہایت کمزور تھا۔ پورے خطے میں چند ہی پریس کلب موجود تھے، جن میں سے بیشتر کرائے کی عمارتوں میں قائم تھے اور بنیادی سہولتوں سے محروم تھے۔ زیادہ تر رپورٹرز سٹرنگر کے طور پر کام کرتے تھے، نہ مستقل روزگار، نہ بیمہ اور نہ ہی قانونی معاونت۔
شاہ نواز ترکزئی کا کہنا ہے کہ فاٹا انضمام سے پہلے اور بعد، اس خطے کی صحافت کو درپیش چیلنجز میں کوئی خاص کمی نہیں آئی۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی صحافیوں کو مختلف ریاستی اداروں اور عسکریت پسندوں کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا تھا، اور آج بھی صورت حال تقریباً ویسی ہی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وہ بتاتے ہیں کہ 2017 میں انہیں ریاستی اداروں نے حراست میں لیا، جہاں وہ چند دن زیرِ حراست رہے اور ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔
اس کے علاوہ انضمام کے بعد بھی انہیں عسکریت پسندوں کی جانب سے فون کالز کے ذریعے جان سے مارنے اور اہلِ خانہ کو نقصان پہنچانے کی متعدد دھمکیاں موصول ہوئیں۔ ان کے بقول ان ہی حالات کی بنا پر وہ سمجھتے ہیں کہ انضمام کے بعد بھی صحافیوں کے لیے حالات میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی۔
اسی غیر محفوظ ماحول میں فرنٹ لائن رپورٹنگ کرتے ہوئے قبائلی اضلاع کے سولہ سے زائد صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
یہ اموات نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ہوئیں، جو اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں کہ قبائلی علاقوں میں صحافت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ جان لیوا ذمہ داری تھی۔
انضمام کے بعد: آئینی شناخت مگر نامکمل تحفظ
2018 میں 25ویں آئینی ترمیم کے تحت فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام اس اندھیرے میں امید کی کرن سمجھا گیا۔ اس ترمیم میں صحافیوں یا میڈیا کی آزادی کے بارے میں کوئی مخصوص شق یا براہِ راست وعدہ شامل نہیں تھا۔
اس کا بنیادی مقصد فاٹا کو پاکستان کے آئینی، قانونی اور انتظامی دھارے میں لانا اور وہاں کے شہریوں کو وہی بنیادی حقوق دینا تھا جو ملک کے دیگر شہریوں کو حاصل ہیں، اور اسی کے تحت صحافیوں کو بھی اظہارِ رائے، معلومات تک رسائی اور قانونی تحفظ کے وہی حقوق میسر آئے جو ملک کے دیگر حصوں میں دستیاب ہیں۔
انضمام سے پہلے نافذ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن کو 25ویں ترمیم کے ذریعے ختم کر دیا گیا، جس کے بعد قبائلی صحافی پہلی مرتبہ مکمل آئینی دائرہ کار میں آئے۔
آرٹیکل 19، 19-اے اور 10-اے کے تحت اظہارِ رائے، معلومات تک رسائی اور منصفانہ ٹرائل جیسے بنیادی حقوق ان تک توسیع پا گئے جبکہ خیبر پختونخوا رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کا اطلاق بھی قبائلی اضلاع تک ہوا۔
باجوڑ سے تعلق رکھنے والے آزاد صحافی شاہ خالد شاہ کے مطابق ماضی میں پولیٹیکل ایجنٹ کسی بھی صحافی کو من گھڑت مقدمے میں گرفتار کر سکتا تھا، جبکہ اب صحافی بھی دیگر شہریوں کی طرح عدالت اور وکیل تک رسائی رکھتے ہیں۔
ان کے بقول انضمام کے بعد صوبائی سطح پر پریس انفارمیشن کارڈز کا اجرا بھی ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے قبائلی صحافیوں کو باضابطہ شناخت ملی۔
سرکاری ادارے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کی ویب سائٹ پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا کے محکمہ اطلاعات نے 2020 سے 2026 تک قبائلی اضلاع میں مجموعی طور پر 109 صحافیوں کو پریس یا ایکریڈیٹیشن کارڈ جاری کیے۔
جن میں مہمند سے 20، باجوڑ اور خیبر سے 33، 33، کرم سے چھ، اورکزئی سے تین اور وزیرستان سے 14 صحافی شامل ہیں۔
تاہم آئینی شناخت اور انتظامی پیش رفت کے باوجود زمینی صورت حال میں خطرات برقرار رہے۔
رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کے مطابق انضمام کے بعد بھی کم از کم دو صحافیوں کے قتل کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں مختلف چینلز کے لیے کام کرنے والے کامران داور اور ایک نجی ادارے سے منسلک خلیل جبران شامل ہیں۔
ادارہ جاتی صورت حال
قبائلی اضلاع میں پریس کلب انضمام سے پہلے بھی موجود تھے۔ اس وقت فاٹا میں تقریباً دس فعال پریس کلب کام کر رہے ہیں، جو باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں قائم ہیں۔
حال ہی میں لوئر مہمند کی تحصیل یکہ غنڈ میں ایک نیا پریس کلب بھی قائم ہوا ہے، جبکہ ضلع خیبر میں باڑہ، جمرود اور لنڈی کوتل میں تین پریس کلب موجود ہیں جو اس ضلع کی جغرافیائی وسعت اور صحافتی ضروریات کی عکاسی کرتے ہیں۔
انضمام نے براہِ راست ان پریس کلبوں کے قیام کی اجازت نہیں دی، کیونکہ کئی قبائلی اضلاع میں یہ پہلے سے موجود تھے۔
تاہم 25ویں ترمیم کے نتیجے میں ایف سی آر کے خاتمے، آئینی حقوق کے نفاذ اور عدالتی نگرانی کے باعث ایسا قانونی اور انتظامی ماحول پیدا ہوا جس میں صحافتی تنظیموں اور پریس کلبوں کی سرگرمیوں کو نسبتاً زیادہ تحفظ اور جواز حاصل ہوا۔
خیبر یونین آف جرنلسٹس اور دستیاب ریکارڈ کے مطابق سابقہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے رجسٹرڈ یا منسلک صحافیوں کی تعداد 300 سے زائد بتائی جاتی ہے۔
تاہم ان تمام صحافیوں کے پاس فعال سرکاری پریس کارڈ ہونا ضروری نہیں، کیونکہ انضمام کے بعد صحافیوں کی رجسٹریشن، ڈیٹا اور پریس کارڈز کا نظام خیبر پختونخوا کے مرکزی فریم ورک میں منتقل ہو چکا ہے۔
اسی منتقلی کے باعث متعدد قبائلی صحافی آج بھی انتظامی تاخیر، ڈیٹا کے عدم تسلسل اور شناخت کے مسائل سے دوچار ہیں، جس کا براہِ راست اثر ان کی پیشہ ورانہ سکیورٹی اور اداروں تک رسائی پر پڑتا ہے۔
خواتین کی شمولیت
خالدہ نیاز جس ابتدائی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہیں، اس کی ایک مثال ڈی ڈبلیو کے لیے پشاور اور خیبر پختونخوا سے رپورٹنگ کرنے والی صحافی فاطمہ نازش ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ فاٹا انضمام سے پہلے ان کا اس خطے سے زیادہ تعلق یا آنا جانا نہیں تھا، تاہم انہوں نے انضمام کے عمل کو کور کیا اور بعد ازاں مختلف قبائلی اضلاع میں رپورٹنگ کے لیے جانا پڑا۔
وہ بتاتی ہیں کہ ظاہری طور پر مسائل موجود ہیں، مقامی ثقافت میں خود کو ڈھالنا آسان نہیں، ثقافتی رکاوٹیں موجود ہیں اور بعض رسم و رواج ایسے ہیں جنہیں مدنظر رکھ کر کام کرنا پڑتا ہے۔
ان کے مطابق اس کے باوجود مقامی سطح پر انہیں خاصی معاونت ملی، مقامی لوگوں نے ان کا احترام کیا اور انہیں کوئی ایسا مسئلہ پیش نہیں آیا جس سے ان کی صحافتی یا ذاتی زندگی متاثر ہوئی ہو۔
نئے چیلنجز: خطرات کی نوعیت میں تبدیلی
اگرچہ خطے میں شدت پسندی میں کمی آئی ہے، تاہم فریڈم نیٹ ورک کے مطابق صحافیوں کو درپیش خطرات اب صرف قبائلی اضلاع تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کی نوعیت بدل چکی ہے۔
فریڈم نیٹ ورک کی 2025 کی امپیونٹی رپورٹ کے مطابق گذشتہ دو برسوں میں پاکستان بھر میں کم از کم 16 میڈیا ورکرز مارے گئے ہوئے، جبکہ صرف نو ماہ کے دوران صحافیوں کے خلاف حملوں، دھمکیوں اور ہراسانی کے 142 واقعات رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق اب صحافیوں کو دبانے کے لیے بندوق کے بجائے قوانین، مقدمات اور ہراسانی کا سہارا لیا جا رہا ہے، اور خاص طور پر پیکا (پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ) اور پاکستان پینل کوڈ کے تحت درج کیے جانے والے مقدمات اسی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔
قبائلی اضلاع میں بھی کم و بیش یہی صورت حال دکھائی دیتی ہے۔ شاہ نواز ترکزئی کے مطابق بعض علاقوں میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی سہولتوں کی عدم دستیابی رپورٹنگ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
باجوڑ سے تعلق رکھنے والے صحافی نور محمد بنوری کہتے ہیں کہ جب وہ فاٹا سے خبریں اپنے اداروں کو بھیجتے ہیں تو اکثر نشر یا شائع نہیں کی جاتیں۔
ان کے بقول فاٹا کے عوام کی آوازیں بھی مؤثر انداز میں نہیں سنی جاتیں اور انہیں مین سٹریم میڈیا میں وہ جگہ اور اہمیت نہیں ملتی جس کے وہ حق دار ہیں۔
نور محمد کا کہنا ہے کہ پچھلے چند ماہ کے دوران انہوں نے اپنے ادارے کو متعدد خبریں بھیجیں، تاہم ان میں سے بیشتر شائع یا نشر نہیں کی گئیں۔
راستہ بدلا، منزل ابھی دور
قبائلی علاقوں میں صحافت کا منظرنامہ یقیناً بدلا ہے۔ آئینی حقوق ملے، قانونی راستے کھلے اور اداروں تک رسائی بہتر ہوئی، مگر صحافیوں کا تحفظ، معاشی استحکام اور ادارہ جاتی معاونت اب بھی سنگین چیلنج ہیں۔
فاٹا انضمام نے صحافت کے سفر کا رخ ضرور بدلا ہے، مگر منزل اب بھی دور ہے۔
