حکومتی یقین دہانی کے بعد گڈز ٹرانسپورٹز کی ہڑتال ختم

گڈز ٹرانسپورٹر کے مطابق حکومت نے روزانہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تبدیلی کے حوالے سے 15 دن کا وقت لیا ہے۔۔

چار جنوری، 2024 کو خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں ٹرکوں کا قافلہ دیکھا جا سکتا ہے (پی ڈی ایم اے)

پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے اتوار کو حکومت سے مذاکرات کے بعد نو روز سے جاری ہڑتال ختم کرتے ہوئے گاڑیاں چلانے کا اعلان کر دیا۔

حکومتی نمائندوں اور ایوسی ایشن کے درمیان آج کراچی میں مذاکرات ہوئے جس میں حکومتی وزرا کے تعاون کی یقین دہانی کے بعد ٹرانسپورٹز نے اپنی ہڑتال 45 روز کے لیے موخر کر دی۔

مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ انہیں سب سے پہلے پاکستان کا مفاد مقدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ نو روز سے پورے پاکستان کا پہیہ رکا ہوا تھا کیوں کہ ٹرانسپورٹرز کو وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مختلف شکایات تھیں۔

انہوں نے خاص طور پر وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کا شکریہ ادا کیا ’جنہوں نے ٹرانسپورٹرز کا مؤقف سنا اور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔‘

پاکستانی گڈز ٹرانسپورٹرز نے حکومت کی جانب سے ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کے فیصلے کے خلاف گذشتہ ہفتے ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔

ٹرانسپورٹرز نے ٹول ٹیکس میں تبدیلی اور ایکسل لوڈ مینیجمنٹ سے متعلق موجودہ قواعد پر سختی سے عمل درآمد کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

آج ہونے والا اجلاس حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا تیسرا دور تھا۔

مذاکرات کے بعد ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز گذشتہ دسمبر میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث اس بار تحریری یقین دہانی چاہتے تھے۔

جنگی صورت حال میں روزانہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تبدیلی کا معاملہ بھی ہڑتال کی بڑی وجہ بنا۔

انہوں نے بتایا حکومت نے روزانہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تبدیلی کا فیصلہ واپس لینے کے لیے 15 دن کا وقت لیا ہے، جبکہ بعض ایسے معاملات جن کے لیے کابینہ کی منظوری درکار ہے، ان پر 15  سے 20 دن میں پیش رفت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

ان کے مطابق ودہولڈنگ ٹیکس کے معاملے پر کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور وفاقی وزیر مواصلات نے اس معاملے پر وزیر خزانہ سے بات کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ٹین وہیلر گاڑیوں کے ویٹ کے معاملے پر بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملک شہزاد اعوان کے مطابق پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے ٹرک پارکنگ کے لیے زمین کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ ایکسل لوڈ کے معاملے پر قانون کے مطابق اوور لوڈنگ کنٹرول کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کچھ مسائل فوری طور پر حل کردیے گئے ہیں جبکہ دیگر معاملات پر حکومت اور ٹرانسپورٹرز کی کمیٹیوں کے درمیان اجلاس جاری رہیں گے۔

ملک شہزاد اعوان نے کہا ہماری 50 رکنی کمیٹی نے ہڑتال کی کال دی تھی اور مشاورت کے بعد ملک کے وسیع تر مفاد میں ہڑتال موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا ’ٹرانسپورٹرز آج سے گاڑیاں چلائیں اور امید ہے وفاقی اور صوبائی حکومتیں کیے گئے وعدے پورے کریں گی۔‘

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وعدوں پر عمل درآمد نہ ہوا تو ٹرانسپورٹرز اپنے آئینی حق کے تحت دوبارہ پُرامن احتجاج ریکارڈ کرا سکتے ہیں۔

اس موقعے پر گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا دونوں فریقوں نے فراخ دلی سے ایک دوسرے کے مؤقف کو تسلیم کیا اور اس بات پر متفق ہیں کہ قوم کے لیے ساتھ دینے کو تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غیر معمولی صورت حال ہے اور وزیراعظم ملک کی بہتری کے لیے دن رات کوشش کر رہے ہیں۔

مذاکرات میں وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، گورنر سندھ نہال ہاشمی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چیئرمین، سیکریٹری مواصلات اور دیگر حکام شریک ہوئے۔

پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ بھی مذاکرات میں شریک تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت