حکومت سے مذاکرات ناکام، گڈز ٹرانسپورٹ کی آج سے ملک گیر ہڑتال

پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن نے آٹھ اگست سے غیر معینہ مدت تک ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے، جو ایسوسی ایشن کے مطابق مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گی۔

5 جولائی 2012 کو کراچی کے ایک ٹرمینل پر کھڑے کنٹینر ٹرک (اے ایف پی)

پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد آج (آٹھ اگست) سے غیر معینہ مدت تک ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے، جو ایسوسی ایشن کے مطابق مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گی۔

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹر اونرز ایسوسی ایشن کے صدر اویس چوہدری کے مطابق ایسوسی ایشن کے بنیادی مطالبات کچھ یہ ہیں:

۔ 10 ویلر گاڑیوں کو 35 ٹن وزن کی اجازت دی جائے۔

۔ ڈیزل کی قیمتوں اور ٹول ٹیکس میں فوری ریلیف دیا جائے۔

۔ ناجائز چالان، بھاری جرمانوں اور گاڑیاں ضبط کرنے والے قوانین میں تبدیلی کی جائے۔

۔ وِد ہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی جائے اور ڈرائیورز کو ہیوی لائسنس جاری کیے جائیں۔

اویس چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ ’جب تک ہمارے جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، ملک بھر میں مال بردار گاڑیاں سڑکوں پر نہیں چلیں گی۔‘

میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے مزید کہا: ’کراچی سے 8 تاریخ کی ہڑتال کی کال ہم نے ہی دی ہے۔ تمام ٹرانسپورٹرز کی حمایت حاصل کرنے کا مقصد یہی ہے کہ پورے پاکستان کے گڈز ٹرانسپورٹرز ایک ہی پلیٹ فارم پر متحد ہو کر اپنے حقوق کی جنگ لڑیں۔ اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو ملک بھر میں مکمل پہیہ جام ہڑتال ہوگی۔‘

پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر اویس چوہدری نے چار اگست کو انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں میں ڈیزل کی روزانہ اور مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کو بھی فوری طور پر روکنے اور وفاقی وزیر برائے پٹرولیم کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا: ’روزانہ کی بجائے ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ماہانہ بنیاد پر کیا جائے، ٹول ٹیکس میں بھی کمی کی جائے اور وفاقی وزیر برائے پٹرولیم کی جانب سے استعفیٰ دیا جائے۔‘

وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مارکیٹ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث جولائی 2026 سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین پندرہ روزہ یا ہفتہ وار کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے باعث روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں کمی بیشی سامنے آتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گڈز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق تنظیم نے حکومت کے سامنے چھ مطالبات رکھے ہیں، جن میں ڈیزل کی قیمت میں فوری کمی، پٹرولیم مصنوعات پر عائد مختلف ٹیکسوں میں کمی، گڈز ٹرانسپورٹرز پر عائد سات فیصد ودہولڈنگ ٹیکس ختم کر کے دو فیصد ٹرن اوور ٹیکس نافذ کرنا، ایکسل لوڈ سے متعلق قوانین پر نظرثانی، کسٹمز قوانین میں ترمیم اور گڈز ڈرائیوروں سے متعلق ایچ ٹی وی لائسنس کے اجرا کا عمل آسان بنانا شامل ہیں۔

ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت فوری طور پر کم کی جائے تاکہ بڑھتے ہوئے ایندھن کے اخراجات میں کمی آ سکے۔ اس کے علاوہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں میں بھی کمی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

تنظیم نے ایکسل لوڈ کے قوانین کو یکساں اور قابل عمل بنانے، اوورلوڈنگ کے خاتمے کے لیے مؤثر قانون سازی اور کسٹمز قوانین میں فوری اصلاحات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق گڈز ٹرانسپورٹ کا شعبہ ملکی معیشت کے لیے اہم ہے، تاہم موجودہ معاشی حالات میں بڑھتے ہوئے اخراجات اور حکومتی پالیسیوں کے باعث اس شعبے کو مشکلات کا سامنا ہے۔

ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے مطالبات پر عمل درآمد نہ کیا تو 8 اگست سے شروع ہونے والی ملک گیر ہڑتال مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان