پاکستان کی مدینہ میں بجلی تنصیب پر حوثی حملے کی شدید مذمت

وزارت خارجہ نے کہا: ’مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے شہری بنیادی ڈھانچے پر یہ قابلِ مذمت حملہ ایک سنگین اشتعال انگیزی ہے، جس پر دنیا بھر کے مسلمانوں کو گہری تشویش اور دکھ ہے۔‘

29 مارچ 2026 کی اس تصویر میں اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی عمارت کا بیرونی منظر دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)

پاکستان نے حوثیوں کی جانب سے مدینہ میں طیبہ بجلی کی تقسیم کے مرکز پر حملے کی جمعے کو شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’سنگین اشتعال انگیزی‘ قرار دیا ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج کے مطابق 29 ستمبر 2026 کو صبح 5 بج کر 11 منٹ پر مدینہ منورہ میں طیبہ گرڈ سٹیشن کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں حوثی ملیشیا کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جمعے کو جاری بیان میں کہا گیا کہ ’مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے شہری بنیادی ڈھانچے پر یہ قابلِ مذمت حملہ ایک سنگین اشتعال انگیزی ہے، جس پر دنیا بھر کے مسلمانوں کو گہری تشویش اور دکھ ہے۔‘

پاکستان نے کہا کہ ’حرمین شریفین کا تقدس اور نمازیوں و زائرین کی سلامتی ہر حال میں یقینی بنائی جانی چاہیے۔‘

بیان میں اس قسم کے ’غیر ذمہ دارانہ اقدامات فوری اور غیر مشروط طور پر روکنے‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’یہ حملے علاقائی امن و سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔‘

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

یمن میں سرگرم حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب پر متعدد ڈرون اور بیلسٹک/کروز میزائل حملے کیے ہیں، جن کا بنیادی ہدف جنوبی اور مغربی شہروں کے ساتھ ساتھ تیل کی تنصیبات تھیں۔

ابتدائی حملوں میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کو نشانہ بنایا گیا، جہاں سعودی حکام کے مطابق 73 شہری (بشمول خواتین و بچے) زخمی ہوئے اور توانائی کی سہولیات میں آگ لگ گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 بعد میں ینبع میں واقع آرامکو تنصیبات، خمیس مشیط ایئر بیس اور دیگر مقامات پر بار بار حملے ہوئے۔

جمعرات کی شب جاری سعودی اتحادی افواج کے ترجمان کی جانب سے ایکس پر جاری کیے گئے ایک نوٹس میں بتایا کہ ’متعلقہ حکام کی تحقیقات، دستیاب شواہد اور حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون کے ملبے کے تجزیے سے حملے کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں حوثی ملیشیا کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی۔‘

 اتحادی افواج کے مطابق حملے کے نتیجے میں بجلی کا ایک ٹرانسفارمر عارضی طور پر غیر فعال ہوا، تاہم مجموعی طور پر بجلی کی ترسیل اور نیٹ ورک متاثر نہیں ہوا۔

ترجمان نے کہا کہ مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والی شہری تنصیب کو نشانہ بنانا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی حوثی ملیشیا کی کوششوں کا تسلسل ہے۔

ترجمان نے اسے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو دانستہ طور پر مجروح کرنے والی اشتعال انگیز کارروائی قرار دیا۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

اتحادی افواج نے کہا کہ حوثی ملیشیا کو روکنے، حرمین شریفین کے تحفظ اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ میں زائرین کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

رواں برس فروری میں امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملے اور تہران کی جوابی کارروائیوں سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، جس کی لپیٹ میں متعدد ممالک آئے ہیں۔

حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ بحیرہ احمر میں جہازوں پر حملے شروع کیے اور یمن کے مغربی ساحل پر تیزی سے پیش قدمی کر کے مخا بندرگاہ اور باب المندب آبنائے کے قریب جزائر پر قبضہ کر لیا۔

 ستمبر کے حملے اسی تناظر میں ہوئے، جنہیں حوثی سعودی فضائی کارروائیوں کا جواب قرار دیتے ہیں، جبکہ سعودی عرب انہیں اپنی خودمختاری اور تیل کی تنصیبات پر حملہ سمجھتا ہے۔

یہ صورت حال عالمی تیل کی سپلائی اور خطے کی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان