ایس آئی ایف سی کو کاروبار میں آسانی کے لیے اصلاحات کی ذمہ داری مل گئی

ایس آئی ایف سی کے مطابق نظامی رکاوٹوں کے باعث مطلوبہ اصلاحات پر عمل درآمد میں سست رفتاری کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف 24 مئی، 2026 کو ہانگژو میں منعقد ہونے والی پاکستان – چین بزنس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں (وزیراعظم ہاؤس/ایکس)

رکاوٹوں سے پاک ماحول کی فوری ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کو ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ اپنے منفرد ہال آف گورنمنٹ اپروچ کو بروئے کار لاتے ہوئے ساختی اصلاحات کی قیادت کرے۔

اسلام آباد میں ایس آئی ایف سی کی جانب سے جعمرات کو جاری ایک بیان کے مطابق اگرچہ بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) نے ابتدائی طور پر ریگولیٹری گلوٹین کا فریم ورک متعارف کرایا تھا، تاہم نظامی رکاوٹوں کے باعث مطلوبہ اصلاحات پر عمل درآمد کی رفتار سست رہی جس کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا گیا۔

ایس آئی ایف سی جون 2023 میں قائم کی گئی تھی جو ایک سول فوجی ہائبرڈ باڈی ہے۔

یہ پاکستان میں غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاری کو فروغ دینے، معیشت کو بحال کرنے اور اہم شعبوں میں فیصلے جلد کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ 

اس کے بنیادی مقاصد خلیجی ممالک اور دیگر دوست ممالک سے سرمایہ کاری لانا، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات، توانائی اور دفاعی پیداوار پر توجہ دینا اور ون ونڈو آپریشن کے ذریعے سرمایہ کاروں کو ایک ہی چھت کے نیچے تمام اجازت نامے اور سہولیات فراہم کرنا تھا۔

ضابطہ جاتی اصلاحات اور ریگولیٹری گلوٹین ملکی و غیر ملکی کاروباری اداروں کے لیے کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے اہم ذرائع ہیں۔

یہ اقدامات ان سرخ فیتوں، پیچیدہ لائسنسنگ اور غیر ضروری بیوروکریٹک رکاوٹوں کا براہ راست تدارک کرتے ہیں جنہوں نے پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں کی ترقی کو تاریخی طور پر محدود کیے رکھا ہے۔

بیان کے مطابق فرسودہ تعمیلی تقاضوں اور غیر ضروری کاغذی کارروائی کا منظم جائزہ لے کر انہیں آسان بنانے یا مکمل طور پر ختم کرنے کے ذریعے یہ اصلاحات کاروباری اداروں کے لیے آپریشنل لاگت اور کاروبار شروع کرنے میں حائل رکاوٹوں کو نمایاں طور پر کم کریں گی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایس آئی ایف سی کی زیر نگرانی ان اصلاحات کی رفتار میں نمایاں تیزی آئی ہے۔

ایس آئی ایف سی نے مسلسل کوششوں کے ذریعے ان اصلاحات پر عمل درآمد کو تیز کیا ہے، بین الادارہ جاتی رابطہ کاری کو یقینی بنایا ہے اور مطلوبہ معاشی اثرات کے حصول کے لیے اصلاحات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کا کہنا ہے کہ اس نئی رفتار کے نتیجے میں پاکستان کی عالمی اور ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک مسابقتی اور پرکشش منزل کے طور پر حقیقی صلاحیت کو بروئے کار لانے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔

تاہم پاکستان میں حزب اختلاف کی ایک بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اس کی کارکردگی پر سوالات ماضی میں اٹھائے تھے۔

اس کا کہنا تھا کہ ایس آئی ایف سی کے تمام وعدے اور منصوبے پاورپوائنٹ سلائیڈز اور شاندار تقاریر تک محدود رہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری کے باعث گذشتہ چند برسوں میں سرمایہ کاری کے متعدد تعطل کا شکار منصوبوں میں پیش رفت ممکن ہوئی۔

اس کا اصرار ہے کہ جیٹ گرین ایئر لائن، 5G سپیکٹرم، معدنیات، زراعت، لائیو سٹاک اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں اہم پیش رفت اس کی وجہ سے سامنے آئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت