اسلام آباد میں 15 اکتوبر تک رینجرز کی تعیناتی میں توسیع کی درخواست

درخواست ایسے وقت میں کی گئی ہے جب حکام پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مارچ سے قبل دارالحکومت اور اس کے اطراف میں سکیورٹی سخت رکھے ہوئے ہیں۔ 

 اسلام آباد کے ریڈ زون میں سرینا ہوٹل کے قریب 21 اپریل، 2026 کو سڑک پر نیم فوجی رینجرز کے اہلکار گشت کر رہے ہیں(اے ایف پی/فائل)

حکام نے دارالحکومت اسلام آباد میں تین ہزار پیرا ملٹری رینجرز کی تعیناتی 15 اکتوبر تک بڑھانے کی درخواست کی ہے۔ یہ بات ہفتے کو سامنے آنے والے سرکاری دستاویزات سے پتہ چلی۔

درخواست ایسے وقت میں کی گئی ہے جب حکام پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مارچ سے قبل دارالحکومت اور اس کے اطراف میں سکیورٹی سخت رکھے ہوئے ہیں۔ 

پی ٹی آئی نے اتوار کو خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کرنا ہے۔ 

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

لانگ مارچ کے اعلان کی وجہ سے حکام نے اسلام آباد کے اہم راستوں کو بند کرنے کے لیے مال بردار کنٹینرز کھڑے کیے ہوئے ہیں، جس کے باعث ٹرانسپورٹرز مال برداری کی نقل و حرکت میں رکاوٹوں کی شکایات کر رہے ہیں۔

اسلام آباد کے چیف کمشنر کے دفتر نے یکم اکتوبر کو وزارت داخلہ کو لکھے گئے خط میں کہا ’درخواست ہے کہ متعلقہ حکام سے فوری طور پر رجوع کیا جائے اور درخواست کی جائے کہ کمانڈ سمیت اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری پولیس کے لیے پاکستان رینجرز کے تین ہزار اہلکاروں کی فراہمی کی مدت پانچ اکتوبر 2026 سے بڑھا کر 15 اکتوبر 2026 تک کر دی جائے۔‘

دستاویزات کے مطابق یہ خط اسلام آباد پولیس کی جانب سے اسی روز کی گئی درخواست کے بعد بھیجا گیا۔

پولیس نے اس سے قبل آٹھ ستمبر کو ایک درخواست میں 20 ستمبر سے پانچ اکتوبر تک تین ہزار رینجرز اہلکار طلب کیے تھے تاکہ ’اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں متوقع امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر موجودہ وسائل کو مضبوط کیا جا سکے۔‘

تازہ درخواست کے تحت دارالحکومت میں پیرا ملٹری فورس کی تعیناتی سابقہ مدت سے مزید 10 روز تک جاری رہے گی۔

دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان آج دوسرے دن بھی لانگ مارچ ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں مارچ چار اکتوبر کو روانہ ہوگا۔

پارٹی نے 27 ستمبر کو ہونے والا احتجاج اس وقت مؤخر کر دیا تھا جب حکام نے اسلام آباد کی جانب جانے والے راستے بند کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اہلکار تعینات کر دیے تھے۔

مارچ کے حوالے سے سکیورٹی خدشات پر پاکستان کی فوجی قیادت نے بھی خبردار کیا ہے۔

فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی زیر صدارت جمعے کو ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس میں ’اندرونی استحکام کی اہمیت‘ پر زور دیا گیا اور نو مئی، 2023 کو پاکستان میں ہونے والی بدامنی کی صورت حال دوبارہ پیدا ہونے کے خلاف خبردار کیا گیا۔

نو مئی کو ہونے والی بدامنی عمران خان کی اسلام آباد میں مختصر گرفتاری کے بعد شروع ہوئی تھی، جس کے دوران مظاہرین نے فوجی تنصیبات اور ریاستی عمارتوں پر حملے کیے تھے۔ 

عمران خان نے تشدد پر اکسانے کے الزامات کی تردید کی تھی جبکہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق، ’کسی بھی بہانے سے اشتعال انگیزی یا نو مئی جیسی صورت حال پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش سے فیصلہ کن طاقت اور قانون کی حکمرانی کے تحت بلا جھجھک اور بلا امتیاز نمٹا جائے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست