’پکڑ دھکڑ نہیں ہو گی‘: خیبرپختونخوا میں ریڑھی بانوں کے تحفظ کا قانون

ریڑھی بانوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت نے ’احساس ریڑھی بان لائیولی ہوڈ پروٹیکشن ایکٹ‘ کے نام سے قانون کی منظوری دی ہے۔

پاکستان کے مختلف بازاروں، گلیوں اور سڑکوں پر آپ نے مختلف اشیا فروخت کرنے والے ریڑھی بانوں کو ضرور دیکھا ہوگا اور یہ بھی دیکھا ہو گا کہ بعض اوقات ان ریڑھی بانوں کی پکڑ دھکڑ اور حتیٰ کہ ان کے سامان کو زمین پر پھینک دیا جاتا ہے۔

ایسا عام طور پر ریڑھی بانوں کا کسی غیر قانونی جگہ پر ریڑھی لگانے کے باعث ہوتا ہے جو تجاوزات کے زمرے میں آتا ہے۔

تاہم اسی مسئلے کو حل کرنے اور ریڑھی بانوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت نے ’احساس ریڑھی بان لائیولی ہوڈ پروٹیکشن ایکٹ‘ کے نام سے قانون کی منظوری دی ہے۔

اس قانون کے مقاصد میں لکھا گیا ہے کہ ریڑھی بان مقامی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں مگر انہیں مختلف جگہوں میں بے دخلی اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ریڑھی بانوں کے الگ زون کا تعین

اس قانون کے تحت تحصیل اور صوبائی وینڈنگ کمیٹی بنائی جائے گی جو مختلف تحصیلوں میں ریڑھی بانوں کے لیے ایک خاص جگہ مختص کرے گی جہاں لوگوں کے لیے تمام بنیادی ضروریات بھی یقینی بنائی جائیں گی۔

یہ کمیٹیاں مختلف تحصیلوں میں قانون کے مطابق پہلے ریڑھی بانوں کا سروے کر کے ڈیٹا اکٹھا کریں گی اور ان کو ایک فیس ادا کرنے کے بعد باقاعدہ رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ جاری کیا جائے گا جو دو سال کے لیے ہوگا اور اس کے بعد دو سال کے لیے اس کی تجدید ہوگی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس قانون کے پہلے سال سرٹیفیکیٹ کی فیس نہیں ہوگی اور سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے بعد قانون کے مطابق ریڑھی بانوں کو ایک خاص زون میں سٹال دیا جائے گا جہاں وہ چیزیں بیچ سکتے ہیں۔

بغیر کسی وجہ کے نئے قانون کے مطابق کسی بھی سرکاری اہلکار کو اجازت نہیں ہوگی کہ وہ سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے والے ریڑھی بان کا سامان ضبط کرے اور اگر کسی ریڑھی بان کے ساتھ زیادتی ہوئی تو وہ متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو درخواست جمع کروا سکتا ہے جس پر 14 دن کے اندر عمل کیا جائے گا۔

صوبے میں کتنے ریڑھی بان موجود ہیں؟

صوبائی حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد ریڑھی بان موجود ہیں جس سے سالانہ 380 ارب روپے آمدنی حاصل ہوتی ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق فی ریڑھی بان سالانہ نو لاکھ سے زائد آمدنی پیدا کرتا ہے جس سے ان کے گھر کا چولہا جلتا ہے۔

تاہم نئے قانون کے مقاصد میں لکھا گیا ہے کہ معیشت کا اتنا اہم جز دھارے میں نہیں ہے جس سے ریڑھی بانوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

قانون کے مطابق صوبائی حکومت ریڑھی بانوں سے روزانہ کی بنیاد پر 50 سے 100 روپے اگر وصول کرے، تو اس سے صوبائی حکومت کو پانچ ارب روپے تک آمدنی مل سکتی ہے جبکہ اس سے ریڑھی بانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

ریڑھی بان کیا کہتے ہیں؟

نئے قانون کے حوالے سے ایک طرف اگر ریڑھی بان خوش ہیں تو ان کا یہ بھی کہنا ہیں کہ رجسٹریشن فیس جتنا کم ہو تو بہتر ہوگا، تاکہ ریڑھی بانوں پر بوجھ نہ بن سکے۔

محمد وسیم پشاور کے صدر میں ریڑھی لگاتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ رجسٹریشن فیس دینے کو تیار ہیں مگر حکومت یہ ضمانت دے کہ ہمیں تنگ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ابھی بھی کوئی دکان کے سامنے ریڑھی لگاتا ہے، تو دکاندار ان سے باقاعدہ فیس وصول کرتے ہیں تو یہی ہم حکومت کو دے سکتے ہیں لیکن اگر ہمارا تحفظ یقینی بنایا جائے۔‘

پشاور کے نوتھیہ بازار میں ریڑھی لگانے والے محمد داؤد کا کہنا ہے کہ آئے روز مختلف دفاتر کے لوگ آکر ’ہمیں تنگ کرتے ہیں لیکن اس قانون سے امید ہے کہ مسائل حل ہوں گے‘۔

محمد داؤد کہتے ہیں کہ ’صرف حکومت سے درخواست ہے کہ رجسٹریشن فیس جتنا کم رکھ سکتے ہیں تو بہتر ہوگا کیونکہ زیادہ فیس کی وجہ سے ریڑھی بانوں پر بوجھ بڑھے گا۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت