میرے تے شک کردا اے ۔۔۔ پہلے پیار کرنے والوں کے گلے شکوے یہاں تک ہوتے تھے۔
ہم لوگ جوان ہوئے تو ایک لفظ سنا ’ٹاکسک ریلیشن شپ‘ اس میں ہر قسم کی چیزیں کور ہو جاتی تھی، اللہ اللہ خیر صلا۔
اب جو میں دیکھتا ہوں تو رحم آتا ہے کہ ہمارے بچے کیسے پیار کریں گے، کیسے نبھائیں گے، شادیاں ہوں گی تو ان کے بعد آگے کیسے گزرے گی ۔۔۔ اب پیار محبت کی ڈکشنری اتنی زیادہ پھیل گئی ہے کہ عشق عاشقی نفسیاتی مسائل کا بس ایک نام دکھائی دیتا ہے۔
اب یہ رشتے انسٹاگرام سے شروع ہو کے واپس وہیں پہ ختم ہو جاتے ہیں اور خود انسٹا ایسا ظالم ہے کہ باقاعدہ اُس کے چیزے لیتا ہے، دکھ میں ہیں تو ایسی ریلز دکھائے گا کہ آپ پاگل ہونے لگیں گے، آپ شک کر رہے ہیں تو اس کے لیے الگ کہانیاں پیش کرے گا، غصے میں ہیں تو وہ سب کچھ دکھائے گا جس میں تھیٹریکل پرفارمنسز آپ کا کتھارسس کر رہی ہوں گی ۔۔۔ مطلب آپ کا پیار محبت اس ایک ڈبے کے اندر سے نکلے گا، پھلے پھولے گا اور واپس وہیں پہ دفن ہو جائے گا ۔۔۔ یہ کیا زندگی ہوئی بابا؟
یاد رکھیں کہ انسان کا موڈ اب بھی اتنا ہی رومینٹک ہے جتنا ہیر رانجھا کے زمانوں میں ہوتا تھا، وہ اسے خود اپنی پریزنٹیشن سے تباہ کر لیتا ہے۔ اب کا انسان بہت زیادہ عقلمند ہے، وہ اپنی تمام سوچوں کو نام دے سکتا ہے، اپنی الجھنوں کو لفظوں میں بیان کر سکتا ہے، محبت کرنے والے کے رویوں کو ہارمونز کی روشنی میں چھان سکتا ہے، بلکہ پچاس فلٹرز ایسے پیدا کرتا ہے جس میں سے گزر گزر کے ایک نارمل صحت مند عشق عاشقی جو اپنے تمام را میٹریل کے ساتھ آتی ہے، بالکل پتلی پانی ہو کے بالاخر ختم ہو جاتی ہے۔ ہر بار ایسا ہوتا ہے لیکن وہ غریب سمجھ نہیں پاتا کہ ہوا کیا ہے ۔۔۔ اکو الف تیرے درکار!
ہم لوگ پسند کرتے تھے کہ ہمیں خواب دکھائے جائیں، اب لو بومبنگ کا ٹُھڈا پڑ جائے گا ایسا کرنے والے کو، ارے بھائی، کچھ دیر رہ لو اس نشے میں، کیوں اینالائز کرنا ہے؟ کیوں آنا ہے حقیقت کی دنیا میں؟
باؤنڈریز، گیس لائٹنگ، ایموشنل لیبر، بریڈ کرمبنگ، قدم قدم پہ ہر چیز کو ریڈ فلیگ سمجھ کے الجھنا چھوڑ کے اگر ہم صرف یہ سوچیں کہ یار سامنے والے بندے یا بندی کا کلینیکل ڈائگنوسس نہیں کرنا اور کچھ لمحے اچھے گزار کے دیکھ لینے ہیں تو اس میں کیا حرج ہے؟
انسان کوئی مریض یا ڈیفیکٹڈ پیس نہیں ہوتا، وہ اپنی ہر اچھائی اور تمام تر برائیوں کے ساتھ پہلے بھی پیار محبت کرتا تھا، اب بھی کرتا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اب ہم لوگ اتنے زیادہ علم کے بوجھ سے دب چکے ہیں کہ ہر چیز کا نفسیاتی تجزیہ کر کے اس کی جڑ مار دیتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یاد رکھیں، کوئی بھی کسی مریض سے پیار نہیں کرنا چاہتا، سالم آدمی، نارمل عورت، ہلکی پھلکی بات چیت، کسی باغ میں ٹہل لینا، لائبریری میں جا کے مل لینا، کہیں دہی بڑے کھا لینا، یہ سب بہت آسان تھا ۔۔۔ اب تو آپ ملتے بعد میں ہیں اور پیکج آپ کو پہلے لوڈ کرا دیا جاتا ہے کہ بھائی مجھ میں یہ یہ یہ نفسیاتی مسئلہ ہے، میری پچھلی زندگی ایسی تھی، موجودہ والی میں یہ مسائل ہیں، یہ دوائیاں میں نے روز کھانی ہیں ۔۔۔ کیا ہے یہ سب؟
سب اچھے ہوتے ہیں، سب برے ہوتے ہیں، سب دوائیں کھاتے ہیں، سب کے دماغ کا اپنا اپنا پرزہ ڈھیلا ہوتا ہے، اسے سنبھال کے رکھو بابا اور زندگی جیو، کیا کرتے ہو؟
خیر، آخری بات بس یاد رکھیں کہ سچ نہ بولیں، کم از کم اتنا کر لیں، خود کو آپ جس طرح کا سمجھتے ہیں، وہ سب دوسرے بندے کو نہ بتائیں، اسے پرکھنے دیں، اسے سمجھنے دیں، وہ طے کرے کہ آپ کون ہیں، کیسے ہیں، وہ سوچ پائے گا تو آپ کا رشتہ چھ ماہ یا ایک سال نکال بھی لے گا، آپ ہر چیز اپنی سٹوریوں اور ریلز میں لگاتے جائیں گے تو اس کے پاس بچے گا کیا آپ کے بارے میں سوچنے کے لیے؟
میں کیوں چاہوں گا کہ میں ایک ایسے انسان سے رشتے میں بندھ جاؤں جسے خود اپنے اندر اتنی ساری پیچیدگیاں نظر آتی ہیں ۔۔۔ خدا جانے اصل میں کتنی ہوں گی!
جنرل انٹرسٹ کا کونٹینٹ بنائیں، اپنے اندر کوشش کر کے باقاعدہ ان لرننگ اور اگنور کرنے کی صلاحیت پیدا کریں اور ایک اچھی زندگی گزاریں ۔۔۔ اتنی سہولتیں ہیں یار آپ لوگوں کو اور اتنے لانجھے پال لیے ہیں کہ دیکھ کے واللہ دکھ ہوتا ہے!
مولا صبر دے اور سب کے انسٹاگرامی مسئلے حل کرے، بہت دعا!
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔