سنگاپور: سونے کی نِب والا فائنٹین پین لاکھوں ڈالر میں کیوں نیلام ہوا؟

یہ سٹرلنگ سلور مونٹ بلانک میئسٹرسٹک نمبر 146 ہے، جو 1950 کی دہائی کا ایک لگژری پسٹن فلنگ فاؤنٹین پین ہے۔

یہ قلم سنگاپور کے نیلام گھر ہاٹلوٹز کی جانب سے منعقد کی گئی آن لائن نیلامی میں فروخت کیا گیا (ہاٹلوٹز)

سنگاپور میں ہونے والی نیلامی میں ایک سِلور مونٹ بلانک فاؤنٹین پین461,500  سنگاپورین ڈالر میں فروخت ہوا ہے۔

یہ قلم اپنی قبل از نیلامی مقرر کردہ زیادہ سے زیادہ قیمت سے نو گنا سے بھی زیادہ رقم میں فروخت ہوا۔

اس فاؤنٹین پین کے لیے دنیا بھر سے آن لائن نیلامی میں 111 بولیاں موصول ہوئیں۔ یہ قلم کبھی سنگاپور کے بانی وزیرِاعظم لی کوان یو کی ملکیت تھا۔

یہ سٹرلنگ سلور مونٹ بلانک میئسٹرسٹک نمبر 146 ہے، جو 1950 کی دہائی کا ایک لگژری پسٹن فلنگ فاؤنٹین پین ہے۔

قلم پر “SM Lee Kuan Yew” کندہ ہے جبکہ اس میں زرد رنگ کی دھاتی تفصیلات اور 18 قیراط سونے کی نب موجود ہے۔

یہ قلم سنگاپور کے نیلام گھر ہاٹلوٹز کی جانب سے منعقد کی گئی “Interiors & Collectibles – August, Fine Art Focus” آن لائن نیلامی میں فروخت کیا گیا۔

قلم کی قیمت کا ابتدائی تخمینہ 30 ہزار سنگاپورین ڈالر سے50 ہزار سنگاپورین  ڈالر لگایا گیا تھا، جبکہ نیلامی کا آغاز20 ہزار سنگاپورین ڈالرز سے ہوا۔

لی کوان یو نے 1959 سے 1990 تک سنگاپور کے پہلے وزیرِاعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور انہیں جدید سنگاپور کی تعمیر کا معمار سمجھا جاتا ہے۔

اس کے بعد وہ 2004 تک سینیئر وزیر رہے، جبکہ اگست 2004 سے مئی 2011 تک سنگاپور کے پہلے منسٹر مینٹور کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ وہ 2015 میں اپنی وفات تک پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ قلم اس سے قبل جولائی 2003 میں ہونے والی Lee Kuan Yew Family Collection کی چیریٹی نیلامی میں فروخت کیا گیا تھا، جب ان کے ذاتی سامان کو خیراتی مقاصد کے لیے نیلام کیا گیا تھا۔

2003  میں لی کوان یو سے منسوب ایک اور فاؤنٹین پین، سیاہ واٹرمین، جسے انہوں نے 1957 کے آئینی معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے استعمال کیا تھا، تین لاکھ 50 ہزار سنگاپورین ڈالرز میں فروخت ہوا تھا۔

اس معاہدے نے سنگاپور کو اندرونی خودمختاری حاصل کرنے میں مدد دی تھی۔ اس قلم کی قیمت تقریباً S$10,000 لگائی گئی تھی، جبکہ اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم خیرات کے لیے دی گئی تھی۔

نیلامی میں سنگاپور کے معروف فنکاروں کے فن پارے بھی فروخت ہوئے، جہاں سنگاپور کے فنکارچوا میا تی کے لیے ایک نیا ریکارڈ قائم ہوا، جو رواں سال جولائی میں انتقال کر گئے تھے۔

ان کی 1976 کی پینٹنگ ’سنگاپور چائنا ٹاؤن، ٹیمپل سٹیٹ‘ خریدار کی اضافی فیس سمیت 107,900 سنگاپورین ڈالرز میں فروخت ہوئی۔ اس کے لیے 58 بولیاں موصول ہوئیں۔

اس فروخت نے ان کے سابقہ ریکارڈ 97,600 سنگاپورین ڈالرز کو توڑ دیا، جو 2023 میں ان کے 2003 کے فن پارے ’پراسپیریٹی‘ کی فروخت پر قائم ہوا تھا۔ 97,600 سنگاپورین ڈالر کی رقم کی تصدیق 33 Auction کے ریکارڈ سے بھی ہوتی ہے۔

سنگاپور کے معروف ماہرِ ظروف اور کلچرل میڈیلین حاصل کرنے والے ڈاکٹر اسکندر جلیل کا ایک گلدان بھی 12,350 سنگاپورین ڈالر میں فروخت ہوا، جس میں خریدار کی اضافی فیس شامل تھی۔

یہ قیمت اس کی قبل از نیلامی مقرر کردہ زیادہ سے زیادہ قیمت 4,000 سنگاپورین ڈالر سے تین گنا سے بھی زیادہ تھی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی آرٹ